اتوار کی شام شاہین باغ میں جمع ہوئے ایک لاکھ سے زیادہ عوام، سی اے اے کے خلاف تاریخی احتجاج








اتوار کی شام شاہین باغ میں جمع ہوئے ایک لاکھ سے زیادہ عوام، سی اے اے کے خلاف تاریخی احتجاج

نئی دہلی: (ملت ٹائمز) اتوار کی شام اوکھلا کے شاہین باغ میں لاکھوں لوگ جمع ہوئے اور گذشتہ 28 دنوں سے جاری احتجاج کا حصہ بنے۔

 شام سے ہی اوکھلا کے ہر علاقہ میں جام لگنا شروع ہو گیا اور ہر شخص یا تو اکیلا یا اپنے ساتھیوں، رشتہ داروں کے ساتھ شاہین باغ کی جانب گامزن تھا۔ ای رکشا ہاتھ نہیں آ رہے تھے اور زیادہ تر لوگوں کو بیچ میں ہی سواری چھوڑ کر پیدل جانا پڑ رہا تھا۔ وہاں موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ ایک لاکھ سے زیادہ لوگ آج شاہین باغ آئے ہیں۔ ہر شخص شہریت ترمیمی قانون کے خلاف چار ہفتوں سے جاری احتجاج میں شرکت کرنے کے لئے بے چین اور پر جوش نظر آ رہا تھا۔

شاہین باغ کا احتجاج بنیادی طور پر وہاں کی خواتین کا احتجاج ہے جو جامعہ میں ہوئے تشدد کے بعد سے جاری ہے اور ہر روز خواتین بڑی تعداد میں یہاں جمع ہوکر اپنا احتجاج درج کراتی ہیں لیکن کل جو منظر وہاں نظر آیا وہ انتہائی غیر معمولی تھا۔ کل کا احتجاج صرف لوگوں کی تعداد کو لے کر غیر معمولی نہیں تھا بلکہ جس طرح وہاں پر ہر مذہب کے لوگ شریک ہوئے اور وہاں قومی یکجہتی کے مظاہرہ کے لئے تمام مذاہب کے لوگوں نے مل کر اپنے مذاہب کی مقدس کتابوں کے اہم حصوں کو پڑھا۔ سکھ سماج کے لوگوں نے وہاں کیرتن کا اہتمام کیا، مسلمانوں نے کلام پاک کی تلاوت کی، ہندو بھائیوں نے ہون کیا، گیتا کے اپدیش پڑھے اور عیسائی بھائیوں نے بائبل سے سرمن پڑھے۔ اس موقع پر آئیں کے کچھ حصوں کو بھی پڑھا گیا۔ سماجی کارکن ڈی ایس بندرا نے کہا کہ کیونکہ حکومت مذہبی بنیاد پر ہمیں تقسیم کرنا چاہتی ہے اس لئے حکومت کی اس کوشش کو ناکام کرنے کے لئے ہم نے یہ قدم اٹھایا ہے اور تمام مذاہب کے لوگ یہاں جمع ہوئےہیں۔

اتوار کے احتجاج میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے خواتین ونگ کی چیف آرگنائزر ڈاکٹر اسما زہرا نے بھی شرکت کی ۔اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان کے سبھی شہروں میں ایک شاہین باغ ہونا چاہیے۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *