نئی دہلی: (ملت ٹائمز) شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک بھر میں مظاہرے جاری ہیں۔ شمال مشرقی دہلی کے سیلم پور اور جعفرآباد علاقے میں بڑے پیمانے پر لوگوں نے شدید مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ نئے شہریت کے قانون واپس لیا جائے۔
اطلاعات کے مطابق مظاہرے کے دوران متعدد گاڑیوں کے شیشے توڑ دیئے گئے۔ جبکہ پتھراو ¿ کے نتیجے میں کچھ پولس اہلکار اور مظاہرین زخمی ہو گئے۔ تاہم، اب صورتحال قابو میں ہے۔ پولس نے کہا کہ ’شرپسندوں‘ کو موقع سے ہٹا دیا گیا ہے، کئی گھنٹے بند رکھے جانے کے بعد دہلی میٹرو کا سیلم پور اسٹیشن کھول دیا گیا ہے۔
قبل ازیں، پولس کی جانب سے بھیڑ کو قابو کرنے کے لئے آنسو گیس کے گولے داغے گئے۔ احتجاج کی وجہ سے سیلم پور تا جعفرآباد روڈ کو بند کر دیا گیا تھا۔ احتجاج میں شریک اویس سلطان نے ملت ٹائمز کو بتایاکہ عوام پرامن احتجاج کررہے تھے جہاں باہر کے کچھ لوگوں نے آکر توڑ پھوڑ کیا اور تشدد کا مظاہرہ کیا ۔ سلیم پور کے عوام پرامن احتجاج کررہے تھے ۔تشدد کی وجہ سے پولس نے پورے علاقے کو اپنے محاصرہ میں لیکر کارروائی شروع کر دی تھی۔ احتجاج کی وجہ سے سیلم پور، جعفرآباد، ویلکم ، موج پور، بابرپور، گوکلپوری سمیت متعدد میٹرو اسٹیشنوں کو عارضی طور پر بند کر دیا تھا۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق سیلم پور میں احتجاج ایک بجے شروع ہوا۔ اس دوران بہت سے لوگ ہاتھوں میں ترنگا لے کر مظاہرہ کر رہے تھے اور نئے شہریت قانون کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اسی دوران کچھ باہر کے لوگوں نے بس کے مسافروں پرحملہ اور پتھراﺅ کردیا جسے مظاہرین نے بچانے کاکام کیا ۔اس دوران پولس نے متعدد مظاہرین کو تحویل میں لے لیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اضافی پولس فورس تعینات کر دی گئی ہے۔ ڈرون کیمرے کے ذریعے پورے علاقے میں نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔ وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق، مظاہرہ دوپہر 2 بجے کیا جانا تھا، اس کے لئے بھیڑ جمع ہو گئی۔ اس دوران تشدد شروع ہو گیاتاہم وہاں موجودہ عینی شاہدین کا کہناہے کہ تشدد کا مظاہرین سے کوئی تعلق نہیں ہے، یا باہر کے لوگ تھے جنہوں نے ماحول خراب کیاہے ۔

Leave a Reply