جامعہ ہمدرد کے طلباء کا جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء کے ساتھ اظہار ہمدردی کیمپس کے اندر طلبہ کے جم غفیر نے پر امن جلوس کے ذریعہ درج کیا احتجاج






نئی دہلی: متنازع شہریت ترمیمی قانون اور متوقع این آر سی کے خلاف ملک بھر میں اجتجاج کا سلسلہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ملک کے دارالحکومت دہلی میں واقع سنٹرل یونیورسیٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں گزشتہ کل پولس کی مبینہ دراندازی کے بعد مختلف مقامات پر طلبا ء تحریک زور پکڑنے لگی ہے۔ علی گڑھ ، ممبئی ، حیدرآباد، جاداو پور، کیرل وغیرہ کے بعد اب ڈی یو اور جامعہ ہمدرد کے طلباء بھی اس میں شامل ہو رہے ہیں۔آج دوپہر جامعہ ہمدرد کے گیارہ اسکولوں سے ہزاروں طلباء نے پر امن احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی اور (CAB) کے خلاف اپنے غم وغصے کا اظہار کیا۔مظاہرین میں بڑی تعداد میں جامعہ کے طلبہ وطالبات نے بھر پور حصہ لیا اور جامعہ ملیہ کے سانحہ پر شدید غصے کا اظہار کیا۔پولس کی زیادتیوں پر طلباء نے جامعہ ملیہ کے زخمی متاثرین کے ساتھ ہمدردی جتائی اور اس اقدام کی شدید مذمت کی۔واضح رہے کہ جے ایم آئی اور اے ایم یو میں طلباء کے پرامن مظاہروں کے دوران متعدد طالبات کے ساتھ سیکورٹی دستوں کے نازیبا سلوک کی خبریں بھی گردش کررہی ہیں۔ “Stand with JMI”کے پلے کارڈز کے ساتھ طلبائے جامعہ ہمدرد نے شہریت بل کی مخالفت میں ہر ممکن تعاون کا عندیہ ظاہر کیا۔تازہ ترین معلومات کے مطابق جامعہ ہمدرد میں کل مورخہ 17 دسمبر کو حکیم محمد سعید سنٹرل لائبریری گیٹ نمبر 6 پر جلوس متوقع ہے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *