حیدرآباد: شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مختلف تنظیموں کا مشترکہ احتجاج، 50 افراد سے زائد گرفتار






ڈی سی پی ساؤتھ زون اویناش کمار موہنتی نے کہا کہ حیدرآباد کے ساؤتھ زون علاقہ میں کسی بھی قسم کی ریلیوں اور جلوس پر پابندی ہے، کسی بھی تنظیم کو احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

حیدرآباد: شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج پر شہر حیدرآباد کے تاریخی چارمینار کے قریب احتجاجیوں کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ یہ احتجاجی، شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف برہمی ظاہر کر رہے تھے۔

ان احتجاجیوں میں لڑکیاں اور خواتین بھی شامل تھیں۔ پولیس نے 50 مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔ ڈی سی پی ساؤتھ زون اویناش کمار موہنتی نے کہا کہ حیدرآباد کے ساؤتھ زون علاقہ میں کسی بھی قسم کی ریلیوں اور جلوس پر پابندی ہے، کسی بھی تنظیم کو احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

انہوں نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہوں پر کام نہ دھریں کیونکہ کسی بھی قسم کے احتجاج کی پولیس کی جانب سے اجازت نہیں دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار مینار کے قریب بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوگئے تھے، بعض کو واپس کر دیا گیا اور ایسا نہ کرنے والوں کو حراست میں لے لیا گیا۔ اسی دوران پولیس نے تلنگانہ جناسمیتی، سیول لبرٹیز کے لیڈروں اور پیپلز یونین کے لیڈروں کو بھی گرفتار کرلیا۔ یہ گرفتاری تلنگانہ جنا سمیتی کے دفترکے قریب عمل میں آئی۔

شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی ایکٹ کے خلاف احتجاج کے لئے بڑی تعداد میں لوگ اور ان جماعتوں کے لیڈران جمع ہوگئے جنہوں نے مرکزی حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ پولیس نے ان تمام کو گرفتارکرتے ہوئے رام گوپال پیٹ پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔ اس قانون کے خلاف احتجاج کے موقع پر پولیس نے بائیں بازو کے لیڈروں اور دیگر تنظیموں کے لیڈروں و کارکنوں کو بھی حراست میں لے لیا۔ نامپلی نمائش میدان سے باغ عامہ تک ریلی نکالنے کی بائیں بازو کی جماعتوں نے اپیل کی تھی جس پر نامپلی کے قریب پولیس کو بڑے پیمانہ پر تعینات کردیا گیا۔

پولیس نے اس ریلی میں حصہ لینے کے لئے آنے والوں بشمول برقعہ پوش مسلم لڑکیوں اور خواتین کو بھی حراست میں لے لیا۔ سابق رکن پارلیمنٹ و سی پی آئی رہنما عزیر پاشاہ سمیت طلبہ، نوجوانوں اور طلبہ تنظیموں کے لیڈروں کو بھی حراست میں لے لیا۔ ان احتجاجیوں نے اس موقع پر شہریت ترمیمی قانون کو واپس لینے کا مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا۔ علاوہ ازیں اس ریلی میں شرکت کے لئے جانے والے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے 50 طلبہ کو بھی پولیس نے گرفتار کرلیا۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے یونیورسٹی کے طلبہ نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر شہریت ترمیمی قانون کو واپس لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک کسی بھی مذہب کا نہیں ہے بلکہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کا یہ ملک ہے۔ اس ملک میں پیدا ہونے والا ہر کوئی فرد اس ملک کا شہری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ احتجاج، اس قانون کو واپس لینے تک جاری رہے گا۔ انہوں نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مذہب اور ذات کے نام پر مودی اور امت شاہ سازش کر رہے ہیں۔

بائیں بازو کی اپیل پر اس ریلی میں شرکت کے لئے آنے والے نوجوانوں نے میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے اس قانون کے خلاف چارمینار سے ریلی کی اجازت مانگی گئی تھی، بعد ازاں نمائش گراونڈ کے قریب ریلی کی اجازت دی گئی تھی تاہم نمائش گراؤنڈ کے قریب جب وہ ریلی کے لئے پہنچ رہے تھے تو ان کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت نے یکطرفہ طور پر اس بل کو منظوری دے دی ہے۔ یہ بل دستور کی دفعہ 14 کے خلاف ہے۔ اس بل کے ذریعہ مساوات کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک مذہبی ملک نہیں ہے بلکہ سیکولر ملک ہے۔ اس قانون کے ذریعہ ہندوستان کی گنگا-جمنی تہذیب کو پارہ پارہ کیا جا رہا ہے۔ اس وقت ملک کی اپوزیشن کمزور ہوگئی ہے۔ عوام ہی سب سے بڑی اپوزیشن ہے اور تمام عوام سڑکوں پر آئیں۔ اس قانون کو ہندو، مسلم کے نظریہ سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ان مظاہرین نے پولیس کی زیادتی کی مخالفت کی اور پولیس ظلم بند کرو کے نعرے بھی لگائے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *