بہار: پھلواری شریف میں مظاہرین پر فائرنگ، ایک درجن سے زیادہ زخمی، حالات کشیدہ






پٹنہ: (فضل المبین / ملت ٹائمز) شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور این آر سی (قومی رجسٹر برائے شہریت) کے خلاف ملک بھر میں پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ ہفتہ کے روز بھی جاری رہا۔ ہفتہ کے روز بہار کے پھلواری شریف میں مظاہرے کے دوران پولس اور دوسرے فرقہ کے لوگوں کی طرف سے کی گئی فائرنگ میں ایک شخص کے ہلاک ہونے اور 20 سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے، حالانکہ ہلاکت کی تاحال تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔
زخمیوں میں سے متعدد کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے اور انہیں پٹنہ ایمس کے ٹراما سینٹر میں داخل کرایا گیا ہے۔ قبل ازیں، جمعہ کے روز مظاہروں کے دوران پولس کی کارروائی میں اتر پردیش میں اب تک 15 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ اس واقعہ کے بعد سے علاقہ کے حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق عمارت شرعیہ، پھلواری شریف کے زیر اہتمام مسلمانوں کی طرف سے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف مظاہرے نکالنے کا پروگرام بنایا گیا تھا۔ مسجد سے اعلان کرتے ہوئے سبھی سے یہ تلقین بھی کی گئی تھی کہ مظاہرے کے دوران کسی بھی طرح کی بد امنی نہیں ہونی چاہیے۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق عمارت شرعیہ سے پرامن جلوس نکلنا شروع ہوا۔ لیکن آر ایس ایس (راشٹریہ سوم سیوک سنگھ) کے ایک اسکول پر پہنچنے کے بعد کچھ شرارتی عناصر نے چھتوں سے مظاہرین پر پتھراؤ شروع کر دیا جس سے افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ اسی دوران مظاہرین پر فائرنگ بھی کی جانے لگی۔ لوگوں کا خیال ہے کہ فائرنگ دوسرے فرقہ کے لوگوں نے کی۔ جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ پولس کی جانب سے بھی مظاہرین پر فائرنگ کی گئی ہے، جس کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے۔
ہارون نگر کے رہائشی سینئر صحافی شیث احمد نے قومی آواز کو بتایا کہ ’’مسلمانوں کی طرف سے جلوس پُر امن طریقہ سے نکالا جا رہا تھا لیکن آر ایس ایس سے منسلک ایک اسکول کے نزدیک پہنچتے ہی ان پر پتھراؤ ہونے لگا اور گولی بھی چلا دی گئی۔ وہیں پر ’مہاویر کینسر سنستھان‘ نامی ایک اسپتال ہے وہاں سے بھی مظاہرین پر فائرنگ کی گئی۔‘‘ دریں اثنا، ہندو فرقہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایک مندر میں مظاہرین کی طرف سے توڑ پھوڑ کی گئی لیکن مسلمانوں نے ایسے کسی واقعہ کی تردید کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق پتھرؤ، فائرنگ اور لاٹھی چارج سے بچنے کے لئے لوگ عمارت شرعیہ کے اندر داخل ہوگئے تو وہاں بھی پولس نے اپنی کارروائی کو جاری رکھا۔ دریں اثنا، ہارون نگر سیکٹر ایک میں ریٹائرڈ افسر محمد قربان (جن کی عمر 70 سال سے زیادہ ہے) کو بھی زد و کوب کیے جانے کی اطلاع ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے سر پر لاٹھی سے حملہ کیا گیا تھا جس سے بچنے کے لیے انھوں نے دونوں ہاتھ سر پر رکھا۔ قومی آواز کو موصولہ اطلاع کے مطابق محمد قربان کے ہاتھوں پر کافی چوٹ لگی ہے اور فوری طور پر ان کی مرحم پٹی کرنی پڑی۔ علاوہ ازیں پولس کی جانب سے بچوں اور عورتوں کو بھی پریشان کیا گیا ہے۔ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہارون نگر کی مسجد میں بھی شرپسندوں کی جانب سے نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔
پھُلواری شریف کے ایک عام آدمی کے مطابق ”میں مظاہرے سے قبل عمارت شرعیہ میں موجود تھا۔ مسجد سے اعلان کیا گیا تھا کہ احتجاج پُر امن ہونا چاہیے کیوں کہ تشدد کا نقصان تحریک کو ہی ہوگا۔ اچانک چھت کے اوپر سے اینٹ اور پتھر برسنے لگے۔ اس کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی۔ 15-16 لوگوں کو زخمی ہونے کے بعد وہاں لایا گیا۔ کچھ کو گولی لگی، کچھ کے سروں پر پتھر لگے۔ اس دوران صرف مسلم طبقہ کے لوگ ہی زخمی ہوئے ہیں۔ ایمبولنس میں جن لوگوں کو لے جایا گیا ہے ان سبھی کی حالت نازک ہے۔‘‘

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *