کانگریس کا یوگی سے معافی کا مطالبہ، تشدد کی انکوائری سپریم کورٹ کے جج سے کرائی جائے






بدلہ لینے‘ جیسے جملے کا استعمال کرنے پر یوگی سے بلاشرط معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے راجیہ سبھا رکن آنند شرما نے یوپی میں ہوئے تشدد کی جانچ سپریم کورٹ کے جج سے کرانے کا مطالبہ کیا

لکھنؤ: شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف احتجاج کرنے والے افراد کے خلاف ’بدلہ لینے‘ جیسے جملے کا استعمال کرنے پر یوگی آدتیہ ناتھ سے بلاشرط معافی مانگنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر لیڈر و راجیہ سبھا رکن آنند شرما نے یوپی میں ہوئے تشدد کی جانچ سپریم کورٹ کے جج سے کرانے کا مطالبہ کیا۔

آنند شرما نے کہا کہ یوپی میں شہریت (ترمیمی) قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران مارے گئے 21 افراد کی موت پر تنازع ہے اور یہ سوال اٹھتا ہے کہ احتجاج کے دوران جو افراد مارے گئے ہیں آیاان پر پولیس کی جانب سے فائرنگ کی گئی ہے یاپھر کسی اور نے فائرنگ کی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں سچ صرف سپریم کورٹ جج کی انکوائری کے بعد ہی سامنے آسکتا ہے۔

جمعرات کو یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی بھی این پی آر کی موجودہ شکل کی مخالفت کرتی ہے۔انہوں نے یوپی وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے مظاہرین سے ’بدلہ لینے‘ جیسے جملہ استعمال کرنے کی مذمت کی۔

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ سے بلا شرط معافی کا مطالبہ کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ ’’ ایک شخص بھگوا لباس زیب تن کررکھا ہو تو اس کے لئے ایسے جملے زیب نہیں دیتے۔بدلہ لینے جیسا جملہ آئینی اقدار کے خلاف ہے اور ایسا شخص ریاست کی اقتدار پر فائز ہونےکا مجاز نہیں ہے‘‘

کانگریس لیڈر نے بی جے پی کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت سی اے اے اور این پی آر سماج کو فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کرنے کے لئے لے کر آئی ہے انہوں نےسوال کیا کہ جب اگلے سال مردم شماری ہونی تھی تو پھر اس سال این پی آر لانے کا کیا مطلب ہے؟ یہ صرف سماج کے اندر خوف پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے۔

مودی کے اس بیا ن کی این آر سی پر حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی بات نہیں ہوئے ہے کا تذکرہ کرتے ہوئے مسٹر شرما نے کہا کہ حکومت نے کم سے کم 9 بار پارلیمنٹ میں این آر سی کے معاملے کو اٹھایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی اے اے کو لانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی آئین کے اندر ایسے قوانین موجود ہیں جن کے تحت حکومت شہریت دے سکتی ہے۔

انہوں نے دعوی کیا کہ حکومت کا سی اے اے لانے کی منشی صرف ملک کے اندر ایک خاص کمیونٹی کو ٹارگیٹ کرنے کا ہے۔ورنہ حکومت نے صرف تین ممالک کو ہی کیوں شامل کیا اور سری لنکا و میانمار کو کیوں چھوڑ دیا۔ جبکہ ان ممالک سے بھی ہجرت کرنےوالے افراد ملک میں موجود ہیں۔

کانگریس لیڈرنے دو ٹوک انداز اپناتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی سی اے اے/این پی آر/این آر سی کے معاملے میں کسی بھی جانب سے کسی بھی قسم کے دباؤ میں نہیں آئے گی اور اس ضمن میں غریبوں،کسانوں و اقلیتوں کے فکر مندی کو دور کرنے کے لئے پارلیمنٹ کے اندر وسڑکوں پر اس کے خلاف اپنے احتجاج کو جاری رکھے گی۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *