پٹنہ: شہریت ترمیمی بل ۹۱۰۲ء کی مخالفت میں بہار کی دینی و ملی تنظیموں کے ذمہ داروں اور اصحاب فکر و نظر کی ایک مشترکہ پریس کانفرنس امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ کے میٹنگ روم میں منعقد ہوئی ۔جس میں خصوصاً بہارکی جدیوکے رویے کی مذمت کی گئی ہے اور نتیش کمارسے مطالبہ کیاگیاہے کہ وہ راجیہ سبھامیں بل کے خلاف ووٹنگ کریں۔ اس پریس کانفرنس میں اپنے رد عمل کا اظہارکرتے ہوئے ملی تنظیموں کے ذمہ داروں نے کہا کہ شہریت ترمیمی بل ۹۱۰۲ء جسے پارلیامنٹ میں بھاجپا نے اپنی اکثریت کے بل پر پاس کروالیا، یہ ہندوستانی دستور کے بنیادی اصولوں اوردفعات کے خلاف ہے، دفعہ ۴۱ اور ۵۱ میں بھارت کے سبھی شہریوں کے حقوق یکساں قراردیئے گئے ہیں، اور اس میں مذہب کی بنیادپر کسی بھی تفریق کو درست نہیں قراردیاگیاہے، شہریت ترمیمی بل میں بغیر کسی دستاویز کے غیرقانونی طورپرداخل ہونے والے لوگوں کو جو ہندو، بودھ، عیسائی، جین، پارسی، سکھ مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، شہریت دی جائے گی،اس فہرست سے صرف مسلمانوں کو الگ رکھاگیاہے، جومذہب کی بنیادپر کھلی تفریق ہے،اس لیے حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ فوری طور پر اس سےاسی بل کو سردبستہ میں ڈال دے اور راجیہ سبھا میں نہ پیش کرے، کیونکہ یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں ، بلکہ ہندوستان کے دستور کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے، ساتھ ہی یہ ملک کی سیکورٹی کے لحاظ سے بھی خطرناک ہے ۔ دوسری بات یہ ہے سرکار نے اس بل کو پیش کرتے ہوئے مذہبی بنیاد پر استحصال کو بنیاد بنایاہے ، اگر یہ بات صحیح ہے تو صرف افغانستان ، بنگلہ دیش اور پاکستان ہی بھارت کے پڑوسی ملک نہیں ہیں ،بلکہ نیپال ، چین ، میانمار، سری لنکااور تبت وغیرہ بھی بھارت کے پڑوسی ممالک ہیں جہاں سے مذہبی بنیاد پر استحصال کا شکا ر لوگوں نے ترک وطن کیا ہے ،سری لنکا میں ہزاروںتمل استحصال کا شکار ہوئے، میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر ظلم کا شکار بنایا گیا ، تبت میں دلائی لاما اور ان کے عقیدت مندوں پر ظلم کیا گیا جس کی وجہ سے ان کو ترک وطن کر کے ہندوستا ن میں پناہ لینی پڑی۔ نیپال سے سیکڑوں گورکھا لوگوں کو پریشان ہو کر ترک وطن کرنا پڑا۔ ان سب کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا اگر ظلم و ستم اور استحصال ہی بنیاد ہے تو ؟ اس لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس بل کی ہرسطح پر مخالفت کریں، کیونکہ سیکولرملک میں حکومت کا اپنا کوئی مذہب نہیں ہوتا، ہم تمام مسلم تنظیموں کے ذمہ داراس بل کی پرزور مخالفت کرتے ہیں، اوریہ واضح کردیناچاہتے ہیں کہ ہم ان تمام سیکولر لوگوں اورشمال مشرق کی ان ریاستوں کے ساتھ ہیں جو اس بل کی مخالفت کررہے ہیں، ہم ان تمام سیاسی پارٹیوں کی تعریف کرتے ہیں جنہوں اس بل کے خطرناک اورمذہب کی بنیاد پر تفریق کے حکومت کے رجحان کو بروقت سمجھا اورپارلیامنٹ میں اس بل کے خلاف دلائل دیئے اوراسے نامنظور کرانے کی ہرممکن کوشش کی، ذمہ داروں نے اترپورب کی ان تمام ریاستوں کے خطرات اورخدشات کو درست قرار دیاہے جواس بل