ملکی جمہوریت کے 67؍سال اور مسلمان

5

(تاریخ، قربانی ، مظلومیت اور عزائم)
اظہارالحق قاسمی بستوی
ملت ٹائمز
ہمارے ملک میں ہرسال۲۶؍جنوری کو یوم جمہوریہ کے یادگار دن کے طورپرانتہائی تزک واحتشام کے ساتھ منایاجاتاہے۔ہندوستان نے یوں تو ۱۵؍اگست ۱۹۴۷ ؁ میں ہی برطانیہ سے آزادی حاصل کرلی تھی لیکن ہندوستان کاجمہوری آئین چوں کہ ۲۶؍جنوری ۱۹۵۰ ؁ کو نافذالعمل ہوا لہذاحکومتی سطح پر اسی دن کو جمہوریت کے اظہارکا دن قراردیاگیا۔جس کامختصر پس منظر یہ ہے کہ ہندوستا ن میں ۲۶؍جنوری ۱۹۳۰ ؁کو پورے ملک کی آزادی کا نعرہ دیاگیاتھالہذا اسی دن کو۲۰؍سال کے بعد پورے ملک کے لیے یوم جمہوریہ قراردیاگیا۔ یوم جمہوریہ کے موقع پرہرسال ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں عظیم فوجی پریڈکی نمائش ہوتی ہے جس میں تمام مسلح افواج،آرمی ،نیوی اورایرفورس کی طرف سے کمانڈر انچیف صدرجمہوریۂ ملک کو سلامی دی جاتی ہے۔
دنیاکاعظیم ترین ہمارا جمہوری ملک ہندوستان اپناسڑسٹھواں یوم جمہوریہRepublic Day پوری آن بان اور شان سے منانے جارہاہے جس میں سالہائے گذشتہ کی طرح اس بار بھی باہر کے عظیم مہمان فرانس کے صدرجناب فرانکویس ہولانڈے صاحب ہندوستان کے اس موقعے پرخصوصی مہمان کے طورپرتشریف لاچکے ہیں۔موصوف کے چنڈی گڑھ تشریف آوری پر ان کا پرتپاک استقبال کیاگیا۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق موصوف کی آمد کے پہلے دن ہی ہندوفرانس کے مابین ۱۶؍اہم اور قابل قدر معاہدوں پر دستخط ہوچکے ہیں اور ۲۵؍ جنوری کوآں جناب کا رسمی اور سرکاری طور پر دہلی میں استقبال کیاجائے گا۔ آنجناب کے لیے حفاظتی انتظامات پوری آب وتاب کے ساتھ جاری ہیں۔اسی مناسبت اور موقعے کے پیش نظر ملک میں آئی ایس کی نام نہادگیدڑبھبھکیوں کی خبروں کی وجہ سے ایک بار پھرکئی ایک مسلم نوجوانوں کو گرفتار کرکے جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیاگیا ہے اور مسلمان نوجوانوں میں ایک بار پھرسراسیمگی کی کیفیت پیداہوگئی ہے ۔غرض کہ ہرچہارطرف سے حفاظتی انتظامات کی ان تھک کوششیں جاری ہیں، آگے نہ جانے اور کیاکیا اورکیسے کیسے انتظام ہوں گے۔ تمام اہل وطن آں موصوف کی تشریف آور ی کا خیرمقدم کرتے ہیں اور یہ توقع کرتے ہیں کہ ان کا آناہندوستان کے حق میں مفید ثابت ہوگا اور ان کا یہ سفرہندوفرانس کے تعلقات کے حوالے سے ایک سنگ میل ثابت ہوگا۔
