ندوہ انتظامیہ کے خلاف بے بنیاد الزامات کا سلسلہ جاری، اہل علم نے کی مولانا سلمان ندوی کے رویہ کی مذمت




(لکھنو سے ملت ٹائمز کے خصوصی نمائندہ کی رپورٹ)

گزشتہ کئی روز سے عالم اسلام کید عظیم دانش گاہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں وہاں کے ایک استاد مولانا سلمان حسینی ندوی کے ذریعے شروع کیے گئے ہنگامے کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ گزشتہ پیر کو مولانا نے ندوہ پہنچ کر طلبہ کو انتظامیہ کی اجازت کے بغیر جمع کرکے ان کے سامنے ایک گھنٹے کے تقریر کی تھی، اس تقریر میں اپنے کام گنائے تھے اور ندوہ کے سینیر اساتذہ کا مزاق بھی اڑایا تھا، جن میں مولانا نذرالحفیظ ندوی ازہری اور مولانا شمس الحق ندوی بھی شامل تھے، جو ان کے بھی استاد ہیں. ساتھ ہی اس تقریر میں شیعی عقائد کا کھلے عام اعلان کرکے امیرالمؤمنین حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی بھی توہین کی تھی اور طلبہ کو انتظامیہ کے خلاف بھڑکایا تھا، یہ بھڑکاؤ تقریر سن کر طلبہ کے ذریعے ناظم ندوۃ العلماء حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی جیسی بزرگ ہستی کا گھیراؤ کرکے دھرنا بھی دلایا تھا، جس کے بعد دنیا کے تمام اہل علم نے مولانا سلمان صاحب سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا اور ان کے رویے کی مذمت کی تھی۔
اس پورے معاملے کے لیے ہمارے خصوصی نمائندے نے حالات کا جائزہ لیا اور بتایا کہ اس دوران ندوہ انتظامیہ کے خلاف افواہیں پھیلانے کا بھی سلسلہ جاری ہے۔
ایک بات مولانا سلمان صاحب کی طرف سے بار بار کہی جارہی تھی کہ ناظم ندوۃ العلماء مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی قید ہیں، پوری طرح صاحب فراش ہیں اور کسی کو ان سے ملنے نہیں دیا جارہا ہے، لیکن گزشتہ دنوں مولانا رابع حسنی ندوی صاحب نے طلبہ کے سامنے تقریر کرکے ان تمام باتوں کو غلط ثابت کر دیا۔
اسی طرح نائب ناظم ندوۃ العلماء مولانا سید محمد حمزہ حسنی ندوی کے متعلق کہا جا رہا ہے وہ مولانا رابع صاحب پر زبردستی اپنی باتیں تھونپ رہے ہیں اور انھیں ڈرا دھمکا کر من مانی کرا رہے ہیں. ہمارے خصوصی نمائندے نے اس سلسلے میں ندوہ کے اندر متعدد لوگوں سے معلوم کیا تو سب نے اس پر لاعلمی کا اظہار کیا اور اس الزام کا سختی سے رد کیا، ندوہ کے کسی ایک استاد، طالب علم یا ملازم نے بھی اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اسے مولانا حمزہ حسنی نے ان سے کبھی سخت بات کی ہو۔
اسی طرح دارالعلوم ندوۃ العلماء کے استاد اور آل انڈیا تحریک پیام انسانیت کے جنرل سکریٹری مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی کے بارے میں یہ افواہ پھیلائی جا رہی تھی کہ انھوں نے ندوہ کے نئے معتمد تعلیم اور عالمی شہرت یافتہ محدث مولانا ڈاکٹر تقی الدین ندوی کے دفتر کے لیے کمرے کا انتظام نہیں ہونے دیا، جس پر مولانا تقی الدین ندوی نے ناراض ہوکر کہا کہ”مولوی بلال نے تو اب تک دفتر ہی ہمارے حوالہ نہیں کیا، ” اس افواہ کے عام ہونے پر مولانا تقی الدین صاحب سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اپنا آڈیو بیان جاری کیا اور کہا کہ یہ سب سراسر جھوٹ ہے. ندوہ میں میرا اپنا دفتر ہے، میں اسی میں بیٹھتا ہوں اور میں نے حضرت ناظم ندوہ سے صاف کہا ہے کہ آپ موجودہ ہنگامے میں جو فیصلہ فرما دیں گے ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔
ملت ٹائمز کے خصوصی نمائندے نے مسئلے کے حل کے لیے سنجیدہ اہل علم اور ندوہ کے متعدد اساتذہ کی رائے معلوم کی تو تقریباً سب ہی نے کہا کہ مولانا سلمان صاحب کی علاحدگی سے یہ سارا انتشار ختم ہوسکتا ہے. اس کے علاوہ کوئی اور مستقل حل نہیں ہے۔
ملت ٹائمز اس پورے معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *