مدھے پورہ: (عادل فریدی) یہ ربیع الاول کا مہینہ آقائے مدنی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کا مہینہ ہے ، اس لیے ا س مہینے میں سیرت پاک سے اپنی زندگی کو بدلنے کی کوشش کریں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیاد ی تعلیمات میں سے یہ ہے کہ آپس میں حسن سلوک کا مظاہرہ کرو، ایک دوسرے کے تئیں پاکیزہ خیالات رکھو اور ان کی ترقی میں خوش رہو، آپس میں جلن ، بغض ، حسد نہ رکھویہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں جو زندگی کے ہر مرحلہ میں ہم سب کے لیے نمونہ ہیں ۔ یہ باتیں حضرت امیر شریعت مفکر اسلام مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے مدھے پورہ کے دو روزہ خصوصی تربیتی اجلاس کے آخری سیشن میں منعقد اجلا س عام سے خطاب کرتے ہوئے کہیں ۔آپ نے اپنے خطاب میں مال کی بے ثباتی کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ نہ غریب ہمیشہ غریب رہتا ہے اور نہ امیر ہمیشہ امیر ، یہ تو ڈھلتی چھاؤں ہے آپ نے کہا کہ آپسی رشتے کو استوار کریں ، سلام کو عام کریں کسی شخص سے تین دنوں سے زیادہ سلام کو بند کرنا جائز نہیں ہے۔ واضح ہو کہ امارت شرعیہ نے تمام اضلاع کے اندر نقباء ، نائبین نقباء ارباب حل و عقد، ارکان شوریٰ و عاملہ امارت شرعیہ، علماء کرام، ائمہ مساجد، دانشوران اور ملی و سماجی خدمت گاروں کے خصوصی تربیتی اجلاس کا بہت ہی مفید اور منفرد پروگرام شروع کیا ہے ، اب تک مغربی و مشرقی چمپارن، دربھنگہ ،مدھوبنی، سیتا مڑھی اور مظفر پور میں یہ اجلاس کامیابی کے ساتھ منعقد ہو چکے ہیں ، اور اب مورخہ ۲؍ نومبر سے ۷؍ نومبر تک مدھے پورہ ،سوپول اور سہرسہ ضلع میں یہ اجلاس منعقد ہو رہے ہیں ، الحمد للہ ۲ ؍ تا۳؍ نومبر مدھے پورہ کے تربیتی اجلاس کے چار سیشن بہت ہی کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئے، آخری سیشن اجلاس عام کے طور جھٹکیا میں جامعہ فیض زہرہ میں۳؍ نومبر کو بعد نما ز مغرب منعقد ہوا۔اس موقع پر مدھے پورہ میں دار القضا کا افتتاح بھی کیا گیا اورنو منتخب قاضی مولانا محمد مفتی محمد فیاض صاحب کو سند قضا عطا کی گئی۔تلاوت کلام اللہ اور نعت شریف سے اجلاس کا آغاز ہوا، ا س کے بعد اجلاس س خطاب کرتے ہوئے مولانا مفتی احمد حسین قاسمی مدنی معاون ناظم امارت شرعیہ نے اجلاس کے اغراض و مقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالی ، اور قوم کو مشترکہ اجتماعی نظام اور امارت کے اس تاریخی اقدام کو آگے بڑھانے کا پیغام دیا۔ اس کے بعد نائب قاضی امارت شرعیہ مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی نے دار القضاء کی اہمیت و ضرورت پر روشنی ڈالی ،آپ نے کہاکہ دار القضاء اسلام کا وہ شعبہ ہے جس سے عدل کا قیام عمل میں آتا ہے اور جہاں لوگوں کو کم وقت میں کم خرچ پر شریعت کے مطابق انصاف ملتا ہے ۔مولانا مفتی نذر توحید مظاہری صاحب قاضی شریعت دار القضاء امارت شرعیہ چترا نے اسلام کے نظام قضا اورا مارت شرعیہ کے اہم کارناموں ، دار القضاء امارت شرعیہ کی اہمیت و افادیت کو بہترین مثالوں کے ساتھ بیان کیا آپ نے اپنے خطاب میں باب وراثت کے بعض اہم مسائل بھی بیان کیے ۔جناب مولانا مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی صاحب نائب ناظم امار ت شرعیہ نے ملک کے موجودہ حالات کو اپنے خطاب کا موضوع بنایا ، آپ نے کہا کہ اللہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے ، اس کی اچھی تدبیروں پر یقین رکھئے ، آپ نے کہا کہ موجودہ ملکی حالات میں اپنے اندر خوف کی نفسیات کو پیدا نہ ہونے دیں ۔آپ نے کہا کہ اللہ ایسی عظیم تدبیر کرنے والا ہے کہ وہ بڑی طاقتور قوموں کو ایک مکڑی کے جالے اور کبوتر کے انڈے سے شکست دے دیتا ہے ۔آپ نے کہا کہ ہم نے اللہ کو پکارنا چھوڑ دیا ہے اس لیے ہم نصرت خداوندی سے محروم ہیں ۔مولانا قمر انیس قاسمی معاون ناظم امار ت شرعیہ نے اپنے خطاب میں امارت شرعیہ کا تفصیلی تعارف کرایا آپ نے لوگوں کو امیر شریعت کی اطاعت و فرماں برداری کی تلقین کی ، آپ نے کہا کہ آپ جماعت اور تنظیم کے ساتھ رہیں اور ہر حالت میں اپنے امیر کی اطاعت کریں ۔مولانا مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے اجلاس کی نظامت بہت خوبصورتی سے انجام دیا ، آپ نے امارت شرعیہ اور اس کے جملہ شعبہ جات کا تعارف تفصیل کے ساتھ کرایا ، آپ نے امارت شرعیہ کے ذیلی امور اور ان کے کاموں کی بڑھتی رفتار اور حضرت امیر شریعت کی سرپرستی میں کاموں کے فروغ کا تذکرہ کیا ۔آخر میں حضرت امیر شریعت مفکر اسلام حضر ت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب نے اپنے بصیرت افروز خطاب میں سامعین کو کلمہ کی بنیاد پر اتحاد کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا کہ اللہ نے ہمیں ’’کونوا عبا داللہ اخوانا ‘‘ کی دعوت دی ہے یعنی اللہ کے بندو بھائی بھائی بن کر رہو،آپ نے فرمایا کہ کلمہ طیبہ ہماری اور آپ کی شان اور پہچان ہے اس کلمہ کے پڑھنے کے بعد ہمارے تمام تعصبات اور برادریاں ختم ہو کر اخوت غالب ہو جاتی ہے ۔آپ نے کہا کہ ذات اور برادری کا اسلام کی تعلیمات سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔آپ نے عاجزی اور انکساری کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ جھکنے کا مزاج بنائیں گے تو ترقی سے ہم کنا ر ہوں گے ، اگر آپ میں اکڑنے کامزاج ہے تو آپ زوال کی راہ پر گامزن ہیں ،اگر آپ کو اپنے عروج و زوال کا جائزہ لینا ہے تو اپنے مزاج کے تواضع اور تکبر کا جائزہ لیجئے ۔اپنی ذات اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا جائزہ لیجئے اور اپنے اسلام کا فیصلہ کر لیجئے ۔آپ نے کہا کہ اپنے شعائر اور مومنانہ شان کو کسی بھی حالت میں فراموش نہ کیجئے ۔آپ نے فرمایا کہ اسلام نے توکل کے ساتھ تدبیر کا سبق دیا ہے ۔ آپ نے کہا کہ اپنے کردار اور اخلاق کو اتنا بلند کریں کہ لوگ جینے کا سلیقہ آپ سے سیکھیں ۔آخر میں حضرت امیر شریعت کی دعا پر اجلاس عام اختتام کو پہونچایا۔اس اجلاس میں مدھے پورہ کے تمام بلاک سے ہزاروں فرزندان توحید نے شرکت کی اور حضرت امیر شریعت اور اکابر علماء کرام کی تقریروں کو غور سے سنا ۔

Leave a Reply