نئی دہلی: (پریس ریلیز ) جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں بابری مسجد – رام مندر پر عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی عرضی داخل کرنے کی بات کی گئی ۔
بابری مسجد – رام مندر ملکیت معاملہ میں عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے بعد جمعیۃ علماء ہند نے نظر ثانی کی عرضی داخل کرنے کا ارادہ کیا ہے ۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر دفتر میں مجلس عاملہ کی میٹنگ میں سپریم کورٹ کی جانب سے سنائے گئے فیصلے پر نظر ثانی کی عرضی داخل کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے ، میٹنگ میں جمعیۃ علماء مجلس عاملہ کے 8 ارکان نے شرکت کی ۔
میٹنگ میں جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی ، جنرل سکریٹری مولانا عبد العلیم فاروقی ، رکن عاملہ مولانا سید اسجد مدنی ، مولانا حبیب الرحمٰن اعظمی ، مولانا عبد الہادی پرتاپ گڑھی ، گلزار اعظمی ، ایڈوکیٹ آن ریکارڈ اعجاز مقبول اور مولانا فضل الرحمن شامل تھے ۔
یہ میٹنگ کافی طویل رہی اور دن بھر جاری رہی ، میٹنگ میں شریک زیادہ تر ارکان سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی عرضی کے حق میں تھے تاہم نظر ثانی کی عرضی کے اثرات پر بھی غور و فکر کیا گیا لیکن سب اس بات پر متفق تھے کہ عدالت کا فیصلہ انصاف کے منافی ہے اس لیے نظر ثانی کی عرضی داخل کرنے کی کوشش کی جائے ۔
مجلس عاملہ کے ایک رکن نے بتایا کہ ہمیں اللہ کے یہاں بھی جواب دینا ہے اس لیے ہم نظر ثانی کی کوشش کے حق میں ہیں ۔
واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ نے بابری مسجد – رام مندر پر جو فیصلہ دیا ہے اس کے خلاف ریویو پٹیشن داخل کرنے پر مسلم جماعتوں میں اختلاف رائے ہے ، زیادہ تر تنظیمیں اس معاملہ کو رفع دفع کرنا چاہتی ہیں ۔
فیصلے کے بعد جمعیۃ علماء نے بھی کچھ ایسا ہی اشارہ دیا تھا لیکن اب جب کہ عدالت کے فیصلہ کے خلاف آراء سامنے آرہی ہیں ، اس کے مدنظر جمعیۃ نے نظر ثانی کی عرضی کی حمایت کی ہے ، اس پر ایک میٹنگ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی بھی ہونی ہے جو لکھنؤ میں آئندہ 17؍ نومبر کو منعقد ہوگی ۔

Leave a Reply