پہلو خان ماب لنچنگ کیس میں نیا موڑ! اب تحقیقات میں شامل افسران کے خلاف بھی کارروائی کرے گی گہلوت حکومت




جے پور: (ایم این این) راجستھان حکومت نے سرخیوں میں رہنے والے پہلوخان ماب لنچنگ کیس کی تحقیقات میں شامل چار پولیس افسران کے خلاف ایکشن لیا ہے۔ پولیس نے اس سلسلے میں جانکاری دیتے ہوئے ” انڈین ایکسپریس ” سے بات چیت کی ہے۔ کرائم برانچ کی کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی سی بی) کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل بی ایل سونی نے کہا کہ پہلو خان کیس کے لئے قائم خصوصی تحقیقات ٹیم کی رپورٹ کی بنیاد پر و یجلنس برانچ نے اس معاملے کی تحقیقات میں شامل چار پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔
پہلو خان کیس میں تحقیقات کی شروعات بہرور پولیس تھانے کے ایس ایچ او (اسٹیشن ہاوس آفیسر) رہے رمیش چند سنسنوارنے کی تھی۔ اس کے بعد یہ کیس بہرور کے سرکل آفیسر پرمل سنگھ، پھر کوٹ پتلی کے ایڈیشنل ایس پی رام سوروپ شرما کے پاس گیا۔ یہ علاقہ جے پور دیہی علاقے میں آتا ہے۔ اس کے بعدی بی سی آئی ڈی کے ایڈیشنل ایس پی گووند دیتھا نے بھی اس کیس کی جانچ کی تھی۔ یہ چاروں اہلکار ایس آئی ٹی کی تحقیقات کا سامنا کریں گے۔ اس کی تشکیل اشوک گہلوت حکومت نے کیا تھا۔ حکومت کا یہ فیصلہ الو کورٹ کی جانب سے ماب لنچنگ کیس میں شامل تمام ملزمان کو بری کئے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔
حکام کے مطابق سنگھ اور اب ریٹائر ہو چکے سنسنوار نے اپنی جانچ میں کنیکمیاں رکھ دی تھیں۔ شرما اور دیتھانے بھی دونوں افسران کی جانب سے کی گئی غلطیوں کو درست نہیں کیا۔ یکم اپریل 2017 کو پہلو خان پر حملے کا یہ معاملہ جب کورٹ میں رکھا گیا تو سرکاری وکیل عدالت میں معاملہ ثابت کرنے میں ناکام رہے، وہیں کچھ گواہ بھی پلٹ گئے ۔ عدالت نے جائے حادثہ کے ویڈیو کو ثبوت نہیں مانا، اس کے لئے کورٹ نے ایف ایس ایل کی انکوائری کی دلیل بھی دی۔ عدالت نے کہا کہ ویڈیو بنانے والے شخص نے صحیح صحیح جانکاری نہیں دی۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی کہا کہ پہلوخان کا بیٹا کورٹ میں ملزمان کی شناخت نہیں کر سکا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *