ممبئی: شہریت ترمیمی بل و این آر سی کے خلاف پورا ہندوستان سراپا احتجاج بنا ہوا ہے،20دسمبر کو پربھنی،کلم نوری اور بیڑ میں اسی طرح کے احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں،جس میں احتجاجیوں اور پولس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں،اس پر پولس نے ان پر لاٹھی چارج کیا تھا اور ان پر کئی دفعات لگاتے ہوئے گرفتار بھی کیا تھا،صرف بیڑ سے 26 مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے جنہیں ا ٓج عدالت میں پیش کیا گیا جن کی عدالت نے 2/ جنوری تک پولس تحویل میں اضافہ کردیاحالانکہ سرکاری وکیل نے مزید سات دنوں کی پولس تحویل طلب کی تھی لیکن جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) کے وکیل خضر پٹیل اور مقامی وکلاء کی مخالفت کے بعد عدالت نے ملزمین کو مزید دو دنوں کی پولس تحویل دی۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔
گلزار اعظمی نے مزید بتایا کہ جوڈیشیل مجسٹریٹ فرسٹ کلاس شری شرکے کی عدالت میں آج ملزمین کو پیش کیا گیا جس کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فی الحال ملزمین سے تفتیش مکمل نہیں ہوئی ہے لہذا انہیں مزید سات دنوں تک ان کی پولس تحویل میں اضافہ کیا جائے تاکہ پولس اپنی تفتیش مکمل کرسکے کیونکہ ابھی سو سے زائد ملزمین کی شناخت کرنا باقی۔ سرکاری وکیل کی درخواست پر ایڈوکیٹ خضر پٹیل نے عدالت کو بتایا کہ قانون کے مطابق 14 دنوں سے زیادہ پولس تحویل نہیں لی جاسکتی لہذا عدالت کو ان سب باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ملزمین کی پولس تحویل میں اضافہ کرنا چائے۔
گلزار اعظمی نے کہا کہ ملزمین کی ضمانت عرضداشت داخل کی جاچکی ہے لیکن جب تک ملزمین کی پولس تحویل سے عدالتی تحویل میں منتقلی نہیں ہوجاتی ضمانت عرضداشتوں پر بحث ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایڈوکیٹ خضر پٹیل مقدمہ کی سماعت پر ملزمین کی پیروی کے لیئے اورنگ آباد سے بیڑ جارہے ہیں اور ملزمین کی عدالتی تحویل میں منتقلی کے بعد وہ ضمانت عرضداشت پر بحث کریں گے جبکہ مقامی وکلاء اظہر علی، یاسر پٹیل، موسی پٹیل، الیاس احمد، اعجاز احمد، اسماعیل احمد، ساجد، آصف، بیگ، سجاد اور شفیق بھاؤ بھی ملزمین کے مقدمات کی پیروی میں اپنی خدمات پیش کررہے ہیں۔
اس تعلق سے مقامی جمعیۃ علماء کے ذمہ داران جس میں شیخ مجیب (ناظم تنظیم جمعیۃ علماء مراٹھواڑہ) قاری امین (جنرل سیکریٹری جمعیۃ علماء مراٹھواڑہ) حافظ ذاکر (صدر بیڑ)و دیگر شامل ہیں ملزمین کی رہائی کے لیئے کوشاں ہیں۔

Leave a Reply