جامعہ کے طالب علم نے شرٹ اتار کر پولس بربریت کے خلاف احتجاج کیا ۔ کہا ”آؤ مجھے بھی پیٹو“






نئی دہلی: (ملت ٹائمز) دہلی پولس کی بربریت کے خلاف جامعہ ملیہ اسلامیہ کا ایک طالب علم آج علی الصبح شرٹ اتار کر یونیورسٹی کے دروازے پر بیٹھ گیا ہے۔ اس نے مطالبہ کیا ہے کہ اتوار کے روز جامعہ طلبا کے ساتھ جس طرح کی ظالمانہ کارروائی پولس نے کی ہے، ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ کچھ میڈیا ذرائع کے مطابق شرٹ اتارنے والے طالب علم نے پولس کی کارروائی کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے کہا کہ ”آﺅ مجھے بھی پیٹو۔“

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں متنازع شہریت ایکٹ کے خلاف طلبہ وطالبات پر امن احتجاج کرررہے تھے جن پر پولس نے پہلے آنس گیس کا استعمال کیا اس کے بعد کیمپس میں داخل کر ہوکر طلبہ پر لاٹھی چارج کیا ۔ تقریباتین سو آنسوگیس کے گولے داغے گئے ، لاٹھی چارج کی گئی طلبہ نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی لیکن پولس نے بھاگنے بھی نہیں دیا اور ان کی اندھا دھند پٹائی کی ۔ کچھ طلبہ نے لائبریری اور مسجد میں پنا لینے کی کوشش کی لیکن پولس وہاں بھی جاپہونچی ۔ملت ٹائمز کے نمائندہ منورعالم وہاں موجود تھے جنہوں نے دیکھا کہ پولس نے جامعہ کی مسجد میں داخل ہوکر طلبہ او روہاں موجود مصلیوں کی پٹائی کی مسجد کے امام پر بھی پولس نے حملہ کیا ،لاٹھی چارج کیا جس میں مسجد کی گھڑی ، اوقات صلوة اور دیگر کئی طرح کے سامان کو بھی نقصان پہونچا ہے ۔ پولس نے جامعہ کی لائبری میں بھی داخل ہوکر طلبہ پر ظالمانہ حملہ کیا ۔تفصیلات کے مطابق دو طالب علم کی موت ہوچکی ہے ایک شاکر اوردوسرے عائشہ جبکہ درجنوں طلبہ شدید زخمی ہیں ۔ بیس سے زائد طلبہ کو پولس نے تھانے میں بند کررکھا ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *