راجستھان میں اجمیر میں واقع حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے سجادہ نشين اور درگاہ دیوان سید زین العابدین نے کہا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کسی بھی طرح سے ملک کے مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے!
اجمیر: (یو این آئی) راجستھان میں اجمیر میں واقع حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کے سجادہ نشين اور درگاہ دیوان سید زین العابدین نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت نے جو شہریت ترمیمی قانون بنایا ہے وہ کسی بھی طرح سے ملک کے مسلمانوں کے خلاف نہیں ہے۔
درگاہ کے سجادہ نشین نے آج جاری بیان میں کہا کہ اس قانون سے ہندوستان میں رہنے والے کسی بھی مسلمان کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں اس قانون سے کسی بھی طرح کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو ملک میں قانون بنانے کا حق ہے اور ملک کے عوام کو اس کا احترام کرنا چاہئے۔
جناب عابدین نے کہا کہ مسلمانوں کے ڈر اور شک کو دور کرنے کے لئے ایک ‘اعلی اختیار یافتہ کمیٹی’ تشکیل دی جانی چاہئے جو پورے ملک میں گھوم کر اس قانون کے بارے میں شکایات سن کر ایک رپورٹ سرکار کو پیش کرے اور حکومت اسے پارلیمنٹ میں پیش کرکے ملک میں پھیلے ہوئے ڈر اور شبہات کو دور کرنے کے بعد اس قانون کو نافذ کرے او ر تب تک اس کے نفاذ کو روکا جائے۔
انہوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ہوئے واقعات پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے حکومت ہند سے درخواست کی کہ وہ پولیس کے لئے رہنما اصول جاری کرے تاکہ ملک کے کسی بھی تعلیمی ادارے میں طلبا کے ساتھ مجرموں اور دہشت گردوں جیسا برتاؤ نہ ہو۔ انہوں نے طلبا سے سے بھی درخواست کی کہ وہ تشدد کا راستہ اختیار نہ کریں اور قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ درگاہ کےدیوان نے ملک کے عوام سے امن و امان قائم رکھتے ہوئے ملک کے اتحاد اور سالمیت کو ہر قیمت پر بنائے رکھنے کی درخواست کی۔

Leave a Reply