بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے جامعہ کے طلبا پر لاٹھی چارج کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ آئین کی حفاظت کے لیے نکلے تھے، ان پر لاٹھی چارج کرنا غلط۔
شہریت قانون میں ترمیم کے خلاف علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبا احتجاجی مظاہرہ کر ہی رہے ہیں، اب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا بھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ جمعرات کی شام سے ہی انھوں نے اس کے خلاف احتجاجی مظاہرہ شروع کر دیا تھا جس نے جمعہ کے روز بڑی شکل اختیار کر لی۔ اس مظاہرے میں طالبات نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مرکز کی مودی حکومت کے خلاف نعرے لگاتی ہوئی نظر آئیں۔ اس درمیان پولس و طلبا کے درمیان زبردست جھڑپ کی خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کئی طلبا کو پولس نے حراست میں لے لیا ہے۔
کچھ نیوز پورٹل پر شائع خبروں کے مطابق جامعہ ملیہ اسلامیہ (جے ایم آئی) کے ہزاروں طلبا و طالبات شہریت قانون کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف مارچ کر رہے تھے لیکن پولس نے انھیں راستے میں ہی روک لیا۔ جب طلبا نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولس نے انھیں طاقت کا استعمال کرتے ہوئے روکا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولس پر طلبا نے پتھراؤ بھی کیا کیونکہ انھیں روکنے کے لیے پولس نے آنسو گیس کے گولے داغے۔ خبروں کے مطابق پولس نے کارروائی کرتے ہوئے کئی طلبا پر لاٹھی چارج کیا جس میں کچھ کو زبردست چوٹیں آئیں۔ کچھ زخمی طلبا کا علاج اسپتال میں چل رہا ہے۔
جامعہ کے طلبا پر ہوئی لاٹھی چارج پر آر جے ڈی لیڈر اور بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اس سلسلے میں ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبا ہندوستانی آئین کو بچانے کے لیے اور شہریت قانون میں ترمیم کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی جانب مارچ کر رہے تھے جب ان پر حملہ کیا گیا۔ میں اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔‘‘
I strongly condemn the assault on spirited Jamia Millia Islamia students who were assembled to march towards Parliament to protect Indian constitution, the idea of India and to protest against the #CitizenshipAmmendmentBill2019. #CABProtests
— Tejashwi Yadav (@yadavtejashwi) December 13, 2019

Leave a Reply