یوم جمہوریہ کے اس عظیم الشان موقعے پرہمیں یہ سوچنے اور محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ ملک میں جمہوری دستور کے نفاذکے۶۷؍سال گذرنے کے بعدبھی کیاجمہوریت روبہ عمل آئی ؟ کیاملک کے رہنے والے ہرباشندے اور مردوعورت کو دستورہند میں دی گئی مراعات سے استفادہ کاحق عطا ہوا؟ اس عظیم جمہوری ملک میں کیا واقعی جمہوریت زندہ ہے یا جمہوریت کی آڑمیں ڈکٹیٹر شپ ، فرقہ پرستی ، ذات پات کا بھیدبھاو اور مذہبی منافرت کا لامتناہی سلسلہ تو جاری نہیں؟کسی خاص مذہب کے ماننے والوں کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کا ننگاناچ تو نہیں چل رہاہے؟ حق بولنے والی زبانوں کو گنگ تو نہیں کردیاجارہاہے؟مجرم کو معصوم اور معصوم کو مجرم تو قرار نہیں دیاجارہاہے؟آباواجداد کی قربانیوں کو فراموش تو نہیں کیا جارہا ہے ؟ہندوستان کا سیکولر دستور جسے آج سے۶۷؍سال پہلے ۱۹۵۰ ؁ میں نافذ کیاگیاتھا اس کی عظمت اور وقار کو پامال تونہیں کیا جارہاہے؟ وہ ہندوستان جو اپنی گوناگوں خصوصیات وتہذیبات اور تحمل ورواداری کے حوالے سے کبھی سونے کی چڑیااور امن وآشتی کا گہوارہ سمجھاجاتاتھاکیاآج کی رواداری اور ملی جلی تہذیبوں کی دیواروں کے درمیان دراڑیں نہیں پڑچکیں؟
کیاآج ایسانہیں ہوگیاہے کہ ہمارے ملک میں جمہوریت اور رواداری کا مفہوم ایک مذاق بن کررہ گیاہے؟ کیادستورہند جوکہ ۲۶ ؍جنوری کو ہی نافذالعمل ہواتھااس میں اظہاررائے کی آزادی کو ہرہندوستانی شہری کا بنیادی حق تسلیم نہیں کیاگیاہے ؟ اگرہاں اور یقیناہاں تو پھرآخر اس ملک کے لوگوں کو کیا ہوگیاہے کہ اگرکوئی بھی اپنے اس حق کا استعمال کرتاہے توایک نام نہادفرقہ پرست گروپ اس کے خلاف واویلامچانے لگتاہے اور ملک کے وفادار رہے ہوئے ان لوگوں کوملک کا غداراور وطن دشمن تک کہہ ڈالنے میں نہیں جھجھکتا۔کیاایسانہیں ہے کہ پس ماندہ طبقوں اور اعلی ذاتوں کے بیچ نفرت کی کھائی مزیدگہری ہوتی دکھائی دے رہی ہے؟کیاایک بارپھرملک پر دستورہندکے بجائے ایک خاص تہذیب کے نفاذکی چوطرفہ کوشش نہیں ہورہی ہے چناں چہ کیاحیدرآباد کے مرکزی جامعہ میں دلت طالب علم روہت ویمولاکی دلدوز خودکشی کاواقعہ اس پر بین دلیل نہیں؟
سوال یہ ہے کہ کثیرآبادی والاہمارایہ ملک کب اور کیسے ترقی کرے گا جس کے اندرون میں اللہ رب العالمین نے اتنی خوبیاں اور صلاحیتیں رکھی ہیں کہ اگران کا صحیح استعمال کرلیاجائے توکوئی سبب نہیں کہ ہندوستان دنیاکا سپرپاوربہت جلدبن جائے۔لیکن افسوس صدافسوس آج ملک میں اتنے بڑے بڑے گھوٹالے ہوچکے ہیں اور اتنازیادہ کالادھن باہرملکوں میں بھیجاجاچکاہے کہ اگرکاش کبھی وہ آجائے توملک کاقرضہ تواداہوہی جائے ساتھ میں مودی جی کاموعود پندرہ لاکھ بھی سب کے کھاتے میں آجائے گا۔آج ہرچینل اور اخباراور ملک کی تمام ایجنسیاں ایک خاص منصوبے کے تحت ایک خاص ملت کونشانہ بناکراتناچیختے اور چلاتے ہیں کہ خداکی پناہ!