بستی سے محمد ابو حذیفہ کی رپورٹ
ملت ٹائمز: سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کے خلاف ملک بھر میں زبردست احتجاج ومظاہرے ، دھرنا وجلوس کا سلسلہ جاری ہے،دن بہ دن احتجاج کا دائرہ مزید وسیع تر ہوتا جارہا ہے ۔ اسی سلسلہ میں گذشتہ دن اترپردیش کےشہر بستی میں گورنمنٹ انٹرکالج سے کچہری واقع شاستری چوک تک ہزاروں کی تعداد میں شانتی مارچ کا نکالا گیا،جس میں خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مارچ کی قیادت اے آئی ایم آئی ایم اور انجمن اسلامیہ گاندھی نگر نے مشترکہ طور پر کی ۔ سی اے اے کیخلاف نکالے گئے شانتی مارچ میں شامل لوگوں نے اپنے قومی پرچم (ترنگا) اور پلے کارڈ لئے ہوئے تھے، جس پر سی اے اے ، این پی آر واین آر سی مخالف نعرے تحریر کئے گئے۔
شانتی مارچ کے شرکاء جی آئی سی میدان میں صبح ۹؍بجے سے ہی جمع ہونا شروع ہوگئے تھے، تاہم طے شدہ وقت کے مطابق ۱۱؍بجے جی آئی سی سے مارچ کا آغاز ہوا اور تقریباً ڈھائی گھنٹے کی مسافت طے کرتا ہوا بستی ضلع ہیڈکوارٹر واقع شاستری چوک پہونچا ، جہاں آئین کا تعارف (پرستاونا) اور قومی گیت ’جن گن من‘ پڑھا گیا۔ اس کے بعد مارچ کے اختتام کا اعلان کیا گیا۔ اس شانتی مارچ میں شہر کے سبھی طبقہ کے لوگ ہزاروں کی تعداد میں شریک رہے۔ شرکاء نے حکومت ہند سے اس کالے قانون ( سی اے اے) کو واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جب تک واپس نہیں ہوگا تب تک قانوناً اس کی مخالفت ہوتی رہے گی ۔
مارچ کو منظم طریقہ سے انجام دینے میں محمد شعیب اعظم ریاستی یوتھ سکریٹری ایم آئی ایم، ابرار احمد، شاہنواز منیر، ندیم خان، دیپک مشرا، جیکی آزاد، شیوم گپتا، سید اشرف حسین، راکیش کنوجیہ، محمد یوسف ناوید، اشفاق احمد، محمد جاوید، محمد حلیم، ڈاکٹر فاروق، آرکے گوتم، ڈاکٹر اے آر خنر ڈاکٹع این یو جمالی، قاضی فرزان، سید ظفر احمد، دیاندھی، معراج، تنویر، ریحان، سلیمان، عبدالغنی، پرنس خان، محمد نعیم، محمد ایوب، ثاقب، زید، شبیر، عاقب، ہردے گوتم، ماجدہ، سمیہ، فائزہ، حنا کوثر، سائرہ، شاہدہ، زاہدہ،سویتا، انجو گوسوامی، ریتا کشیپ وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں.

Leave a Reply