نئی دہلی: (پریس ریلیز ) پرائیویسی بنیادی اور آئینی حق ہے ۔دنیا کے ہر سماج ،مذہب ،آئین اور ملک میں پرائیویسی کا خاص خیال رکھاجاتاہے ۔ حکومت ،ایجنسی اور پولس کسی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ بغیر کسی نوٹس اور اطلاع کے کسی کی پرائیوسی اور ذاتی زندگی میں مداخلت کرے ۔ اس کی جاسوسی کرے ،اس کی حرکتوں پر نظر رکھے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس عہد میں اب یہ سب ہونے لگاہے اور ہندوستان سب سے زیادہ اس سے متاثر ہے ۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کیا ۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور ڈیموکریسی میں شفافیت سب سے اہم ہے لیکن جس طرح وہاٹس ایپ کے ذریعہ لوگوں کی جاسوسی کرائی گئی ہے وہ بنیادی حقوق کے ساتھ جمہوری تقاضوں کی بھی توہین ہے ۔اسرائیل کی جس کمپنی نے ہندوستان کے صحافیوں اور حقوق انسانی کارکنا ن کی جاسوسی کی ہے وہ حکومت کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے کیوں کہ کہاجارہاہے کہ اسرائیلی کمپنی پیجس ایپ جس کے ذریعہ جاسوسی کی جاتی ہے اس کی فروخت حکومت اور اس کے خود مختار اداروں کے ہاتھوں ہی کرتی ہے جس کا مطلب صاف ہے سرکار خود کرارہی ہے ۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہاکہ جمہوریت اور ڈیموکریسی کسی بھی ملک کیلئے بہت اہم ہے ،اس کا اولین تقاضا یہی ہے کہ عوام کو مکمل آزادی دی جائے ، انہیں بولنے اور لکھنے کا حق دیا جائے ۔ سرکار کے خلاف آواز اٹھانے اور غلط پالیسی پر تنقید کرنے کا حق ملے ،اسی میں ملک اور عوام کی بھلائی ہے ۔ ایسے لوگوں کی جاسوسی کرنا ،ان کی پرسنل لائف تک گھس جانا اور ان کے بارے میںمکمل معلومات فراہم کرناایک شدید جرم ، قبیح عمل اور غیر انسانی حرکت ہے جس سے احتیاط اور گریز لازم ہے ۔ وہاٹس ایپ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے سسٹم کو محفوظ بنائے اور صارفین کی پرائیوسی کو یقینی بنائے ۔

Leave a Reply