کوئی اگرصرف شک کی بنیادپر تحقیق وتفتیش کے لیے بلایاگیاتواس کو بھی کسی لعنتی اور سفاک جماعت کی طرف منسوب کرکے سیدھالعنتی لفظ ’دہشت گرد‘کے خبیث لقب سے نوازناشروع کردیتے ہیں اور تعجب تو یہ ہے کہ جب انھیں چنددنوں یا مہینوں کے بعد باعزت بری کردیاجاتاہے تو ان چیخ پکارکرنے والوں کے پاس اظہاربرا ء ت کے لیے ایک لفظ بھی نہیں ہوتاچہ جائے کہ اسی طرح پوری شدومدکے ساتھ ان کی براء ت کا اظہارکریں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ملک میں کوئی اور ایجنڈہ ہی نہیں رہ گیاہے جس پر اس ملک کے رہنے والے لوگ توجہ دیں،دانستہ طور پرگویاایک منصوبہ بنایاہواہے کہ ملک کوکبھی ترقی کی راہ اور ڈگرپرجانے ہی نہ دیاجائے، جسے دیکھووہ بس فرقہ پرستی کی زبان بول رہاہے حالاں کہ ملک کے اور بہت سارے بڑے ایجنڈے ہیں جن پرہرایک کوتوجہ دینے کی شدید ضرورت ہے ۔ سب سے بڑامسئلہ ہمارے ملک میں تعلیم کا ہے۔۱۸؍تا۲۳؍سال کے نوجوانوں کے ہندوستان میں تعلیم حاصل کرنے کی شرح افسوسناک حدتک کم یعنی صرف تقریبا۲۰؍فی صد ہے جبکہ اس عمر کے طلبہ کے تعلیم حاصل کرنے کی تعداد امریکامیں ۸۹؍جب کی انگلینڈمیں ۸۱؍فیصد بل کہ ملیشیاوغیرہ جیسے چھوٹے ملک میں یہ شرح کم ازکم ۴۰؍فی صدہے اور المناک حقیقت تو یہ ہے ہندوستان میں صرف .25% لوگ اعلی تعلیم یعنی ریسرچ وتحقیق کے معیارکی تعلیم حاصل کرتے ہیں لیکن اس طرف نہ تو ملک کا میڈیادھیان دے رہاہے اور نہ ہی عہدیداران ۔دوسرابڑامسئلہ روزگارکاہے اس سلسلے میں مودی جی کچھ محنت کرتے دکھائی دے رہے ہیں لیکن ایسالگتاہے کہ یہ کام بنیادی طورعام لوگوں کے لیے مفیدنہیں ہوگا۔ یہ ایک ایسامسئلہ جس سے ملک کے کروڑوں تعلیم یافتہ لوگ ہاتھاپائی کررہے ہیں عام اور کم خواندہ لوگوں کاتو کیاکہنا!کسان روزانہ خودکشی کرنے پرمجبورہیں، روزانہ معصوم بچیوں کی چادرعصمت کو سربازار تارتارکردیاجاتاہے لیکن ان کے تحفظ کے لیے نہ تومناسب قانون ہے اور نہ کوئی مناسب انتظام۔
وہ جمہوری ہندوستان جس کا بزرگوں نے خواب دیکھاتھا اور جس کے لیے اپنی جان ومال کا نذرانہ پیش کیاتھا جس کے لیے اپنی بیویوں کو بیوہ ، بچوں کو یتیم اور ماؤوں کو بے سہاراکیاتھا،جس کے لیے انھوں نے تن من اور دھن کی بازی لگادی تھی ،وہ جمہوری ہندوستان جس کو انگیزی اقتدار کر کے بعدایک مرتبہ پھر گنگاجمنی تہذیب کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے ہندواورمسلمانوں نے کندھے سے کندھاملاکر آزادی کی لڑائی لڑی تھی ،وہ ملک جوہمیشہ سے مختلف اقوام ومذاہب کے لیے امن وآشتی کا گہوارہ سمجھاجاتاتھا۔