نئی دہلی: ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں آل انڈیا ملی کونسل نے انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز کے کانفرنس ہال میں ایک اہم ترین اجلاس طلب کیا، جس میں کونسل کی مجلس عاملہ کے ارکان کے علاوہ مختلف ملی تنظیموں کے فعال کارکنان اور کئی مذاہب کے نمائندگان نے شرکت کی اور متعدد مسائل کے ساتھ شہریت ترمیمی قانون، این آر پی اور این آر سی کے خلاف چلائی جارہی ملک گیر مہم کے مختلف پہلوؤں پر سنجیدہ تبادلہئ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر اس بات کی شدید مذمت کی گئی کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے لیے چلائی جارہی تحریک کو سرکار کچلنے اور سبوتاژ کرنے کے لیے اکثر وبیشتر بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں پولس وانتظامیہ کا غلط استعمال کر رہی ہے، جو انتہائی تکلیف دہ اور ناقابل برداشت ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ یہ لڑائی سبھی شہریوں کی اجتمائی لڑائی ہے اور جو ملکی آئین کی تمہید میں دی گئی ضمانتوں کے عین مطابق ہے، کسی خاص مذہب اور فرقے کی عینک سے اسے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ ملی کونسل کے موجودہ ذمہ داران اور دیگر مذاہب کے نمائندگان کے باہم تبادلہئ خیال اور متفقہ آراء کے ساتھ دستور کی روح اور آئین کے حدود میں رہتے ہوئے مختلف پہلوؤں پر غور وفکر کے ساتھ ایک 9/ رکنی مرکزی رابطہ کمیٹی کا قیام عمل میں آیا، جس کے کوارڈنیٹر، معروف حقوق انسانی تنظیم کے ذمہ دار اور قانون داں، این ڈی پنچولی بنائے گئے ہیں اور کمیٹی کا کو-کوارڈنیٹر، جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کی پروفیسر حسینہ حاشیہ کو بنایا گیا ہے۔ ان کے علاوہ 7/ اراکین بھی منتخب کیے گئے ہیں، جن میں سردار گردیپ سنگھ، ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ارون مانجھی، ڈاکٹر ودیا بھوشن راوت، ڈاکٹر پرویز میاں، عیسائی رہنما ڈاکٹر ایم ڈی تھامس، سبکدوش ریوینیو کمشنر کے کے کتھیریا اور ڈاکٹر اصغر چُلبل گلبرگہ شامل ہیں۔
یہ رابطہ کمیٹی پورے ملک میں سی اے اے اور این آر سی واین پی آر کو لے کر چلائی جارہی تحریک اور سرکاری جبر وظلم کے خلاف پیدا شدہ ناراضگی کو اشتعال انگیزی سے محفوظ رکھنے اور دستوری تمہید کے تحت درج نکات کے ساتھ، سبھی طبقات کی نمائندگی کو یقینی بنانے نیز بھائی چارگی وفرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ساتھ ملک گیر سطح پر تحریک کو زیادہ پائیدار ومؤثر بنانے کی کوشش کرے گی اور ایجی ٹیشن چلائے جارہے نوجوانوں طلباء/ طالبات کے خلاف جس طرح یوپی ودیگر ریاستوں میں پولس وپاراملٹری کے ذریعہ انھیں مقدمات میں ماخوذ کرنے اور جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے بھیجنے کی سازش کی جارہی ہے، ایسے تمام ایشوز پر متاثرین کو قانونی امداد دینے کے لیے وکلاء و دانشوران سے رابطہ کر کے سبھی بے قصوروں کی رہائی کی بھی مہم چلائے گی۔
اجلاس میں یہ بھی طے کیا گیا کہ جن ریاستوں میں وکلاء وقانون داں حضرات اس موقع پر متاثرین کو قانونی امداد دے رہے ہیں، ان کے رابطے کو بھی مستحکم کیا جائے گا نیز جہاں پر ضرورت ہو گی، وکلاء کو رضاکارانہ طور پر تیار کرایا جائے گا۔ دہلی کی سطح پر جہاں ہنوز کوئی ٹیم نہ بن سکی ہے، عنقریب 15- 16 وکلاء کے ساتھ میٹنگ کر کے لائحہ عمل طے کیے جائیں گے۔
