بابری مسجد کے تعلق سے سپریم کورٹ کا فیصلہ حقائق و توقعات کے خلاف اورمایوس کن ہے، ہندستان پھر ہوا دنیا کے سامنے شرمسار: آل انڈیا امامس کونسل

6

نئی دہلی: ”ملک کی سپریم کورٹ کے ذریعہ 500 سالہ پرانی بابری مسجد کی جگہ کو حقائق و شواہد کے خلاف مندر تعمیر کرنے کے لیے دوسرے فریق کے حوالے کر دینا ایک چونکا دینے والا فیصلہ ہے۔اس فیصلے نے ایک مرتبہ پھر ہندستان کے سر کو دنیا کے سامنے جھکا دیا ہے۔ سپریم کورٹ کا ماننا ہے کہ بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر نہیں بنائی گئی ہے۔ کورٹ نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ۱۹۴۹؁ء میں مسجد میں مورتی رکھی گئی ہے اور یہ بھی قبول کیا ہے کہ بابری مسجد کو غیر قانونی طور پر ۱۹۹۲؁ء کو شہید کر دیا گیا ہے۔اس کے باوجود مسجد کی زمین، مندر بنانے کے لیے دے دینا ایک غیر متوقع اور چونکا دینے والا فیصلہ ہے“۔ ان باتوں کا اظہار آل انڈیا امامس کونسل کے قومی صدر مولانا محمد احمد بیگ ندوی نے کیا۔

انھوں نے کہا کہ: ”یہ بہت ہی افسوسناک بات ہے کہ مسلمانوں کو متبادل جگہ مسجد بنانے کی ہدایت دی جائے اور ظالمانہ طور پر شہید بابری مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کے لیے فریق مخالف کو دے دی جائے۔وہ بھی صر ف کسی آریالوجیکل رپورٹ کی بنیاد پر۔ یقینا اس فیصلہ کو تاریخ یاد رکھے گی۔ عدالت عظمی کا یہ فیصلہ اقلیتوں کے حقوق اور دستوری اُصولوں پر کاری ضرب لگاتا ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کے موقع پر جو فسادات ہوے،اور ہزاروں لوگوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی وہ بھی تاریخ میں مرقوم ہے جس کی آ ج بھی دنیا گواہ ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کے فوری بعد اس وقت کے وزیر اعظم نے وعدہ کیا تھا کہ ”مسجد دوبارہ اسی جگہ تعمیر کی جائے گی“۔ یہ وعدہ ابھی تک تشنہء تکمیل ہے“۔
بابری مسجد کسی مندر کو توڑ کر نہیں بنائی گئی اور مسلمانوں نے اس میں پانچ سو سال تک عبادت کی ہے؛ اس لیے اس کو انصاف ملنے تک قانونی اور جمہوری طریقے پر کوششیں جاری رہیں گی۔ بابری مسجد کو انصاف دلانے کے لیے یوپی سنی وقف بور ڈ اور آل انڈیا مسلم پرسنل لابورڈ کے جمہوری طریقے پر قانونی جد و جہد میں آل انڈیا امامس کونسل ساتھ ساتھ کھڑی رہے گی۔
اسی کے ساتھ آل انڈیا امامس کونسل کے قومی ناظم عمومی مفتی حنیف احرار قاسمی نے تمام ہندستانیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ملک میں امن و امان برقرار رکھیں اور تمام برادرانِ وطن کے ساتھ بھائی چارہ کو فروغ دیں۔ فیصلہ ہمارا قانونی لڑائی ہے اور بھائی چارہ ہمارا قومی مسئلہ