مرکزی حکومت این آر سی کے ذریعے ملک کو کمزور کرنے کے کی کوشش کررہی ہے : اروند کمار ڈے
مظفر پور: ( پریس ریلیز ) آسام کے حراستی کیمپوں میں ، NRC کی حتمی فہرست سے قبل 25 افراد کی موت ہوگئی ، اس کے بعد دلال چندر پال اور پھلو داس کی موت ہوئی۔ ان خیالات کا اظہار سی پی ایم ایل مظفرپور کی جانب سے،آسام حراستی کیمپ میں ہوئے 27اموات اور این آرسی نافذ کیےجانے کےخلاف نکالے گئے احتجاجی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے ہوئے سی پی ایم ایل مظفرپور کے ٹاؤن سیکریٹری سورج کمار سنگھ نے کیا سورج کمار نے کہا کہ – دلال پال اور پھلو داس کے اہل خانہ نے ان کی لاشوں کو لینے سے انکار کردیا ، یہ کہتے ہوئے کہ – اگر وہ بنگلہ دیشی تھے تو ، ان کے اہل خانہ کو بنگلہ دیش میں ڈھونڈیں ، اور لاش بنگلہ دیش بھیجیں۔ اگر نہیں تو ، غور کریں کہ وہ ہندوستان کے شہری تھے جنہیں حکومت نے حراستی کیمپ میں ہلاک کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امیت شاہ اب پورے ملک میں NRC کو نافذ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ، جس میں سب کو کاغذات کے ذریعہ یہ ثابت کرنا ہوگا کہ 1951 میں ان کےآبا ؤ اجداد اس ملک کے رائے دہندگان تھے جب کہ حقیت یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بی پی ایل کی فہرست ، ووٹر لسٹ ، کی فہسرت میں غریبوں کو شامل نہیں کیاجاتاہے ۔ وہ 1951 کے اپنے آباؤ اجداد کے کاغذات کہاں سے لائیں گے؟ سورج کمار سنگھ نے کہا کہ اگر وہ نہیں لاتے ہیں تو انھیں حراستی کیمپ میں ڈال دیا جائے گا۔ مودی شاہ کہہ رہے ہیں کہ اگر آپ مسلمان ہیں تو آپ کو ملک سے بے دخل کردیا جائے گا ، لیکن اگر آپ ہندو ہیں یا غیر مسلم ، تو ہم آپ کو شہریت کے قانون میں ترمیم کرکے مہاجر مانیں گے۔ ملک کے شہریوں کو خطرہ ہے کہ وہ یا تو حراستی کیمپ میں مارے جائیں گے ، یا شہریوں کی بجائے مہاجر بنائے جائیں گے۔ اس موقع پر سی پی آئی ایم مظفرپور ضلعی کمیٹی کے رکن پروفیسر اروند کمار ڈے نے وزیر داخلہ امت شاہ کے این آرسی سے متعلق دیئے گئے بیان کو دستورہند میں دیئےگئے مساوات کے بنیادی حق کےمنافی قرار دیتے ہوئےکہا کہ ملک کے وزیرداخلہ کی طرف سےاس طرح کا بیان نا مناسب ہے۔ انہوں نےکہا کہ مذہبی شناخت کی بنیاد پرکسی بھی طرح کی تفریق دستورہند کی دفعہ 14-15کےمنافی اورمسلمہ بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ وزیر داخلہ کے بیان سے یہ صاف ظاہرہوتا ہےکے ڈیٹنشن کیمپوں میں صرف مسلمان بند کئے جائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو اس سےعالمی سطح پرہندوستان کی زبردست بدنامی ہوگی اورملک کے دشمنوں کو ہندوستان کورسوا کرنےکا مضبوط حربہ مل جائے گا۔اروند کمار نے کہاکہ وزیر داخلہ کے بیان سے یہ پیغام جارہا ہے کہ وہ ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کو نشانہ بنارہے ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں باہمی منافرت، دوری اور مسلم اقلیت کے تئیں شکوک و شبہات میں اضافہ ہوگا۔ احتجاجی مارچ سی پی آئی ایم ایل کے ضلعی دفتر واقع ہری سبھا چوک سے نکالا گیا اور کلیانی چوک،موتی چھیل،تلک میدان روڈ، جواہر لال روڈ،ہوتے ہوئے فلک شگاف نعروں، ڈٹینشن کیمپ میں ہوئے موت کے ذمہ دار مودی شاہ جواب دو،این آرسی کا کالا قانو ملک پرتھوپنا بند کرو،جیسے نعروں کے ساتھ پھر پارٹی دفتر پہنچ کر اختتام ہوا،اس موقع پر انصاف منچ بہار کے ریاستی نائب صدر آفتاب عالم، فہدزماں، اکبر اعظم صدیقی، اعجاز احمد، سی پی آئی ایم ایل کے لیڈران، سترودھن سہنی، منوج یادو،پرشو رام پاٹھک،ہوریل رائے، سروج، راہل کمار سنگھ، دیپک کمار سنگھ،اعظم، امتیاز ،شکل ٹھاکر وغیرہ بھی خصوصی طور پر موجود تھے ۔

Leave a Reply