وہ خوابوں کاہندوستان آج دوردور تک نظرنہیں آرہاہے۔آج اس ملک کے باسیوں میں ۶۷؍سالوں کے بعد حالات بالکل مختلف نظرآرہے ہیں،ملک کا امن وامان غارت ہوچکاہے، اقلیتوں بطورخاص مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ملک میں امن وآشتی کی امیدیں ختم یا بہت موہوم سی نظرآنے لگی ہیں۔ہندوستان کو جمہوریت سے ڈکٹیٹر شپ کی طرف اورڈیموکریسی سے ہندوراشٹر بنانے کی سعی مسلسل کی جارہی ہے اور ملک اپنی جمہوری قدریں کھوتاہوانظرآ رہا ہے ۔مسلمانوں کو ان کے جمہوری حقوق سے یکساں طور پر محروم کرنے کی پوری کوشش کی جارہی ہے۔وزارت اور اعلی مناصب پر ایک خاص سوچ وفکر کے لوگ قابض ہوچکے ہیں، دفاع اور فوج میں مسلمانوں کا تناسب صفرہوکر رہ گیاہے۔سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کی نمائندگی نہایت معمولی رہ گئی ہے۔
دوسری طرف ملک مسلسل خارجی فتنوں سے نبردآزمااور دہشت گردوں کے نشانے پر ہے ۔پاکستان کشمیر پر نظریں گڑائے ہواہے اور چین دوسری طرف شمالی ہندوستان میں مسلسل دراندازی کرنے کی کوشش کررہا ہے، نام نہاددہشت گروپ آئی ایس بھی ہندوستان میں دراندازی کی ناکام کوشش کررہاہے۔نیز ملک اندرونی خلفشار سے بھی جوجھ رہاہے،کہیں بھگوارنگ کے درید ہ دہن لوگ ملک کی امن وآشتی کی فضاخراب کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کررہے ہیں اور کہیں ملک کے مرکزی وزراء موقع پرستی کے شکار ہوکر نفر ت انگیز بیان اور شرانگیزیا ں کرنے میں لگے ہوئے ہیں، غرض ہماراملک اس وقت ایسے آہنی ظالم پنجوں میں جکڑاہواہے جس سے چھٹکاراپانا قوم کے لیے اس وقت انتہائی مشکل ترین کام بن گیاہے۔اور ہمارے وزیراعظم ہیں کہ وہ ہروقت پابہ رکاب ہی رہتے ہیں ،اور انھیں اپنے بے لگام وزراء کے بارے میں سوچنے اور لگام دینے کی شاید فرصت نہیں ملتی بل کہ ان کے بے جاخاموشی نے یہ تردد پیداکردیاہے کہ کہیں یہ سب ا ن کی اجازت سے تونہیں ہورہا!
جب سے ملک آزاد ہواہے تب سے آج تک مسلم قو م ہندوستان میں اپنے وجودکی لڑائی لڑرہی ہے جب کہ ہندوستان کی جنگ آزادی میں مسلمانوں اور علماء نے اتناخون بہایاہے کہ کوئی دوسری قوموں نے اتناپسینہ بھی نہیں بہایاہے۔ مسلمان ۱۷۹۹ ؁ میں سلطان ٹیپوکی شہادت سے لے کر بل کہ ۱۷۵۷ ؁ میں نواب سراج الدولہ کے ہاتھوں سے سلطنت بنگال کے چلے جانے سے لیکر۱۸۵۷ ؁ تک اکیلے اور تن تنہااس جنگ کو لڑتے رہے اور یہ ان کی ذمہ داری بھی تھی کیوں کہ ملک مسلمانوں کے ہاتھ سے چھینا گیاتھااور ظاہر ہے کہ ظلم جس کے ساتھ ہواہودرد بھی اسی کو ہوتا ہے ۔ اس لیے مکمل سو سالوں تک آزادی کی جنگ صرف اور صرف مسلمانو ں نے لڑی ۔۱۸۵۷ ؁ میں ناکامی کے بعد علماکا جیناحرام کردیاگیادہلی کی سڑکوں پر ہزاروں علما کو درختوں سے لٹکا دیاگیا۔ہزاروں کو جلتے ہوئے تیل میں ڈال کربھون دیاگیا۔ہزاروں کو کالے پانی کی سزاہوئی اور لاکھوں مسلمان تہ تیغ کردیے گئے۔جس کے نتیجے میں مخلصین کی ایک جماعت نے مجاہدین تیارکرنے کے لیے دارالعلوم دیوبند کو۱۸۶۶ ؁میں قائم کیااو ر جس کے فرزندوں: مولاناقاسم نانوتوی ،مولانارشید احمدگنگوہی ، شیخ الہندمولانا محمودالحسن اور شیخ العرب والعجم مولاناحسین احمدمدنی ،مولانااشرف علی تھانوی ،مفتی کفایت اللہ دہلوی ،عبیداللہ سندھی ،حفظ الرحمن سیوہاروی وغیرہم اوردیگرعلما : مولانا محمد علی جوہر ،شوکت علی ،مولانافضل حق خیرآبادی اورمولاناابوالکلام آزادوغیرہ بے شمار علماو مسلمانوں نے ملک کی آزادی کے لیے بے مثال قربانیاں دیں۔اورہندومسلمان دونوں نے ایک دوسرے کا دست وبازو بن کرملک کی آزادی کی جنگ لڑی اور جس کے ہی نتیجے میں ملک کو آزادی کی نعمت حاصل ہے۔
لیکن افسوس کہ آزادی کے بعد ملک میں فرقہ پرستی کی جڑیں مضبوط ہوگئیں اور جگہ جگہ تقریبا۶۰۰۰۰؍اب تک فسادات کیے اور کرائے گئے۔ ان تمام دنگوں اور فسادات میں ایک خاص گروہ ہی شامل رہا لیکن ہرباراور ہرجگہ مسلمانوں کوہی نشانہ بنایا گیا۔ ہرجگہ اور ہرموقعے پران کاہی استحصال کیاگیا،وطن پرستی کاسب سے زیادہ سبق دینے والے مدارس کودہشت گردی کااڈہ تک کہاگیااور مسلمان سہتارہا،سہتاگیااور آج تک یہی ثابت کرنے میں لگاہواہے کہ ہم ملک کے وفادارہیں حالاں کہ سچائی یہ ہے کہ ملک میں جتنے بھی بم دھماکے ہوئے اس میں ابتداء مسلمانوں کوہی گرفتارکیا گیا لیکن بعد میں جب حقیقت طشت ازبام ہوئی تب ان گرفتارشدہ مسلمانوں کو باعزت رہائی ملی اور اصل مجرمین آج بھی جیل کی سلاخوں کے پیچھے اچھے دن گذاررہے ہیں اور حالات مشعرہیں کہ کہیں وہ اور ان سے منسلک لوگ پھرمتحرک نہ ہوجائیں۔اور لامحالہ انھیں جیل سے رہائی مل جائے۔
ا خیرمیں ایک بات میں اچھی طرح واضح کردوں کہ جن کواس ملک میں رہناپسندنہیں تھایاجواس ملک میں رہ کر نام نہادآزادزندگی نہ جی سکتے تھے وہ یہاں سے سترسال پہلے ہی ملک کے بڑے سورماؤوں کی دستخط سے جاچکے ہیں اورجویہاں رکے ہیں انھوں نے اختیاراور آپشن ہونے کے باوجود پورے ہوش وحواس اورمکمل بصیرت کے ساتھ یہیں مرنے اور جینے کوپسندکیاہے۔وہ ہندوستان کواپنی عارضی پناہ گاہ اور کرایہ کاگھرسمجھ کریہاں نہیں رکے بل کہ ؛ اپناوطن اوراپنامحبوب چمن سمجھ کراور یہ ٹھان کرٹھہرے ہیں کہ ہندوستان ہی ان کا مادروطن ہے اگرکسی نے اس کی طرف ایک ترچھی آنکھ بھی اٹھائی تو اسے بے نورکردیاجائے گااور اگرہاتھ بھی اٹھایاتو اسے توڑکر اس کے حوالے کردیاجائے گا۔