امارت شرعیہ کے قریب مظاہرین پر پتھراؤ ، نو افراد زخمی، بہار کے اورنگ آباد میں پولیس کا تشدد   آنسوگیس کا استعمال، لاٹھی چارج اور مسلم محلے میں گرفتاریاں، مونگیر میں مظاہرین پر سنگ باری






پٹنہ/مونگیر/ اورنگ آباد: شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف پورے ملک سمیت بہار میں بھی زور دار مظاہرے ہورہے ہیں ،آرجے ڈی اورمہاگٹھ بندھن کی طرف سے بلائے گئے احتجا ج میں امارت شرعیہ،خانقاہ مجیبیہ سمیت اہم اداروں نے پٹنہ میںاحتجا ج کیا۔اس درمیان پھلواری شریف پٹنہ میں دوسری طرف سے سنگ باری کے نتیجے میں حالات پرتشدد ہوگئے اور نو افراد زخمی ہوگئے، مزید اورنگ آباد بہار میں لاٹھی چارج، آنسو گیس کے بعد پولیس مسلسل مسلم محلے میں گھروں میں گرفتاریاں کررہی ہے۔ وہ گاڑیوں پر توڑ پھوڑ کرتی بھی نظرآئی۔ ادھرمونگیرکے احتجاج سے واپس آتے ہوئے مظاہرین پرشرپسندوں نے چھتوں سے پتھربازی شروع کردی ،انتظامی مداخلت کے بعدحالات قابومیں آگئے۔تفصیلات کے مطابق امارت شرعیہ سے متصل پرامن مظاہرہ کرتے ہوئے افراد پرشرپسندعناصرکی طر ف سے سنگ باری اورتشددکیے گئے ۔جس میں نوافرادکے زخمی ہونے کی اطلاع ہے ،امارت شرعیہ نے فی الفورزخمیوں کوہسپتال میں بھرتی کرایا۔ امیرشریعت مولانامحمدولی رحمانی نے پھلواری کے حالات پروزیراعلیٰ سے بات کی،مسلسل ان کے رابطے میں رہ کر نظم ونسق کا جائزہ لیتے رہے، ڈی آئی جی سمیت اعلیٰ افسران اورلیڈران پر حالات کوسنبھالنے اور سنگھی مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا پریشر بنایا، جس کے بعدپولیس نے کارروائی کرکے حالات کوقابومیں کیا،لیکن کشیدگی جاری ہے ۔ امیرشریعت حالات کامسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔دوسری طرف مونگیر میں احتجاج کیاگیا جس میں خانقاہ رحمانی اور دیگر اداروں کے ساتھ پوراشہر سراپااحتجاج ہوا، خبر ملی ہے کہ مظاہرین جب واپس آرہے تھے تولوگوں نے اوپرچھتوں سے مظاہرین پرسنگ باری کی،پولیس نے فوراََحالات سنبھال لیے۔اس کے علاوہ بہارکے شہراورنگ آباد میں پولیس مسلم محلے میں گھروں میںداخل ہوکرعورتوں تک کوگرفتارکررہی ہے۔اس نے مظاہرے کے دوران آنسوگیس کا استعمال کیا، اس کے علاوہ ویڈیومیں پولیس کنارے کھڑی گاڑیوں پربھی لاٹھی برساتی نظر آئی۔ واضح ہوکہ کئی جگہوں سے مظاہرین پرمبینہ طور پر آرایس ایس ، بجرنگ دل کے عناصرکی طرف سے تشددکی خبریں آنی لگی ہیں،جوانتہائی تشویشناک ہیں۔ اس سے پہلے کل بنگال میں پانچ مبینہ سنگھی پتھرباز تشدد کرتے ہوئے گرفتار ہوچکے ہیں ، اندیشہ ہے کہ صفوں میں گھس کر یا دوسری طرف ہوکر ہندو، مسلم بنانے کے لیے یہ حرکتیں تیز کی جائیں گی اور پر امن مظاہرین کو بدنام کیا جائے گا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *