کملیش تیواری قتل معاملہ میں سات افراد گرفتار، ماں نے بی جے پی واردات کیلئے ذمہ دار ٹھہرایا




نئی دہلی: (ایم این این) ہندو مہاسبھا کے رہنما کملیش تیواری کے قتل معاملے میں بڑا انکشاف سامنے آیا ہے۔ کملیش تیواری کے قتل کا تعلق سورت سے ہے۔ اور کملیش تیواری کے قتل معاملے میں گجرات اے ٹی ایس نے سات افراد کو گرفتار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ‘کملیش تیواری کے قتل کی سازش دبئی میں رچی گئی تھی۔ سازش کرنے کے بعد، ایک شخص دو ماہ قبل دبئی سے کملیش تیواری کو مارنے کے لئے بھارت آیا تھا۔ یہ پستول کملیش تیواری کے قتل کے لئے سورت سے خریدا گیا تھا۔ اور وہیں سے مٹھائیاں بھی خریدی گئیں۔’جمعہ کے دن ہندو مہاسبھا کے رہنما کملیش تیواری کو دن دہاڑے گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔آپ کو بتا دیں کہ اس معاملے پرگجرات اے ٹی ایس نے سورت سے سات افراد کو گرفتار کیا ہے۔ گجرات اے ٹی ایس یوپی پولیس، ایس آئی ٹی سے مستقل رابطے میں ہے۔کملیش تیواری کے قتل کے بعد، ان کے کمرے سے سورت کی مشہور مٹھائی کا ایک ڈبہ ملا تھا۔ ملزم اس ڈبے میں اسلحہ لے کر آیا تھا۔ بتایا جارہا ہے کہ یہ مٹھائی سورت کی دھرتی فوڈ اینڈ سویٹ کی دکان سے خریدی گئی تھی۔پولیس کے مطابق کملیش تیواری کے قتل معاملے میں دو افراد کے نام سامنے آئے ہیں۔ ان ناموں میں سے ایک کا نام فرید الدین پٹھان عرف معین الدین شیخ ہے۔ جبکہ دوسرے شخص کا نام اشفاق شیخ ہے۔ یہ وہ دو افراد ہیں جنہیں قتل کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا ہے۔پولیس کے مطابق انہوں نے سورت میں مٹھائیاں اور چاقو خریدے تھے اور اس قتل کو انجام دینے کے لئے یوپی گئے تھے۔ اس کے علاوہ احمد آباد، بھروچ اور سورت سے بھی کچھ دوسرے افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ واضح رہے کہ 2015 میں ہندو مہاسبھا رہنما کملیش تیواری نے پیغمبر اسلام حضرت محمد کے خلاف متنازعہ بیان دیا تھا۔ اس وقت اس معاملے پر کافی ہنگامہ برپا ہوا تھا، جس کے بعد کملیش تیواری کو متنازعہ بیان دینے پر گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ فی الحال ضمانت پر تھا۔الہ آباد ہائی کورٹ کے لکھنؤ بینچ نے حال ہی میں کملیش تیواری سے متعلق قومی سلامتی ایکٹ (راسوکا) کو ہٹا دیا تھا۔
دوسری طرف کملیش تیواری کی ماں کا کہنا ہے کہ میرے بیٹے کے قتل میں بی جے پی ملوث ہے، اسی پارٹی نے میرے بیٹے کا قتل کرایا ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *