موتیہاری: ( فضل المبین ) مصلح قوم ، مینارہ تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خاں کے یوم پیدائش پر آج ضلع کے ہیڈ کوارٹر موتیہاری میں “سر سید ڈے” کا انعقاد اولڈ بوائز ایسوسی ایشن مشرقی چمپا رن کے زیر اہتمام کیا گیا ۔ اس موقع پر تقریب کے مہمان خصوصی سینئر علیگ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بتیا صغیر عالم نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج وقت تعلیم کی اہمیت پر غور کرنے کا وقت نہیں ہے ، آج دنیا چاند اور مریخ کی نئی مہم پر گامزن ہے۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ: اگر آپ تعلیم کی اہمیت کے بارے میں روایتی تقریر کرکے وقت ضائع کرتے ہیں تو پھر آپ کو تعلیم کب ملے گی؟ انہوں نے کہا کہ دنیا کی کوئی بھی چیز مستقل نہیں ، صرف مستقل ہے تو تبدیلی ۔ لہذا ہمیں وقت کی مانگ کے مطابق بدلنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ: ہندوستان میں ترقی کے بہترین مواقع ۔ اس ملک میں ہندوؤں کا احسان ہے کہ: ہم انکے ذریعہ قائم کیے اداروں میں تعلیم حاصل کر آگے بڑھ رہے ہیں ۔
وہیں مہمان اعزازی ڈاکٹر شکیل احمد معین نے کہا کہ آج وقت یہ نہیں ہے کہ ہم فرقوں اور گروہوں میں تقسیم ہوجائیں بلکہ منظم کرکے کچھ بہتر کریں اور فعال متحرک لوگوں کو آگے بڑھائیں ۔سیر سید احمد خان کے سب کو ساتھ لے جانے کے جذبے سے تحریک شروع ہوئی لوگوں کے تنقیدوں کو نظر انداز کرکے اپنے کام کو آگے بڑھایا ۔ لیکن آج ہم متحرک اور ہاں لوگوں پر تنقید کرتے ہیں ۔ہمارے آپسی گٹبندی نتیجہ ہے کہ ہماری نسلیں پنگچر بنا رہی ہے ، سڑک کے کنارے ٹوپی پہن کر چکن کاٹ رہی ہے اور ہوٹلوں میں برتن صاف کررہا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ: ہمیں آپسی اختلافات کو ختم کرکے تعلیمی میدان میں ایک انقلاب برپا کرنا ہے اور آنے والی نسلوں کی راہیں ہموار کرنی ہے ۔
وہیں بہار یونیورسٹی مظفرپور شعبہ اردو کے سابق پروفیسر فاروق احمد صدیقی نے کہا کہ: تاریخ کی ورق گردانی کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ: سر سید نے اسلامی تعلیم کو نمایہ کرنے کی کوشش ہے ۔ جس کے نتیجے میں آج بھی علی گڑھ کے اندر دینی تعلیم سے متعلق کئی شعبے ہیں۔ انہوں نے سر سید کے کامیابی کا راز بتاتے ہوئے کہا کہ: سر سید نے اتنے بڑے کامیابی کو خلوص کے ذریعہ حاصل کیا ۔ اور مخالفت ، تنقید کو بالائے طاق رکھ کر اپنے مشن کو جاری رکھا جس کے 1875 میں مدرستہ العلوم کا قیام عمل میں آیا ۔ انہوں نے کہا کہ: سر سید نے ہمیشہ نماز کی اہمیت پر زور دیا ۔
جبکہ ایسوسی ایشن کے سابق سیکریٹری مشہور شاعر گلریز شہزاد نے کہا کہ: سر سید کے پیرو کار محض چربزانی کے ساتھ اپنا کام کررہے ہیں ۔میدانی عمل میں انکا کارنامہ صفر ہے ، ضروری ہے کہ علیگ برادری کے لوگ جہاں ہوں وہیں میدان میں اتر کر سرسید کا قرض ادا کریں اور انکے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کریں ۔
اس موقع پر ایم ایس کالج موتیہاری کے شعبہ اردو کے ایچ او ڈی پروفیسر اقبال حسین نے اظہار تشکر پیش کیا ۔
موقع پر موجود سید ویلفیئر سوسائٹی کے صدر محب الحق خاں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا اُنہوں نے کہا کہ: آنے والے دنوں میں ہم غریب بچوں کو پڑھائی کا پختہ انتظام کریں گے اور بچوں کو گود لے کر انکے خوابوں کو پورا کرینگے ۔ سرسید ڈے کی تقریب کے موقع پر اسکول کے بچوں اور بچیوں کے مابین سرسید احمد خان کی شخصیت اور اظہار تشکر پر تقریری مقابلے کا انعقاد کیا گیا ۔ جسمیں منہاج عالم ۔ اقراء پبلک اسکول ، حنظلہ فریدی ۔ اقراء انٹر نیشنل اسکول ، فائزہ انور ۔ الحمد پبلک اسکول ۔ عرفات عالم ۔ ( انگلش ) تھینکر کلاسز نے حصہ لیا ۔ جسمیں حنظلہ فریدی کو اول مقام حاصل ہونے پر اعزاز سے نوازا گیا
پروگرام کا باضابطہ آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا ۔ جبکہ ابن محب الحق خان کے ذریعہ نعت رسول کا گلدستہ پیش کیا گیا ۔ وہیں اجلاس کی صدارت ضلع کے مشہور کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر محمد تبریز عالم نے کیا جب کہ نظامت کے فرائض کو ایسوسی ایشن کے سکریٹری سید ساجد حسین نے ادا کیا ۔ جبکہ سرسید ڈے کی تقریب کا اختتام مشہور علی گڑھ ترانہ کے ساتھ ہوا ، جسے الحمد پبلک اسکول کے طالبات کے ذریعہ پیش کیا گیا ۔
اس موقع پر کیپٹن عبد الحمید ، وصیل احمد خان ، صحافی عزیر انجم ، صحافی انتظار الحق ، ڈاکٹر جمال اختر ، ڈاکٹر ثابت حسن ، ڈاکٹر فروز عالم ، طارق انور چمپارنی ، صبا اختر شوخ ، ناصر وسیم کوثر ، ڈاکٹر قاسم انصاری ، ماؤنٹ سینا کے ڈائریکٹر انیس الرحمن ، قاری ارشد ، عزیر سالم ، انور کمال سمیت اے ایم یو اولڈ بوائز ایسوسی ایشن مشرقی چمپارن کے ممبروں کے علاوہ شہر کے دانشوروں اور عام لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔

Leave a Reply