مسلم پرسنل لاء بورڈ کا دہشت گردی کے الزامات پر یوگی کے وزیر محسن رضا کو جواب




لکھنؤ: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے یوگی حکومت میں اقلیتی امور اور حج و اوقاف کے وزیر مملکت محسن رضا کے ذریعہ اٹھائے گئے سوال کا جواب دیا ہے۔ بورڈ کے سینئر ممبر مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے محسن رضا کے بیان سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں صحافیوں سے کہا، ’’مسلم پرسنل لا بورڈ بھی سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ایک ادارہ ہے۔ بورڈ نے اس اجلاس سے قبل ایجنڈا بھی جاری کیا اور بابری مسجد کا مقدمہ کسی ایک تنظیم یا فرد کے سامنے نہیں، بلکہ سپریم کورٹ میں لڑا جا راہ ہے۔‘‘

انہوں نے کہا ، ’’سوال اٹھانے والوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ ملک میں آئین اور قانون موجود ہے۔ سب کو اس کے بارے میں معلومات ہونی چاہئے۔ اگر کوئی واقف نہیں ہے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے۔‘‘

محسن رضا کا نام لئے بغیر فرنگی محلی نے کہا ، ’’انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ پرسنل لا بورڈ میں وہ لوگ شامل ہیں جن کے آبا و اجداد نے ملک کی آزادی پر سب کچھ قربان کیا ہے۔ بورڈ نے کبھی بھی ملک کے خلاف کوئی اپیل نہیں کی اور نہ ہی کوئی کام کیا ہے۔ بورڈ ملک کے آئین کے دائرے میں رہ کر کام کر رہا ہے۔‘‘

معلوم ہو گا کہ یوگی حکومت میں وزیر مملکت محسن رضا نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے اجلاس سے قبل سوالات اٹھائے تھے۔ انہوں نے کہا تھا ، ’’ ایسے وقت میں جب رام مندر پر ایک بہت بڑا فیصلہ آنے والا ہے، اسی وقت ایک غیر آئینی غیر سرکاری تنظیم، جو ملک کے خلاف بول رہی ہے، ہمیشہ دہشت گردی کی حمایت میں کیوں رہتی ہے، اس کا اجلاس کیوں منعقد ہو رہا ہے۔ ‘‘

محسن رضا نے مزید کہا ، ’’ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی فنڈنگ کون کر رہا ہے، اسے اس کا جواب دینا پڑے گا۔ چھ ماہ کے وقفے میں حیدرآباد کے بعد لکھنؤ میں بورڈ کی میٹنگ کیوں ہو رہی ہے! اس کی کیا وجہ ہے اور اس میں شامل افراد کا اس کے پیچھے ایجنڈا کیا ہے!‘‘

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *