نئی دہلی: (ایم این این) لوک سبھا میں وزیرداخلہ امت شاہ کی جانب سے شہریت ترمیمی بل کو پیش کئے جانے کے دوران حزب اختلاف کے اراکین نے آئین کے بنیادی اقدار اور جمہورت کے ڈھانچے کو مجروع کرنے والا قرار دیتے ہوئے ہنگامہ کیا۔
حزب اختلاف کے ارکان نے کہاکہ یہ تاریخ کا سیاہ دن ہے اور ملک کو مسلم اور غیر مسلم میں تقسیم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔مغربی بنگال کے بہرامپور حلقے سے کانگریس کے رکن پارلیمان اور رہنما ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ یہ ایک ایسا بل ہے جس میں ایک مخصوص فرقہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہ پنڈت جواہر لال نہرو اور ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے خوابوں کی خلاف ورزی ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ بھارتی آئین کی خلاف ورزی ہے ۔ ہماری جمہوریت کے ڈھانچے کو برباد کرے گا۔یہ آئین کے تمہید پر حملہ ہے۔لوک سبھا میں کانگریس کے رہنما نے کہاکہ ہم اس بل کی مقننہ صلاحیت کی مخالفت کر رہے ہیں اور مذہب کی بنیاد پر تیار کئے گئے۔ اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں ۔’بل کے ذریعہ مخصوص طبقے کوہدف بنانے کی سازش’انہوں نے کہاک یہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 25 اور 26 کی خلاف ورزی ہے جو تمہید کے ڈھانچے پر حملہ ہے ۔ اس کے کئی التزام ہیں جو ایک دوسرے کے خلاف ہیں ۔اادھیررنجن چودھری نے کہا کہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 کی خلاف ورزی ہے جسے واپس لیا جانا چاہئے اور اس میں ایک فرقہ کا نام لیا جا رہا ہے۔اس سے ملک کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ قانون بنا کر ایک مخصوص طبقے کو نقصان پہچنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس بل میں کئی خامیاں ہیں۔ ان کی خامیو ں کی وجہ سے ایک خاص طبقے کوہدف بنانے کامقصد کیا ہے۔ادھیر رنجن چودھری کاکہاکہ اس بل سے جمہوریت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔جمہوریت میں تمام لوگوں کو یکساں شہریت حاصل ہے۔ لیکن بل کے ذریعہ ایک خاص طبقے کوہدف کیسے بنا سکتے ہیں۔واضح رہے کہ وزیرداخلہ امت شاہ نے پارلیمنٹ میں شہریت ترمیمی بل2019 پیش کی ۔ بل کے تحت پاکستان، افغانستان اور بنگلہ دیش سے31 دسمبرتک بھارت آنے والے ہندو،سکھ،عیسائی،بودھ،جین اور پارسی کوبلاشرئط شہریت دیے جانے کی بات کہی گئی ہے ۔

Leave a Reply