نئی دہلی: (پریس ریلیز ) جواہر لال نہرو یونیورسیٹی میں طلبہ کی فیس بڑھانا غیر مناسب اور عام لوگوں کو تعلیم سے محروم کرنے کے مترادف ہے ۔ تعلیم کا فروغ اور اسے عام کرنا اسی وقت ممکن ہے جب تعلیم سستی ہو گی ۔ کم خرچ میں بچوں اور بچیوں کیلئے پڑھنا ممکن ہوگا لیکن جے این یو میں اس کا برعکس ہورہاہے ۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ جے این یو طلبہ کا مطالبہ بالکل درست ہے ۔ ان کی آواز انتظامیہ اور حکومت سننی چاہیئے ۔ ان کے مطالبات پورے ہونے چاہیئے۔ طلبہ مسلسل ایک ہفتہ سے دھرنا پر بیٹھے ہیں اور احتجاج کررہے ہیں۔ ان کا مشن اور مقصد یہی ہے کہ تعلیم سستی ہو اور غریب بچے بھی پڑھ سکیں ۔ ڈاکٹر محمد منظور عالم احتجاج کے دوران طلبہ پرپولس لاٹھ چارج اور حملہ کی بھی مذمت کی اور کہاکہ جمہوریت میں احتجاج کرنا ہرشہری کا بنیادی حق ہے ۔ یہ راستہ ہے اپنا حق مانگنے کا لیکن پولس نے ان پر لاٹھی چارج کی ، آنس گیس کا استعمال کیا جو انتہائی شرمناک ہے اور پولس کو اپنے اس رویہ کیلئے معافی مانگنی چاہیئے ۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم نے مزید کہاکہ جواہر لال نہرو یونیورسیٹی ہندوستان کا ممتاز تعلیمی ادارہ ہے ۔ یہاں ملک کے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ معاشی طور پر کمزور اور غریب بچے اس یونیورسیٹی سے سب سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن اب انتظامیہ نے اسے مشکل بنا دیا ہے ۔ فیس بڑھ جانے کی وجہ سے غریب اور کمزور فیملی کے بچے یہاں اپنی زندگی یہاں نہیں گزار پائیں گے ۔
آل انڈیا ملی کونسل نے اپنے بیان میں دہشت گردی کے الزامات کا سامنا کررہی ہے پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی کا ممبر بنائے جانے کی بھی مذمت کی ہے اور اسے ظلم کی حمایت کرنے والا قدم بتایاہے ۔ ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہاکہ پرگیہ ٹھاکر پر دہشت گردی کا الزام ہے ۔ اس کو اتنا بڑا عہدہ دیا جانا یہ بتاتا ہے کہ واقعی بی جے پی تشدد ، ظلم اور آئین کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کو ہی دیش بھکت تسلیم کرتی ہے جو ملک کیلئے شرمناک اور افسوس ناک ہے ۔

Leave a Reply