مہاویری جھنڈہ کے درمیان فرقہ وارانہ جھڑپ، قبرستان میں لگائی آگ، کئی افراد زخمی، پولیس تعینات، حالات قابو میں








دربھنگہ: جالے تھانہ کے ریونڈھا گاؤں  کے جھوٹکی فقیر تکیہ مسجد کے پاس نماز کے دوران مذہبی جلوس میں شامل باجے کی تیز ساونڈ پر ایک خاص فرقہ کی جانب سے اعتراض کئے جانے پر شرپسندوں نے کڑا رخ اختیار کیا اور جئے شری رام کا نعرہ لگاتے ہوئے ساونڈ کو جاری رکھنے پر آمادہ ہوگئے تبھی دونوں فرقوں کے لوگوں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی جس کے بعد بھیڑ نے حملہ شروع کردیا۔ تاہم دونوں جانب سے ہوئی سنگ باری کے بعد حالات بگر گئے لیکن انتظامی افسران نے بروقت کارروائی کر حالات کو پرامن بنایا۔ ٹاور چوک کے قریب ہوئی جھڑپ میں مقامی چوکیدار سمیت کئی افراد کے زخمی ہونے کی بات سامنے آئی ہے تاہم انتظامی افسران سے اس کی تصدیق نہیں ہوپائی ہے۔ فی الحال سیٹی ایس پی یوگیندر کمار ،صدر ایس ڈی او راکیش کمار گپتا ، صدر ایس ڈی پی او انوج کمار اور مقامی تھانہ انچارج دلیپ کمار پاٹھک کی قیادت میں رائیٹ کنٹرول وہیکل کے ساتھ مسلح فورس کی تعیناتی کے ساتھ کئی تھانوں کی پولیس موقع پر کیمپ کر رہی ہے۔ شرپسندوں کے ذریعہ قبرستان میں لگائی گئی آگ کو فائر بریگیڈ کی مدد سے بجھالیا گیا ہے۔ گاؤں میں حالات معمول پر ہیں اور پولیس کی نقل حرکت جاری ہے۔ جیسے ہی سنگ باری کے بعد ریونڈھا میں ہم آہنگی بگڑنے کی خبر عام ہوئی حالات فرقہ وارانہ شکل لے لیا۔ تاہم جلوس میں شامل شرپسندوں نے فقیرتکیہ کی قبرستان میں آگ لگا دی اور پوپری سے لوٹ رہے 32 سالہ نوجوان کو گھیر کر اس پر دھاردار ہتھیار سے حملہ کر شدید طور پر زخمی کردیا۔ زخمی نوجوان کی شناخت ریونڈھا گاؤں کے محمد منصور عالم کے لڑکے محمد ارشاد کے طور پر ہوئی ہے جس کا علاج مقامی ریفرل اسپتال میں چل رہا ہے۔ محمد ارشاد پوپری سے بائک سے کرانہ دکان کا سامان لیکر لوٹ رہا تھا تبھی پٹیل چوک کے پاس اس پر جان لیوا حملہ ہوا۔ حملے میں اس کے دائیں ہاتھ کی 3 انگولیاں کٹ گئی ہیں اور جسم پر گہرے چوٹ لگے ہیں۔

 رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریونڈھا میں منعقد ہونے والی روایتی مہاویری جھنڈا کو لیکر ہفتہ کو بانس کٹی کی رسم کی ادائیگی جاری تھی ۔ کہا گیا ہے کہ پوجا سمیتی کے ممبران کی قیادت میں جلوس کی شکل میں لوگ پوجا کے مقام سے گاوں کا چکر لگاکر چھوٹکی فقیرتکیہ مسجد کے قریب سے تقریبا 1 بجے گزر رہے تھے۔ پک اپ وان پر تیز آواز میں گانا بجایا جا رہا تھا جس پر نماز شروع ہونے کی بات کہہ کر وہاں موجود کچھ نوجوان نے باجے پر اعتراض کیا تھا جس پر جلوس میں شامل شرپسند برہم ہوگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے نوبت مارپیٹ اور سنگ باری تک کی آگئی۔اس کے بعد یہ معاملہ کافی سنگین رخ اختیار کر لیا اور گاوں میں زبردست کشیدگی پھیل گئی۔کشیدگی کی خبر ملتے ہی دیر شام تک ڈی ایم ڈاکٹر تیاگ راجن ایس ایم ،سینئر ایس پی بابو رام بھی متاثرہ گاوں پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ ایس ایس پی نے کہا کہ گاوں میں امن وامان  بحال ہے ۔ چپے چپے پر پولیس فورس کی تعیناتی کردی گئی ہے۔ حالات معمول پر آنے تک گاوں میں پولیس فورس اور مجسٹریٹ کی تعیناتی جاری رہے گی ۔ انہوں نے کہا کہ نماز کے دوران جلوس میں ڈی جے کا استعمال کیا گیاتھا جس پر اعتراض کے بعد حالات بگر گئے ۔ حالانکہ جلوس کو کنٹرول کرنے کے لئے 2 پولیس افسر کی تعیناتی رکھی گئی تھی پھر بھی وہ ڈی جے کو نہیں روک پائے  جو لاپروائی کا نتیجہ معلوم پڑتا ہے جس کے خلاف بھی کارروائی ہوگی ۔ ساتھ ہی اس معاملہ میں جو بھی قصور وار ہیں اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *