دہلی میں جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کی پریس کانفرنس، متعدد اہم مسائل پر میڈیا سے بات چیت
نئی دہلی: (ملت ٹائمز) جمعیت علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے آج قومی راجدھانی دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ جس میں انہوں نے بابری مسجد ملکیت تنازع، کشمیر کی ابتر صورتحال، این آر سی کے نفاذ، آر ایس ایس اور مسلم جماعتوں کے مابین بہتر تعلقات کی راہیں ہموار ہونے سمیت متعدد امور پر کھل کر بات کی۔
کانسٹی ٹیوشن کلب میں انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بابری مسجد کے تعق سے ہمیں بابری مسجد کے فیصلے کا انتظار ہے اور جو بھی فیصلہ آئے گا وہ ہمیں منظور ہوگا۔ پورے ملک کی عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ قانون کا احترام کریں، جو بھی فیصلہ آئے اس کا احترام کریں تاکہ ملک میں امن و امن قائم رہے اور کسی کا بھی جانی و مالی نقصان نہ ہو۔اس حساس مسئلے کے تعلق سے مسلم جماعتیں، آر ایس ایس اور حکومت امن و امان کے لئے متحد ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ عدالت میں لڑائی لڑی ہے اب فیصلے کا انتظار ہے۔ اور ملک میں ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا۔ مجھے فخر اور خوشی ہے کہ آر ایس ایس اور جمعیت اپنے نظریات کے اختلاف کے باوجود اس معاملے پر متحد ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری ملاقات کے بعد اشتعال انگیز اور مسلم مخالف بیانات میں کمی آئی ہے اور یہ کوشش آیندہ بھی جاری رہے گی.
این آر سی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مذہب کے نام پر شہریت دینے کا فیصلہ قابل مذمت ہے۔ہم وزیر داخلہ کے اس بیان کی مذمت کرتے ہیں جس میں انہوں نے خاص مذاہب لوگوں کو شہریت دینے کی بات کی تھی۔ ایک رکن پارلیمنٹ اور ملک کے وزیرداخلہ نے اس طرح کا بیان دے کر دستور ہند کی مخالفت کی ہے۔مولانا مدنی نے کہا کہ کشمیر میں بسنے والے لوگوں کی تکالیف کا ہمیں احساس ہونا چایئے۔ جہاں تک بات آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا ہے تو یہ معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، وہاں اس بات پر بات ہوگی کا ہٹایا جانا درست ہے یا نہیں.
ماب لنچنگ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بی جے پی سرکار کو اس پر قانون سازی کرنی چائیے۔انہوں نے زور دیکر کہا کہ ہم این آر سی کے مخالف نہیں، لیکن تعصب کی بنیاد پرایسا نہیں ہونا چائیے ۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ملک کے مسلمانوں میں خوف ہے جسے ختم کرنا اور تحفظ کو یقینی بنانا سرکار کی ذمہ داری ہے.

Leave a Reply