ملی کونسل کے جنرل سکریٹری وپروگرام کے روح رواں، ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہا کہ اجلاس میں موجود سبھی مسلم وغیرمسلم شرکاء کا یہ شدید اصرار تھا کہ چونکہ یہ تحریک دیر تک اور پائیدار طریقے پر چلائے جانے کی ضرورت ہے، لہٰذا اگر ضرورت پڑے تو تمام مذاہب کی سربرآوردہ شخصیات، غیر مسلم این جی اوز اور ملک کی مختلف میدانوں میں کام کر رہی فعال تنظیموں، یونیورسٹیوں کے طلباء وطالبات نیز سیکولر سیاسی جماعتوں کے لیڈران کے ساتھ مل کر دہلی میں کسی بڑی جگہ پر بڑا عوامی اجلاس بھی منعقد کیا جائے، تاکہ ہمارے مطالبات کو زیادہ مؤثر رخ دیا جاسکے۔
ڈاکٹر عالم نے ہندوستانی فوج کے چیف بپن راوت (جن کی 31/ دسمبر کو سبکدوشی طے ہے)، کے دیئے گئے اس بیان پر بھی اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہندوستانی فوج کے کسی سربراہ کا شہری حقوق کے لیے لڑنے والے لوگوں کے تعلق سے منفی بیان دینا مضحکہ خیز ہے، ملک کی تاریخ کا یہ عجب واقعہ ہے کہ یونیورسٹیوں اور کالجز میں تعلیم حاصل کرنے والوں کو فوج کے ایک سربراہ اپنے تمسخر کا حصہ بنارہے ہیں کہ ایجی ٹیشن چلانے والے بھیڑ کی قیادت یونیورسٹی وکالجز کے طلباء کر رہے ہیں۔ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ ملک کا باشعور اور پڑھا لکھا طبقہ ہی شہری حقوق کی بازیابی کے لیے کوشاں ہوتا ہے، اگر سرکار سے شہری حقوق کے لیے وہ کوئی مطالبہ کر رہے ہیں تو انھیں اس قدر کیا پریشانی ہے۔ تشدد لوگوں کی طرف سے نہیں بلکہ سرکار کے عمل دخل اور فرقہ پرستوں وپولس انتظامیہ کی بنا پر ہو رہا ہے، ورنہ ہر جگہ پُرامن طریقے پر احتجاج ہو رہے ہیں۔
اس ہنگامی اجلاس میں جن شخصیات نے شرکت کی، ان کے اسمائے گرامی میں مولانا انیس الرحمن قاسمی پٹنہ، نائب صدر آل انڈیا ملی کونسل، ڈاکٹر محمد منظور عالم جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل، مولانا سید محمد مصطفی رفاعی جیلانی ندوی بنگلور، معاون جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل، جناب یوسف حاتم مچھالہ ایڈوکیٹ ممبئی، جناب ظفریاب جیلانی ایڈوکیٹ لکھنؤ، مفتی رضوان القاسمی تارا پوری، احمد آباد، مولانا آس محمد گلزار قاسمی میرٹھ، ڈاکٹر ظہیر احمد خان بلند شہر، ڈاکٹر انوار صدیقی مالیرکوٹلہ، مشرف حسین نئی دہلی، ڈاکٹر محمد اصغر چلبل گلبرگہ (سبھی اراکین مجلس عاملہ)، پروفیسر حسینہ حاشیہ نئی دہلی، ڈاکٹر پرویز میاں دہلی، مولانا عبداللہ طارق نئی دہلی، مولانا عبدالحمید نعمانی نئی دہلی، جناب اے یو آصف سینئر جرنلسٹ نئی دہلی، جناب شبیر احمد دہلی، جناب محمد عالم نئی دہلی اور جناب شمس تبریز قاسمی دہلی کے علاوہ معروف دانشور وقانون داں این ڈی پنچولی، ایڈوکیٹ ارون مانجھی سپریم کورٹ، پروفیسر گردیپ سنگھ، ڈاکٹر ایم ڈی تھامس فاؤنڈر ڈائریکٹر انسٹی ٹیو آف ہارمنی اینڈ پیس اسٹڈیز، نئی دہلی، مسٹر کے کے کیتھریا، ودیا بھوشن راوت، سردار رنجیت سنگھ، ڈاکٹر اونکار متل، واحد حسین ایڈوکیٹ، محمد ارشاد احمد ایڈوکیٹ سپریم کورٹ، مسٹر ویمل، راکھی گپتا، ساجدہ خانم، جواد حسین، ابھئے این جھا کے ساتھ نواب شاہ محمد شعیب خان کے علاوہ دیگر کئی حلقوں کے نمائندہ اصحاب اور صحافی و سماجی کارکنان شریک ہوئے۔

Leave a Reply