دربھنگہ کے ریونڈھا میں اقلیتی طبقہ کو بنایا گیا نشانہ، پاپولر فرنٹ نے کی سخت کارروائی کی مانگ  








دربھنگہ: مہاویری جھنڈا کے لیے بانس کٹائی رسم کے موقع پر دربھنگہ کے ریونڈھا میں فرقہ وارانہ فساد پھیل گیا، جس میں اقلیتی طبقہ کے قریب ایک درجن لوگ اور اکثریتی طبقہ کے بھی چند لوگ زخمی ہوگئے تو وہیں دونوں طرف سے قریب 08-08 لوگ گرفتار بھی ہوے ہیں انتظامیہ نے دفعہ 144 نافذ کردیا ہے جس کے بعد گاؤں میں مکمل طور پر خوف کا ماحول بنا ہوا ہے 12 جنوری کو مختلف تنظیموں کی ایک فیکٹ فاینڈینگ تیم نے پاپولر فرنٹ کے ریاستی کمیتی ممبر توصیف حسینی صاحب کی قیادت میں گاؤں کا دورہ کیا جس میں تحقیق سے پتا چلا کہ 11 کو نماز ظہر کے وقت اکثریتی فرقہ کی ایک مزہبی ریلی چھوٹی مسجد کے پاس آیی جسمیں زور زور سے بجایا جارہا تھا جسے کم کرنے کی درخواست کرنے کے پر ششی رنجن پرساد چنو نامی ایک مقامی نیتا نے ماحول خراب کر دیا. گانے کا آواز بڈھادیا گیا اور جذباتی نعرے لگایا جانے لگا جس کی وجہ سے اشتعال ماحول بنا پتھر بازی ہونے لگی جس میں دونوں طرف سے زخمی ہوئے تو وہیں ایک ارشاد نامی نوجوان پر اکثریتی فرقہ کی طرف سے جان لیوا حملہ بھی ہوا لیکن چونکہ اس نے ہیلمٹ لگا رکھی تھی لہذا اسکی جان بچ گئی پھر بھی اس کے ہاتھ کی انگلیاں کٹ گئی۔ شرپسندوں نے قبرستان کے اندر بھی آگ زنی کی جس سے وہاں رکھے اشیاء خاکستر ہوگئے، انتظامیہ نے دفعہ 144 لاگو کردیا ہے لیکن لوگوں کا کہنا ہیکہ پولس کا کردار بھی نہایت غلط رہا کیونکہ پولس اکثریتی فرقہ کے ان نوجوانوں کا ساتھ دیتے دکھی جوکہ فساد کا حصہ تھے وہیں قانونی کارروائی میں بھی انتظامیہ جانبداری سے کام لیتی نظر آرہی ہے لوگوں نے بتایا کہ ادھر چند سالوں سے لگاتار ششی رنجن پرساد چنن مسلسل مذہبی فساد کروانے کی کوشش کرتا رہتا ہے اور اس فساد کو بھی اس نے منصوبہ بندی طریقے سے انجام دیا ہے تیم نے پایا کہ گاؤں کے لوگ مکمل طور پر خوف کے ماحول میں ہے یہاں تک کہ لوگ گھروں سے نکلنے اور بات کرنے میں بھی ڈر رہے ہیں ایک پولس والے نے بتایا کی پیس کمیتی کی میتنگ رکھی گئی تھی جسمیں اقلیتی فرقہ کے لوگ نہیں پہونچ سکے ہیں۔

پاپولر فرنٹ کے ریاستی جنرل سیکرٹری محمد ثناءاللہ نے مانگ کیا ہیکہ منصفانہ جانچ کے ذریعہ چنن اور دیگر مجرمین پر سخت کارروائی کی جائے ، بے قصور لوگوں کو نشانہ بنانا بند کیا جائے اور جو بے قصور گرفتار ہیں انہیں رہا کیا جائے ساتھ ہی گاؤں والوں میں پھیلے خوف کے ماحول کو دور کرنے کی ہرممکن کوشش کی جائے،

فیکٹ فاینڈینگ تیم میں نیشنل کنفیڈریشن آف ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے ایدوکیٹ نورالدین زنگی صاحب، شوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کے دربھنگہ ضلعی سیکرٹری ڈاکٹر محبوب عالم اور کیمپس فرنٹ ایکٹوسٹ سیف الرحمان موجود تھے۔


Posted

in

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *