بابری مسجد کا فیصلہ آنے سے قبل مسلم مجلس مشاورت کی میٹنگ، سپریم کورٹ کا فیصلہ قبول کرنے کی اپیل 




دہلی: (ایم این این) بابری مسجد اور ایودھیا ملکیت معاملے میں عدالت عظمی کے فیصلہ سے قبل آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت نے آج جمعیۃ علماء ہند کے دفتر میں مسلم رہنماؤں کی ایک میٹنگ طلب کی جس میں مولانا ارشد مدنی، انجینئر سعادت اللہ حسینی. مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی وغیرہ نے شرکت کی جبکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء. آل انڈیا ملی کونسل اور مولانا محمد مدنی کی جمعیت کی نمائندگی اس میٹنگ میں نظر نہیں آئی.

پریس ریلیز کے مطابق مسلم جماعتوں کے اجلاس میں پوری توجہ امن و امان کو برقرار رکھنے پر دی گئی اور کہا گیا کہ جو بھی فیصلہ آئے گا وہ ہمیں منظور ہوگا.

میٹنگ کے بعد تمام شرکاء کے دستخط کے ساتھ میڈیا میں ایک تجویز بھی جاری گئی ہے جس میں بابری مسجد کی بازیابی اور اس کی تعمیر نو کا کوئی ذکر نہیں ہے، نہ بابری مسجد کے حوالے سے مسلمانوں کے موقف کا تذکرہ ہے جو کہ مسلم جماعتوں کے کلیدی مطالبات میں شامل رہے ہیں. تجویز میں پوری توجہ امن و امان کو برقرار رکھنے پر مرکوز کئی گئی ہے اور تمام ہندوستانیوں سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ فیصلہ جس شکل میں بھی آئے وہ قبول کریں. امن وامان برقرار رکھیں.

میٹنگ کے داعی اور مشاورت کے صدر نوید حامد نے بتایا کہ ابھی ہم کسی نتیجہ تک نہیں پہنچے ہیں لیکن یہ بات اہم ہے کہ عدالت کا جو بھی فیصلہ آئے گا اس کا احترام کیا جائے گا۔

میٹنگ میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی، جمعیۃ اہل حدیث کے امیر مولانا اصغر علی مہدی سلفی، قومی اقلیتی کمیشن کے سابق سربراہ وجاہت حبیب اللہ، سابق رکن پارلیمنٹ شاہد صدیقی، پروفیسر اختر الواسع سمیت کئی اہم لوگ موجود تھے۔

اس میٹنگ میں مسلم ارکان پارلیمنٹ کو بھی مدعو کیا گیا تھا مگر کوئی بھی شامل نہیں ہو پائے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *