موتیہاری: (فضل المبین) شہریت ترمیمی قانون ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف آج بدھ کو بابائے قوم مہاتما گاندھی کے میدان عمل موتیہاری میں ایک عظیم الشان احتجاجی جلوس کا انعقاد کیا گیا ۔ جس کی قیادت بہوجن کرانتی مورچہ نے کی وہیں اس جلوس کو جمیعت علماء مشرقی چمپا رن ، بام سیف ، جماعت اہلحدیث ، جماعت اسلامی مشرقی چمپا رن ، آر جے ڈی ، بہار یوتھ آرگنائزیشن ، مجلس اتحاد المسلمین ، آئین بچاؤ سنگھرش مورچہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ، بھارت مکتی مورچہ ، راشٹریہ مکتی مورچہ ، بھارتی ودھیارتی مورچہ ، Impa ، راشٹریہ کسان مورچہ ، راسٹریہ بےروزگار مورچہ ، بہار یوتھ آرگنازیشن سمیت درجنوں تنظیموں نے حمایت حاصل تھی جس میں مذکورہ تنظیموں کے زمہ داران و کارکنان سمیت تقریبا 3 لاکھ لوگوں نے شرکت کرتے ہوئے اپنا احتجاجی مظاہرہ درج کرایا ۔چمپارن کی تاریخ میں ایک بار پھر اتنی بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اترے اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اور دستور ہند کے تحفظ کے لئے صدائیں بلند کی ۔ اس احتجاج میں مشرقی چمپا رن کے ہر گوشے اور خطے سے لوگوں نے شرکت کرتے ہوئے حکومت ہند سے اس نے قانون پر غور و فکر کرنے کی اپیل کی ۔ یہ جلوس موتی ہاری ٹاون سے نکلا گیا جو کہ ہوم گارڈ میدان میں جاکر اکٹھا ہوئی اور جلسہ کی شکل اختیار کرلیا ۔ جہاں انجمن اسلامیہ کے صدر پروفیسر نسیم احمد کہا کہ : یہ قانون کسی ایک طبقہ کے ساتھ تعصب پر مبنی ہے ۔ آپس میں لڑائو اورحکومت کروکی پالیسی پر رد عمل ہورہاہے ،ملک کی معاشی صورت حال بدسے بدترہوچکی ہے،ان حالات میں ہماری ذمہ داری ہے کہ حکومت حالات کو سمجھیں اور اس قانون کو ختم کر کے ملک میں امن و امان بحال رکھے ۔ انہوں نے کہا کہ : اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو چمپا رن کی سرزمین ایک بار پھر ستیہ گرہ کیلئے تیار ہے جسکی جیتی مثال آج کی یہ سمندر نما بھیڑ ہے ۔ بہوجن کرانتی مورچہ کے ریاستی کنوینر رام لگن رشی یسن نے کہا کہ : اس ملک کے 85فیصد پسماندہ طبقات کے لوگوں کے پاس کاغذات نہیں ہے اس لیے لیے حکومت ہند سازش کرکے دلت اور پچھڑوں کو مسلمانوں کا خوف دکھا کر کر پسماندہ طبقات کے حقوق کو چھیننے کی سازش رچ رہی ہے اور غلام بنانا چاہتی ۔ اسلئے ہم سب متحد ہو کر لڑائی لڑینگے جب تک واپس نہ ہو جائے ۔ وہیں جمیعت علماء مشرقی چمپارن کے جنرل سکریٹری مولانا جاوید قاسمی نے کہا کہ : یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ سبھی مذاہب اور سبھی برادری کے خلاف ہے ۔ بالخصوص پسماندہ طبقات اور انتہائی پسماندہ طبقات سمیت تمام کمزور لوگوں کے خلاف ہے ۔ انہوں نے متحد ہو کر لڑائی لڑنے کی اپیل کی ۔ وہیں آر جے ڈی لیڈر سنجے نرالا ، بہار تنظیم کے صدر حامد رضا راجو ، سید ساجد حسین ، ڈاکٹر صبا اختر شوخ ، ڈاکٹر منت اللہ ، ڈاکٹر خبیر ، راجیش رام ، انور فاروقی ، انجینئر طارق ظفر ، سنیل کمار بجلی رام ، ، ونود رام ، ودیا نند رام ، ماسٹر ابو نصر نہال الدین ، پروفیسر عارف حسین ، صحافی عزیر انجم ، خورشید امام ، تنویر خان و غیرہ نے بھی خطاب کیا ۔ جبکہ نظامت آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے لیڈر ڈاکٹر قاسم انصاری اور ببلو یادو نے کی ۔
واضح ہو کہ : اس احتجاجی جلوس کی خوبصورتی یہ رہی کہ: یہاں پر امن ماحول میں احتجاج کیا گیا جس میں نوجوانوں نے اپنی تعداد دکھائی وہیں بزرگوں اور خواتین کی بھی ایک اچھی خاصی تعداد تھی ۔ آج کا احتجاج پر امن رہا جس میں کسی طرح سے کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی گئی ۔ البتہ سڑکوں پر بھیڑ تھی لیکن راہگیروں کے لئے آمد و رفت جاری تھا ۔ احتجاجیوں کے بازوؤں پر نیلی پٹی بندھی ہوئی تھی اور اور لوگوں کے ہاتھوں میں مختلف قسم کی تختیاں تھی ۔ جن پر کچھ اس طرح کے نعرے لکھے تھے ۔ ’’ مودی تیری تاناشاہی نہیں چلے گی نہیں چلے گی ،، انقلاب زندہ باد ، ہندو مسلم سکھ عیسای ہم سب ہیں بھائی بھائی ،، آواز دو ہم ایک ہیں ،، جامعہ علی گڑھ طلبہ نہ گھبرانا تیرے پیچھے ہے زمانہ ،، جے این یو کو انصاف دو جیسے نعرے لگے وہیں اکثر و بیشتر لوگ ہم سی اے اے این آر سی کا بائیکاٹ کرتے ہیں ۔ وہیں جلوس کو کامیاب بنانے میں ڈھاکہ حلقہ ، ترواہ حلقہ ، کیسریا حلقہ ، رکسول ، چریا کے عوام سمیت پورے ضلع کے تقریبا ہر گاؤں سے لوگوں نے شرکت کی ہے ۔ شرکت کرنے والوں میں موتی ہاری جامع مسجد کے امام قاری جلال الدین قاسمی ، ڈھاکہ جامع مسجد کے امام و خطیب مولانا نذر المبین ندوی ، مولانا بہاؤ الدین قاسمی ، مولانا امان اللہ مظاہری ، مولانا جاوید مظاہری ، قاری عبد الرؤف قاسمی ، قاری شاہد حسین ، قاری احمد اللہ عرفانی ، قاری علی امام عرفانی ، قاری محب اللہ عرفانی ، طارق انور چمپا رنی ، مولانا یحییٰ ، مولوی زکریا ، مولوی عبد الرشید ، شاداب انور ، سید مبین احمد ، توصیف الرحمن ، انور کمال ، زاہد یوسف زئی ، ارشد خان کے نام شامل ہیں ۔

Leave a Reply