کے خلاف تحریک چلارہے ہیں، اس سلسلے میں امیت شاہ کے اس بیان کوقابل اعتماد نہیں سمجھناچاہئے جووہ اترپورب کی ان ریاستوں کے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ ان کو اس قانون سے الگ رکھاجائے گا،حکومت کی منشااگریہی ہوتی توبل میں اس کی صراحت کی جاتی، حالانکہ ایسانہیں ہے، مسودہ پارلیامنٹ میں منظور ہوگیاہے اورسب کے سامنے ہے، پارلیامنٹ میں دیاگیاکوئی بیان اورکسی قسم کی یقین دہانی قانون کے متوازی نہیں ہوتی اوراس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، سوائے اس کے کہ وہ پارلیامنٹ کی بحثوں کاحصہ بنا کر باقی رکھاجاتاہے۔ ہمیں جنتادل یوسے ایسی توقع نہیں تھی کہ وہ بھی فرقہ وارانہ بنیادوں پر مبنی اس شہریت ترمیمی بل کی حمایت میں ووٹ دے گی، اب بھی وقت ہے، جدیوسے ہمارا مطالبہ ہے کہ وہ راجیہ سبھا میں ہرسطح پر ایسی کوشش کرے کہ یہ بل راجیہ سبھاسے پاس نہ ہو؛تاکہ انصاف اوردستور کی بالاتری اوربالادستی برقراررہے۔ ہم اس بات پر اطمینان کااظہار کیاکہ مختلف سطح پر بہار اور بہار کے باہر اس بل کے خلاف احتجاج مظاہرہ اوردھرنا شروع ہوگیاہے، اورمختلف سطح پر مختلف افراد کے ذریعہ اجتماعی اورانفرادی کوششیں کی جارہی ہیں ،ہم سب ان کوششوں کی قدرکرتے ہیں اورتوقع کرتے ہیں کہ ہرسطح سے اس بل کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے سے کوئی راہ اسے کالعدم کرنے یاواپس لینے کی بن سکے گی۔ سرکار کو اس بل کے خلاف اٹھ رہی آوازوں کو سمجھنا چاہئے۔ سبھی تنظیموں کے ذمہ داروں نے مشترکہ طور پرمندرجہ ذیل مطالبات اور اپیل کیے۔ بی جے پی اس بل کو واپس لے او ر راجیہ سبھا میں اس کو پیش نہ کرے۔تمام سیاسی پارٹیاں راجیہ سبھا میں اس بل کی کھلی مخالفت کریں اور اس کے خلاف ووٹ دےں۔سرکار کو چاہیے کہ آئین پر عمل کرے اور ملک کو اس بل کے ذریعہ نئی تقسیم کی آگ میں نہ جھونکے۔ ملک کے تمام محب وطن اور آئین پر بھروسہ رکھنے والوں سے اپیل ہے کہ وہ ملک اور آئین کی حفاظت کے لیے سامنے آئیں اور جمہوریت میں دیے گئے اختیارات کااستعمال کرتے ہوئے مضبوط حکمت عملی بنائیں۔ اس پریس کانفرنس میں مولانامحمد شبلی القاسمی قائم مقام ناظم امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ، سید حسن احمد قادری ناظم اعلی جمعیة علماءبہار،رضوان احمد اصلاحی امیر جماعت اسلامی ہند بہار، انوار الہدیٰ سکریٹری مسلم مجلس مشاورت، سید شاہ تقی الدین احمد فردوسی منیر شریف ،سید امانت حسین مجلس علماء و خطباء امامیہ پٹنہ (اہل تشع)،مولانا ابو الکلام قاسمی سابق پرنسپل مدرسہ اسلامیہ شمس الہدیٰ پٹنہ، مولانا ڈاکٹر شکیل احمد قاسمی امام و خطیب شاہ گدی مسجد پٹنہ، مولانا اعجاز کریم صاحب صدر تنظیم ائمہ مساجد، مولانا مفتی محمد ثناءالہدیٰ قاسمی نائب ناظم امارت شرعیہ، مولاناسہیل احمد ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ، مولانا مفتی محمد سہراب ندوی نائب ناظم امارت شرعیہ، مولانا سہیل احمد قاسمی صدر مفتی امارت شرعیہ، مولانا سہیل اختر قاسمی نائب قاضی امارت شرعیہ، مولانا احمد حسین صاحب معاون ناظم امارت شرعیہ ، جناب سمیع الحق صاحب نائب انچارج بیت المال امارت شرعیہ شریک تھے۔

Leave a Reply