آپشن ہونے کے باوجود نہ جانے کاسیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ مسلمان نے اس ملک سے وفاداری کی قسم کھائی ہے چناں چہ ملک کوجب بھی ضرورت پڑی ہے مسلمان نے آگے بڑھ کر ہرموقع پر وطن خدمت کا بھرپورثبوت دیاہے ، زیادہ دورنہ جاکرصرف مرحوم اے پی جے عبدالکلام کے بارے میں اگرلوگ سوچ لیں تولوگوں کو سمجھ میں آجائے گا کہ جس شخص نے ہندوستان کو ایٹمی طاقت بنایاکیااس کی نیت میں کوئی کھوٹ تھا؟یااس نے ملک کے ساتھ بدعہدی کے ارادے سے کبھی کوئی اقدام کیا؟ بل کہ ؛ مجھے کہنے دیجیے کہ مرحوم نے نہ صرف یہ کہ ملک کو ایٹمی طاقت بنایابل کہ ؛ ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں مسلموں وغیرمسلموں کو اپنے علمی ورثے کا امین بنایا۔ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ان کاملک ان کی جان سے زیادہ عزیز ہے کیوں انھوں نے اسے مجبورانہیں بالاختیار اپنایا ہے لہذا ان کی وفاداری اور خدمات پرشک کرنے والاوطن دشمن بل کہ ؛ ملک وقوم کا باغی ہے۔
یہ بات طے شدہ ہے کہ مسلمان اس ملک سے جانے والے نہیں ؛کیوں کہ یہ ان کا وطن ہے اور گیدڑبھبھکیاں چاہے وہ کسی کی بھی طرف سے ہوں سے وہ گھبرانے اور ڈرنے والے نہیں،وہ مسلمان ہی تھے جنھوں نے اسی وطن کی خاطرزندگی کے قیمتی سالہاسال جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے گذاردیے لیکن ملک پرآنچ نہیں آنے دی ۔ٹھیک اسی طرح آج کامسلمان اپنے ملک کی حفاظت کے لیے جان ومال کی بازی لگانے کے لیے تیارہے چاہے وہ فتنے خارجی ہوں یاداخلی اور فتنہ گروں کی حمایت کرنے والوں کو خود مسلمان ہی کیفرکردار تک پہونچادیں گے۔مجھے لگتاہے کہ تمام اہل وطن میں غلط فہمی کی جڑوں کوراسخ کرنے کی انتھک کوشش کی جارہی ہے جن کی وجہ سے ہی یہ سارے مسائل پیداہورہے ہیں۔ضرورت ہے کہ تمام ہندوستانی اپنے کو ہندوستانی سمجھیں اورسب کے لیے اس کامذہب عزیزہے اور ہونابھی چاہیے کوئی کسی کے مذہبی امو رمیں مداخلت نہ کرے، لیکن ملک کامذہب بقول مودی جی جمہوریت اور اس کی کتاب اس کاجمہوری آئین ہے۔لہذا ہرہندوستانی کو چاہیے کہ وہ ہرہندوستانی کواپنابھائی سمجھے اور مذہب کی بنیادپرکی جانے والی کسی بھی تفریق پرراضی نہ ہوکیوں کہ؛ یہ چندروزہ دنیاہے اسے اگرمحبت سے گذارلیاجائے توزندگی پرامن ہوجائے گی ۔یوم جمہوریہ کی سڑسٹھویں بہارکے موقعے پرمیری یہی خواہش ہے کہ سب اہل وطن ہندوستانی بن کراور مل جل کراپنے وطن کو آسمان کی بلندیوں تک لے جائیں تبھی جاکرہم ایک بیدار، قابل اور خود مختار ملک وقوم بن پائیں گے۔
izhar.azaan@gmail.com/
8686691311