احتجاج عوام کا بنیادی حق۔ جب لوگ اپنی تعلیمی سرٹیفیکٹ پیش کرنے میں ناکام ہورہے ہیں تو والدین کی پیدائشی سرٹیفکیٹ کیسے دستیاب ہوجائے گی: ڈاکٹر منظور عالم






نئی دہلی: (پریس ریلیز) جمہوریت کی بنیاد آزادی، انصاف، مساوات اور سماجی ہم آہنگی ہے۔ ان چیزوں کے بغیر جمہوریت کامیاب،مضبوط اور ترقی یافتہ نہیں ہوسکتی ہے۔ ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک اسی بنیاد پر کہاجاتاہے کہ یہاں تمام طبقات کو مذہبی،لسانی،تہذیبی آزادی حاصل ہے۔ اظہاررائے کی آزادی کا حق ہے۔ احتجاج کرنا اور ظلم کے خلاف بولنا جمہوریت کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے اور یہی کسی ملک میں جمہوریت کی شان ہوتی ہے لیکن حالیہ دنوں میں موجودہ سرکار ظلم احتجاج کے دروازے کوبند کرنا چاہتی ہے۔احتجاج کرنے والوں کو روک رہی ہے۔ مظاہرین کے خلاف کاروائی کی جارہی ہے۔ پروٹیسٹ اور مظاہرہ کی اجازت نہیں دے رہی ہے۔ یہ معاملہ جمہوری حقوق کے خلاف اور انسانیت مخالف ہے۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کیا۔

اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہاکہ متنازع شہریت ایکٹ،این پی آر اور این آرسی یہ سبھی قوانین ہندوستان کے دستور کے خلاف ہیں اور اسی کو بچانے کیلئے ہندوستان کے سیکولر عوام،ہندو،مسلمان،دلت،عیسائی،آدی واسی،سکھ،بدھ مت،جین مت اور دیگر مذاہب کے لوگ ایک ساتھ سڑکوں پر اترے ہوئے ہیں۔ احتجاج کررہے ہیں۔ سرکار سے قانون واپس لینے کی مانگ کررہے ہیں۔ یہ احتجاج ان کا بنیادی حق ہے اور سرکار کی ذمہ داری ہے کہ وہ احتجاج کو دبانے کے بجائے ان کی بات سنے اور توجہ دے۔

ڈاکٹر محمد منظور عالم نے یہ بھی کہاکہ لوگ اپنی تعلیمی سرٹیفیکٹ پیش نہیں کرپارہے ہیں۔ الگ الگ مرتبہ الگ الگ سرٹفکیٹ پیش کرتے ہیں۔ وزیر اعظم جیسے عہدہ پر پہونچے ہوئے لوگ اپنی اصلی سرٹیفیکٹ پیش کرنے میں ناکام ہیں تو اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ آج سے پچاس سال اور ستر سال پہلے کے لوگ اپنی پیدائشی سرٹیفیکٹ کیسے پیش کرسکتے ہیں اپنے والدین کی سرٹفیکیٹ وہ کہاں سے تلاش کرکے لائیں گے۔ کچھ لوگ یہ کہنے لگے ہیں کہ این پی آر میں والدین کی تاریخ پیدائش کا کالم کوئی غلط نہیں ہے۔ اندازہ سے کچھ لکھ دیجئے۔یہ بات خطرناک ہے کیوں کہ جب آپ کوئی دعوی کرتے ہیں یعنی کوئی تاریخ لکھتے ہیں تو آپ سے ثبوت کے طور پر سرٹیفیکٹ بھی مانگا جائے گا اور جب آپ پیش نہیں کریں گے تو شہریت مشکوک ہوجائے گی۔ این پی آر میں میں اضافہ کئے گئے کالم بطور خاص والدین کی تاریخ پیدائش کا کالم خطرناک اور سازش کا حصہ ہے۔ یقینی طور پر یہ این آرسی کا پہلازینہ ہے جس کی مخالفت اور بائیکاٹ ضروری ہے اور جب تک سرکار واپس نہیں لے گی احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ تحریک چلتی رہے گی۔


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *