موتیہاری سے ملت ٹائمز کے نمائندہ فضل المبین کی رپوٹ
موتیہاری: این ڈی ٹی وی کے مینیجنگ ایڈیٹر ملک کے نامور صحافی ریمنمیگسے سے ایوارڈ سے سرفراز رویش کمار اپنے آبائی شہر سرزمین چمپارن کے اریراج دیو اجالا ہو ٹل میں جنرلسٹ ویلفیئر سوسائٹی واریراج صحافی پریوار کے زیر اہتمامصحافیوں پر مشتمل استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا جسمیں انہیں چمپارن کے صحافیوں کی جانب سے بھی مومنٹو دے کر نوازا گیا ۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ: یوپی اور بہار کے نوجوانوں کو اگلی تین پیڑھی پیچھے ڈھکیلنے کے لئے دو مدعا پھینکا گیا ہے،ایک دفعہ 370اوردوسرارام مندر اس مدعا میں الجھ کر دو قومیں بغیر سونچے سمجھے آپس میں میں نفرت پالتے رہیں اور اصل مدعا سے بٹھکے رہیں نوبت یہاں تک پہنچے کہ ایک ہندو کے و پڑوسی اسلم میاں کو اسوقت تک ہندوستانی نہیں مانا جائے گا جب تک اس کا نام نیشنل رجسٹر میں درج نہ ہو جناب کمار نے کہا کہ ہم گاندھی کے قرضدار ہیں جب انگریزوں نے ہمارے پیٹھ کو گرم توے سے سینک دیا تھا ایسے نازک وقت میں ہمارے چمپارن میں میں گوڈسے اور ساورکر نہیں آیے تھے بلکہ وہی لاٹھی لیے ہوئے گاندھی،پیرمحمدمونس اور راج کمار شکل آیے تھے انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گوڈسے اور ساورکر نے ملک کی آزادی میں کوئی رول ادا نہیں کیا ہےبلکہ انہوں نے صاف کہا کہ جس دن ہم سب نے اپنے اندر سے گا ندھی کو گنوادی اس دن پھر سے ہم غلام ہو جاءینگے،جناب کمار نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب صحافی ہونا بہت مشکل ہے جو صحافی بچ گئے ہیں ان کی عزرائیل سے سافٹ ویئر خرید کر فون ٹیپ کر جاسوسی کرایا جارہا ہے انہوں نے موجود مرکزی سرکار کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم صحافی ان کی جاسوسی کرنے لگے تو صرف ان کے خزانے میں غریبوں اور مزدوروں کا خون ملیگا،رویش کمار نے ملک کے وزیراعظم نریندرمودی کا نام لیکر کہا کہ وہ کبھی ایجوکیشن پر بات نہیں کر تے ہیں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے پٹنہ یونیورسٹی کے سو سال پورے ہونے پر مرکزی یونیورسٹی کا درجہ مانگا تھا وزیر اعظم نے ٹال دیا اور یونیورسٹی کو دس ہزار کروڑ دینے کو کہا تھا ابتک ایک ہزار کروڑ بھی نہیں دے سکے،جناب کمار نے اخیر میں صحافی برادریوں کو متنبہ کر تے ہوئے کہا کہ نفرت کی ہوا کو علم کی بنیاد پر ہی ہم محبت میں بدل سکتے ہیں اس کے لئے ہمیں تعلیم یافتہ ہونا پڑیگا تاکہ ہم سیاسی چال کو سمجھ سکیں، جناب کمار دوران خطاب بھوجپوری میں بھی باتیں کی ۔ اور بھوجپوری سے یعنی آبائی زبان سے محبت کا ثبوت دیا ۔نظامت کا فریضہ جرنلسٹ ویلفیئر سوسائٹی کے صدر سنجے ٹھاکر نے انجام دیا،خطبہ استقبالیہ سوسائٹی کے نایب صدر عزیر انجم نے پیش کیا اس موقع سے اریراج سب ڈویژن سمیت ضلع کے تقریباً ہر فیلڈ کے صحافی موجود تھے ۔

Leave a Reply