پٹنہ : علمی وادبی حلقے کے لئے یہ خبر نہایت روح فرساں ہے کہ دبستان عظیم آباد کے مشہور ومعروف شاعر حسن نواب حسن اللہ کو پیارے ہو گئے،انہوں نے رات سہ پہر آخری سانس لی۔ان کا انتقال مظفرپور میں ہوا۔چند دنوں قبل وہ مظفر پور اپنے نواسہ کی شادی میں تشریف لے گئے تھے۔اچانک رات کے قریب دو بجے دل کا دورہ پڑا ہاسپیٹل لے جایا گیا لیکن جانبر نہ ہوسکے اور انتقال کر گئے۔انکو آج ہی پیغمبر پور کولہوا، بیریا مظفرپور میں ۲ بجے دن سپرد خاک کردیا گیا ۔ سید حسن نواب (تخلص :حسن) ولد سید خورشید نواب تاریخی شہر گیا میں تعلیمی سند کے مطابق ۲نومبر۰۴۹۱ءکو پیدا ہوئے۔ حسن نواب کی عمر تقریبا 80 سال کی تھی ۔سلسلہ نسب ہمایوں کے قرابت دار داﺅد علی خاں کی وساطت سے امام علی رضا سے ملتا ہے۔ والد سرکاری وکیل تھے۔مگر ذریعہ معاش بنیادی طور پر زمینداری تھا۔ کثیر الاولاد بھی تھے۔ اس لئے زمیندار ی کے خاتمہ کے بعد وہ طرز رہائش باقی نہ رہ سکا جو داد ا ارشاد حسین کے زمانے میں تھا۔ حسن نواب نے لڑکپن میں اپنے اسکول کے مولوی اور گھریلو استاد مظفر حسین ضبط کابری سے فارسی کی ابتدائی کتابوں کے ساتھ علم العروض کا بھی درس لیا۔ پہلے ہادی ہاشمی ہائی اسکول میں تعلیم حاصل کی پھر بی اے پاس کرنے کے بعد ایم اے میں داخلہ لیا مگر اسی درمیان لائف انشورنس کارپوریشن میں ڈیولپمنٹ آفیسر کی ملازمت مل گئی اور تعلیمی سلسلہ منقطع ہو گیا۔ اسی ملازمت میں اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر ترقی کرتے ہوئے اے ڈی ایم کے عہدہ تک پہنچے۔۰۰۰۲ءمیں ریٹائر منٹ کے بعد فی الحال ایل آئی سی ٹریننگ سنٹر میں سنیئر فیکلکٹی ( لکچرر) کے عہدے پر مامور ہیں۔۹۵۹۱ءکے آس پاس مظفر پور کے رئیس ظہیر حسین صاحب عرف نبن کی صاحبزادی سے شادی ہوئی۔ ان سے ایک بیٹی تھی اور ایک بیٹے محمد علی ارمان ہیں۔انکی اکلوتی بیٹی کا انتقال کسی موذی مرض سے گزشتہ ایک دو سال قبل ہوا تھا ۔ بیٹی کے غم میں وہ ہمیشہ نڈھال رہتے اور ہمیشہ اسکی یاد سے اپنے آپ کو غافل نہیں رکھا ۔ ۔ فی الحال حسن نواب اپنے ذاتی مکان واقع ہارون نگر سیکٹر ۲ پٹنہ میں مقیم تھے اور پٹنہ کے علاوہ گیا کی متعدد ادبی، علمی اور سماجی انجمنوں کی سرپرستی کرتے ہوئے بے حد فعال رہے ۔ انہوں نے اردو زبان وادب سے اپنا رشتہ ہمیشہ بنائے رکھا۔ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد اردو کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہوگئے۔اردو زبان وادب کے تعلق سے منعقد ہونے والے سیمینار وپروگرام کی زینت بنتے رہے۔
حسن نواب حسن قادرالکلام شاعر تھے،غزلوں کے مقابلے نظموں میں ان کی فنی صلاحیت زیادہ نمایاں نظر آتی ہے۔ان کی نظموں میں فکر کی ندرت، تخیلات کی بلندی، ہیئت کی پابندی،اور اوزان وقافیہ میں ڈھلی شاعری دلوں پر دستک دیتی ہیں۔ان کی شاہکار نظموں میں بہار نامہ،پانی اور آنسو،بیٹی کا مقام،ماں،آگ،زخمی پرندہ،ایک لاوارث گونگی لڑکی،مختلف رنگوں کے سانپ وغیرہ بہت مشہور ہیں،ان کی نظموں کا اپنا رنگ وآہنگ ہے۔لفظیات کا فنی استعمال اور لہجہ کی روانی وبے ساختگی قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔معاصر شعرائ کے درمیان انہوں نے اپنی منفرد پہچان بناءیہی وجہ ہے ان کے معاصرین بھی ان کے قدر داں رہے ہیں۔
حسن نواب حسن نے لمبی پوری پائی اور جب تک باحیات رہے سرگرم رہے،ادبی محفلوں اور انجمنوں کے پروگراموں میں برابر شرکت کرتے رہے۔بڑے شاداب اور محفلی طبیعت کے آدمی تھے۔ہر ایک سے اخلاق ومحبت سے پیش آتے،اپنی تعریف سے بہت خوش ہوتے،عزیزوں کی بھی تعریف کر کے ان کی حوصلہ افزاءکرتے۔ موصوف اسلاف کے قدروں کے پاسدار اور کلاسیکی تہذیب کے امین تھے۔دل درد مند اور فکر ارجمند کے مالک تھے۔
حسن نواب کو علمی و ادبی ذوق وراثت میں ملا ہے۔ اس وراثت کا سلسلہ دبستان بہار کے ایک اہم شاعر بہار حسین آبادی تک پہنچتا ہے۔ اس اعتبار سے ان کے ادبی ذوق و شوق کی آبیاری میں ان کے دادیہالی بزرگوں سے زیادہ نانیہالی بزرگوں کا حصہ رہا ہے۔ ابتدا سے ہی انہیں گیا کی ادبی محفلوں میں بھی شرکت کا موقع ملا جو ترقی پسند تحریک کے حوالے منعقد ہوتی تھی۔ بعد کے دنوں میں کلام حیدر ی اور ان کے معاصرین کے ساتھ ان کا رابطہ رہا۔ مظفر پور اور پٹنہ میں قیام کے دوران بھی اہل ادب سے ان کی قربت رہی اور جب وہ مستقل طور پر پٹنہ میں رہنے لگے تو یہاں کی ادبی محفلوں کی جان بن گئے۳۰۰۲ءمیں رسالہ” سہیل“ گیا نے ان کی شخصیت اور شاعری سے متعلق ایک خاص نمبر شائع کیا جس کی خاصی پذیرائی ہوئی۔ اب تک ان کا کوئی شعری مجموعہ منظر عام پر نہیں آیا مگر اطلاعات کے مطابق تقریباً ڈیرھ سو نظموں کا ایک مجموعہ زیر اشاعت ہے۔
حسن نواب نے غزلیں بھی کہی ہیں اور نظمیں بھی۔ ان کا کلام تواترکے ساتھ ہندو پاک کے مختلف رسالوں میں شائع ہوتا رہا ہے۔ جس کے مطالعے سے یہ اندازہ لگانا دشوار نہیں کہ اردو کی کلاسیکی شاعری خصوصاً مرثیوں کے مطالعہ نے ان کے ذہن پر خاصے اثرات مرتب کئے ہیں۔ بہر حال میں نے بہ وجوہ اپنے ایک مضمون ( مطبوعہ ” سہیل گیا“ حسن نواب نمبر) میں انہیں نظم کاشاعرقرار دیا ہے اور ان کا امتیاز یہ بتایا ہے کہ وہ اپنے عہد کے تازہ ترین واقعات اور ٹوپیکل Issues کو تخلیقی حسن کے ساتھ اپنی نظموں میں پیش کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔ ان کی غزلوں میں بھی ایک تسلسل خیال ملتا ہے۔
انکے انتقال کی خبر سنتے ادبی حلقہ میں کہرام مچ گیا ۔ انکے انتقال پر اظہار تعزیت کرنے والوں میں فلیم کے صدر و معروف سرجن ڈاکٹر احمد عبد الحئی، اردو مشاورتی کمیٹی کے سابق صدر نشیں شفیع مشہدی، مولانا مظہر الحق عربی و فارسی یونیورسیٹی کے سبق شیخ الجامعہ ڈاکٹر اعجاز علی ارشد، ڈاکٹر عبد الصمد، ڈاکٹر قاسم خورشید ،اردو ڈائریکٹوریٹ کے ڈائریکٹر امتیاز احمد کریمی، معروف شاعر خورشید اکبر،بہار اردو اکادمی کے سکریٹری عظیم اللہ انصاری، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت ( بہار چیپٹر) کے صدر و سابق وزیر شمائل نبی ، روزنامہ قومی تنظیم کے مدیر اعلیٰ ایس ایم اشرف فرید، ایس ایم طارق فرید، روزنامہ پندار کے مدیر ریحان غنی، پروفیسر علیم اللہ حالی، بہار اردو اکادمی کے سابق سکریٹری مشتاق احمد نوری، بہار اردو اکادمی کے سابق سکریٹری شہراد انور انصاری، اردو ڈائریکٹوریٹ کے پروگرام آفیسر ڈاکٹر اسلم جاوداں، معروف صحافی راشد احمد ، حلقہ ادب بہار کے جنرل سکریٹری فخر الدین عارفی ، اردو کونسل ہند کے ناظم انوارالہدیٰ، علمی مجلس بہار کے جنرل سکریٹری پرویز عالم، بزم حفیظ بنارسی کے کنوینر رمیش کنول، اکبر رضا جمشید، کلیم اللہ کلیم دوست پوری،سابق وزیر ڈاکٹر شکیل الزماں انصاری، باری اعظمی، سید محمد قمر اسمٰعیل ، فہیم احمد ، ڈاکٹر اشرف النبی قیصر، شمیم قاسمی، بہار اردو یوتھ فورم کے صدر جاوید محمود ، مظہر عالم مخدومی، سید شکیل حسن ایڈووکیٹ، سید وجیہ الدین ،ڈاکٹر محبوب عالم، وغیرہ کے نام شامل ہیں۔

Leave a Reply