پٹنہ (خرم ملک) بڑھی ہوئی فیس پر پچھلے 14 دنوں سے جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ہو رہے احتجاج نے اب ایک الگ رخ اختیار کر لیا ہے، ملک بھر میں اس کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں،خاموش جلوس نکالے جا رہے ہیں،طالب علم سے لے کر پروفیسر،لیکچرر،سماجی کارکنان،سیاست دان، دانشوران، سبھی اس بڑھی ہوئی فیس کو لے کر اپنی اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں،اور حکومت سے جواب طلب کر رہے ہیں کے آخر فیس کو بڑھانے کے پیچھے کیا مقاصد ہیں،اسی سلسلے میں آج بروز جمعہ صوبہ بہار کے دارلحکومت پٹنہ میں جے این یو طلباء یونین کی طرف سے میں ایک خاموش احتجاجی مارچ کا انعقاد کیا گیا جو پٹنہ کے ریڈیو اسٹیشن سے ہو کر ڈاک بنگلہ چوراہا ہوتا ہوا بدھ سمیریتی پارک میں جا کر رکا، جس میں کئی بڑی ہستیوں نے شرکت کی،جس میں خاص طور سے کانگریس ایم ایل اے جناب شکیل خان،سی پی آئی ایم ایل کے ایم ایل اے محبوب عالم، سماجی کارکن نویدیتا شکیل،ابرار رضا موجود تھے، اس احتجاج کی حمایت میں الومنائی ایسوسیشن جامعہ ملیہ اسلامیہ بہار کی جانب سے صفدر علی اور خرّم ملک نے بھی خاص طور سے شرکت کی، اس احتجاج کی حمایت میں پٹنہ کے مختلف کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات بھی شریک ہوئے اور اپنی اپنی بات رکھی، جلوس کو مخاطب کرتے ہوئے شکیل خان صاحب نے کہا کہ جے این یو جیسی عظیم یونیرسٹی میں بڑھتی فیس لمحہ فکریہ ہے، اس سے ویسے غریب طالب علم جنکی آمدنی مہینے کے پانچ یا چھ ہزار ماہانہ ہے انکی تعلیم پر اثر پڑےگا، اور کئی غریب بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہو جائیں گے،لہذا موجودہ سرکرکو اس پہلو پر غووخوض کرنا چاہیے، اور ملک میں سستی تعلیم کو فروغ دینا چاہیے،جس سے ہمارے ملک کا مستقبل روشن ہو اور تعلیم یافتہ ہو،اس کے ساتھ اور بھی مقررین نے اپنی باتیں رکھی اور حکومت کی اس پالیسی پر سخت تنقید کی،اور حکومتِ ہند کو متنبہ کیا کے حکومت کی اس پالیسی سے غریب بچے کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب پورا نہیں ہو پائے گا، اور جو ملک کی مستقبل کے لیے بھی خطرناک ہے،اس لیے حکومت اپنے یہ قدم پیچھے کرے،

Leave a Reply