ترمیمی قانون کے ذریعہ آئین کے بنیادی ڈھانچوں پر کئے جارہے حملے سے سپریم کورٹ آئین کی حفاظت کرے   آج سے گاندھی میدان میں ریلے انشن کی شروعات








پٹنہ: اس اپیل کے ساتھ آج معروف سماجی شخصیت جیوتی بائی پھولے کی ۹۸۱ ویں جینتی کے موقع پرآج سے صبح ۹ بجے سے ۵ بجے تک ہم بھارت کے لوگ پر شہریت ترمیمی قانون کا حملہ، سپریم کورٹ سے آئین بچانے کی اپیل کے بینر کے ساتھ گاندھی مورتی ، گاندھی میدان میں ریلے انشن کی شروعات ہوئی ۔ یہ انشن ہر دن جاری رہے گا ۔ آج انشن پر بیٹھنے والوں میں سدھا ورگیز، کنچن بالا، کیرتی، اشوک کمار وکیل، ڈاکٹر انوپم پریہ درشی ، منجو ڈنگ ڈنگ ، بندو کماری، آسماءخان، ونود رنجن، کپیلیشور رام، منی لال، سرفراز، ریتا سنہا، راشد، کرشن مراری اور فرقان شامل تھے ۔ انشن کے مقام سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ آئین کے مطابق بھارت کی خودمختاری ہم بھارت کے لوگ میں مشتمل ہے ۔ جمہوریت میں خودمختاری عوام کو حاصل ہوتا ہے ۔ ایوان صرف نمائندگی کرتا ہے ۔

شہریت ترمیمی قانون کے ذریعہ مودی حکومت نے پارلیمنٹ میں اپنے اکثریت کا غلط استعمال کرتے ہوئے عوام کی خودمختاری کے خلاف جاکر قانون بنایا ہے ۔ اسلئے سپریم کورٹ سے ہماری اپیل ہے کہ آئین اور عوام کی خودمختاری کی حفاظت کرے ۔ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کی بنیاد پر قومی آبادی رجسٹر بنانا خطرناک ہوگا۔ اس سے نہ صرف ملک و سماج ٹوٹے گا بلکہ کروڑوں دلت۔ پسماندہ کی شہریت کے حق سے محروم کردئے جائینگے ۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ انہیں سرکار سے سہولت حاصل کرنے کا کوئی حق نہیں ہوگا، انکی جگہ ڈٹینشن کیمپ ہوگا۔ ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکومت کو ملک کی عوام سے شہریت کا ثبوت مانگنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔ مقام انشن پر دیگر اہم لوگوں میں ڈاکٹر احمد عبد الحئی، انوارالہدیٰ، روپیش، ڈاکٹر ایم اے ابراہیمی، پرتیما کماری، مالا داس ایڈووکیٹ، سابق اسمبلی اسپیکر ادئے نارائن چودھری، شمس الدین ایڈووکیٹ، رضوان احمد، ضیاءالقمر، ریاض عظیم آبادی، افضل حسین، ساوتری دیوی ایڈووکیٹ، انگد سنگھ، روپیش کمار، منی شانڈیال، سسٹر لیما روز، دگوجئے رائے، نفیسہ فاطمہ، ارشاد الحق، ستیدنر شرما ایڈووکیٹ، ویریش پرساد سنہا، منہر کرشن اتل، شیندر پرتاپ سنگھ ایڈووکیٹ، ہدیٰ شہزاد، طہور انور، آفاق احمد،وغیرہ بھی موجود رہے ۔ آج کا انشن ایڈووکیٹ مالا داس، سسٹر لیما، پرتیما کماری اور زاہدہ اور سبھی معروف سماجی کارکنان کے ذریعہ کھجور اور گرم چائے پلاکر انشن کو ختم کیا گیا اور یہ انشن کئی دنوں تک چل سکتا ہے ۔ لوک تانترک جن پہل کی کنچن بالا اور دوسرے معروف اداروں کے ذمہ داران نے ہندوستان کے شہریوں سے اپنے آئین کی حفاظت کیلئے اس اہم پروگرام میں شامل ہونے کی اپیل کی ہے ۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *