نئی دہلی: (پریس ریلیز ) جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے لوک سبھا سے منظور ہونے والے شہریت ترمیمی بل کی مذمت کی ہے۔ میڈیا کو جاری ایک بیان میں امیر جماعت نے کہا کہ ہم شہریت ترمیمی بل کی لوک سبھا میں منظوری کی مذمت کرتے ہیں ۔ ہمیں لگتا ہے کہ یہ بل فرقہ وارانہ ذہنیت کا نتیجہ ہے ۔ یہ بل متعصبانہ اور امتیازی سلوک والا ہے ۔ چوں کہ اس بل میں مسلمانوں کے علاوہ افغانستان ، پاکستان اور بنگلہ دیش سے آنے والے تمام غیر ملکی تارکین وطن کو شہریت دینے کی بات کہی گئی ہے ۔ یہ ہمارے ملک میں برسوں سے چلے آ رہے تنوّع میں اتحاد اور دستور کی بنیادی اقدار کی خلاف ورزی ہے ۔ شہریت حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کے درمیان مذہب کی بنیاد پر تفرق کرنا صرف دستور کے بنیادی ڈھا نچے ہی کے خلاف نہیں ، بلکہ انسانیت اور بنیادی انسانی اقدار کے بھی خلاف ہے ۔
سید سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بی جے پی کے علاوہ دیگر سیاسی پارٹیاں بھی اس قانون سازی کی حمایت کر رہی ہیں ۔ ہم ان سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی رائے پر نظر ثانی کریں اور راجیہ سبھا میں اس کی مخالفت کریں ۔ اس کے خلاف بین الاقوامی سطح پر مذمت ہوگی ، جو وقت کے ساتھ بڑھتی جائے گی ۔ یہ حقیت کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ سری لنکا اور برما میں اکثریتی طبقہ مسلمانوں کو ایذا پہنچا رہاہے ۔ اس صورت حال کو نظر انداز کر کے شہریت ترمیمی بل خود اپنی منطق کی آزمائش میں ناکام ہے اور ملک کو تعصب اور اسلامو فوبیا کے سامنے کم زور ظاہر کر رہا ہے ۔
امیر جماعت نے کہا کہ ہم مسلم برادری اور ملک کے تمام انصاف پسند عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ شہریت ترمیمی بل کو مسترد کریں ۔ جماعت اسلامی ہند تمام قانونی اور جمہوری اقدامات کے ذریعے شہریت ترمیمی بل کی مخالفت کرتی رہے گی ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ غیر بی جے پی سیاسی پار ٹیاں اس کے خطرناک نتائج کو سمجھیں گی اور پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا میں اس کی مخالفت کریں گی ۔

Leave a Reply