شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف بستی میں اُمنڈا عوامی سیلاب۔ خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی








 بستی سے محمد ابوحذیفہ کی رپورٹ

ملت ٹائمز: شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے ) این پی آر اور این آرسی کی مخالفت میں آج ایک بارپھر اترپردیش کے شہر بستی کی اہم شاہراہ پر عوامی سیلاب امنڈ پڑا۔شہریت قوانین میں ترمیم کے خلاف نکالے گئے ’آئین بچائوشانتی مارچ‘ میں ہزاروں کی تعداد میں نوجوانوں کیساتھ بڑی تعداد میں پردہ نشین خواتین نےشرکت کرکے سیاہ قانون کی مخالفت کی۔ جلوس کی قیادت کانگریس پارٹی بستی نے کی۔ اس دوران انتظامیہ نے سیکورٹی کے سخت بندوبست کئے تھے، چپہ چپہ پر پولیس وپی اے سی کے جوان تعینا ت تھے۔

 ’آئین بچائو شانتی مارچ‘ کٹیشور پارک واقع کانگریس دفتر سے صبح ۱۱؍بجے نکل کر گاندھی نگر پکہ بازارہوتے ہوئے کلکٹریٹ واقع شاستری چوک پہونچ کر اختتام پذیر ہواجہاں لوگوں نے ایک آواز ہوکر آئین کو بچانے کا حلف لیا اور آئین کی پرستاوناپڑھی گئی ، اس کے بعد قومی گیت ’جن گن من‘ پڑھا گیا ۔ مارچ کے اختتام پر انقلاب زندہ باد کے نعرے بھی لگائے گئے۔اس کے بعد اے ڈی ایم کے توسط سے صدر جمہوریہ کو ۴؍نکات پر مشتمل میمورنڈم بھیجا گیا۔ جس میں سی اے اے جیسے سیاہ قانون کو اپس لینے سمیت دیگر مطالبات کئے گئے ہیں۔

  سابق وزیر راج کشور سنگھ نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے مسلسل دوسری بار لالچ دے کرحکومت تو بنالی لیکن نہ تو نوجوانوں کو روزگار ملا اور نہ ہی کسان کی آمدنی دوگنی ہوئی اور نہ ہی ایسا کوئی قدم اُٹھایا گیا کہ جس سے ملک ترقی کرسکے ۔ملک کو گمراہ کرنے کے لئے سی اے اے ، این پی آر اوراین آر سی جیسے کالے قانون لا کر وہ ملک کو تقسیم کرنے کا کام کررہی ہے۔

  کانگریس کےضلع صدر انکور ورما نے کہاکہ اس کالے قانون کو انہیں واپس لینا ہی ہوگا، جس طرح یہ لوگ دوطرح کی باتیں کررہے ہیں۔ مودی جی کہتے ہیں کہ این آر سی پر کوئی چرچا بھی نہیںہوئی ، جبکہ ہوم منسٹر امیت شاہ کہتے ہیں کہ این آر سی پورے ملک میں لاگوہوکر رہےگی۔ اس سے ملک کی عوام میں خوف دہشت کا ماحول پیدا ہوگیاہے ، جس کا نتیجہ ہے کہ آج ملک کی عوام حکومت کیخلاف سڑکوں پر اُتر گئی ہے۔ کانگریس کے سابق ریاستی سکریٹری دیویندر سنگھ نے کہا کہ بی جے پی اپنی ناکامیوں کو چھپانے کی کوشش کررہی ہے، ملک میں مہنگائی، بیروزگاری اور کرپشن جیسے ایشوز پر اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے ملک کے عوام پر این پی آر اور این آرسی وسی اے اے جیسے سیاہ قانون کو تھوپ رہی ہے تاکہ عوام اصل مسائل سے بھٹک جائے۔

 کانگریس کی طرف سے نکالے گئے اس شانتی مارچ کی شہر کے سبھی مذاہب کے لوگوں نے حمایت کی اور ہزاروں کی تعداد میں مارچ میں شامل بھی ہوئے، لوگ اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ لئے ہوئے تھے ، جس میں ’نو سی اے اے ، نو این آرسی ونو این پی آر، رجیکٹ سی اے اے ، رجیکٹ این پی آر، ہندومسلم سکھ عیسائی، آپس میں ہیں سب بھائی بھائی، ایکتا کا راج چلے گا، ہندومسلم ساتھ چلےگا، جیسے مختلف نعرے تحریر کئے گئے تھے۔ واضح رہے کہ مارچ کی قیادت کانگریس کے سینئر وقدآور لیڈران نے کی جس میں بطور خاص سابق ریاستی سکریٹری دیویندر سنگھ، ضلع صدر بستی انکور ورما، سابق کابینی وزیر راج کشور سنگھ، سابق ایم ایل اے، امبیکا سنگھ، سابق ممبر اسمبلی افسر یو۔احمد، سابق وزیر برج کشور سنگھ ڈِمپل، سینئر کانگریسی لیڈر ڈاکٹر کتاب اللہ انصاری، ایاز احمد ، یوا کانگریس ضلع صدر آدتیہ ترپاٹھی، محمد رفیق خان، چیئر مین نگر پنچایت ببھنان محمدسعید خان، ڈاکٹر واحد صدیقی، محمدرفیق کے علاوہ قاضی فرزان احمد، ابر اراحمد، سید اشرف حسین وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *