قاری مشتاق احمد رحمۃ اللہ علیہ حضرت مولانا محمد احمد پرتابگڈھی رحمۃ اللہ علیہ کے جانشین اور قوم وملت کے ہمدرد عالم دین تھے : مولانا محمد شاہد ناصری
ممبئی: (پریس ریلیز) گذشتہ دنوں ملک کی معروف شخصیت، حضرت مولانا محمد احمد پرتابگڈھی رحمۃ اللہ علیہ کے جانشین اور تجوید و قرآت کی قدیم اور مشہور درسگاہ مدرسہ عالیہ عرفانیہ لکھنؤ کے بانی و مہتمم قاری مشتاق احمد پرتابگڈھی رحمۃ اللہ علیہ کا طویل علالت کے بعد انتقال ہوگیا، اس موقع پر دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ان کے شاگردوں، متوسلین و معتقدین نے ایصال ثواب کا اہتمام کرکے انہیں خراج عقیدت پیش کی، وہیں اس موقع پور حضرت مولانا شاہ محمد احمد پرتابگڈھی رحمۃ اللہ علیہ کے تربیت یافتہ اور ادارہ دعوۃ السنہ مہاراشٹرا کے بانی وصدر مولانا محمد شاہد ناصری نے ادارہ دعوۃ السنہ مہاراشٹرا کے زیر اہتمام ایک تعزیتی اجلاس منعقد کیا جس میں قاری مشتاق احمد پرتابگڈھی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں اور دیگر اہل علم و فن موجود تھے، تعزیتی اجلاس کی صدارت مولانا محمد شاہد ناصری نے کی جب کہ تعزیتی اجلاس کا آغاز قاری مشتاق احمد رحمہ اللہ کے شاگرد خاص قاری بدرعالم کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا،قاری رفعت اللہ نے بارگاہ رسالت میں نذرانہ عقیدت پیش کیا، اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد شاہد ناصری نے کہا کہ قاری مشتاق احمد پرتابگڈھی رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں تھی، وہ صرف ایک فرد نہیں تھے بلکہ وہ اپنے آپ میں ایک انجمن تھے، قرآن مجید سے بے پناہ محبت تھی، اور یہی وجہ ہے کہ پوری زندگی قرآن کی خدمت میں گذار دی، قاری صاحب بہت ہی بارعب انسان تھے، کبھی کسی سے مرعوب نہیں ہوتے تھے، اللہ نے انہیں بہت ساری خوبیوں سے نوازا تھا اور ان تمام خوبیوں میں خدمت قرآن کی خوبی سب پر فائق تھی، اگر دیکھا جائے تو تو قاری صاحب دبنگ عالم تھے، طلبہ کے ساتھ انتہائی شفقت اور نرمی کا معاملہ کرتے، غریب اور مستحق طلبہ کی خاموشی سے اپنے جیب خاص سے امداد فرماتے، ہونہار طلبہ کا خصوصی خیال رکھتے اور فراغت کے بعد بھی ان کی خبر گیری کرتے رہتے، اس موقع پر بصیرت آن لائن کے چیف ایڈیٹر غفران ساجد قاسمی نے کہا کہ اسے میں اپنی حرماں نصیبی سمجھتا ہوں کہ میری کبھی بالمشافہ ملاقات نہیں ہوئی لیکن جتنا اپنے احباب سے سنا یہ سمجھا کہ قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ قوم وملت کے ہمدرد اور بالخصوص مدارس دینیہ کے بہی خواہ تھے، ایسا بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے کہ کوئی مہتمم کسی مدرسے کی مدد کرتا ہے لیکن یہ قاری صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا خصوصی وصف تھا کہ وہ ہندوستان کے مختلف دینی مدارس کا مالی تعاون کرتے تھے، آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں تو ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کے لیے مغفرت کی دعا کریں اور ایصال ثواب کا اہتمام کریں، اس نشست میں ممبئی کے اہل علم کثیر تعداد میں موجود تھے جن میں مدرسہ صوت القرآن گوونڈی کے مہتمم قاری سیف الباری، احسن المعارف نالا سوپارہ کے مہتمم مولانا ممتاز عالم قاسمی، مولانا افتخار عالم ندوی، حافظ شجرالہدی گوونڈی ،مولانا احمد حسین قاسمی دارالعلوم اسعدیہ نالا سوپارہ ،ذاکر حسین گوونڈی کے علاوہ ادارہ دعوۃ السنہ مہاراشٹرا کے ناظم مولانا محفوظ الرحمٰن قاسمی، مولانا حسن جان، حافظ عبدالمنان وغیرہ موجود تھے، دعا سے پہلے ناظم دعوۃ السنہ مولانا محفوظ الرحمٰن قاسمی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا، آخر میں مولانا شاہد ناصری کی دعا پر اجلاس اختتام کو پہونچا.

Leave a Reply