شہریت ترمیمی قانون کا معاملہ: حکومت ٹال مٹول کا رویہ اپنا رہی ہے اس لئے کورٹ کو خود عوامی تحریک کا نوٹس لیکر فیصلہ دینا چاہئے: مولانا بدرالدین اجمل








نئی دہلی: (ملت ٹائمز) آج چیف جسٹس ایس اے بوبڈے، جسٹس عبد النظیر اور جسٹس سنجے کھنہ پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے آج متنازعہ شہریت ترمیمی قانون پرد اخل پٹیشنوں پر سماعت کرتے ہوئے اس قانون پر یہ کہتے ہوئے روک لگانے سے انکار کر دیا کہ مرکزی حکومت کی رائے سنے بغیر ہم ایسا نہیں کر سکتے ۔واضح رہے کہ پچھلی سماعت پر حکومت کو نوٹس جاری کرکے اپنا جوابی حلف نامہ اخل کرنے کو کہا تھا مگر حکومت نے حلف نامہ داخل نہیں کیا اسلئے کورٹ نے ایک بار پھر نوٹس جاری کرکے اسے اپنا حلف نامہ داخل کرنے کو کہا ہے ۔ کورٹ نے یہ بھی کہا ہے کہ اس معاملہ کو پانچ رکنی آئینی بنچ کے ذریعہ سماعت کئے جانے پر فیصلہ پر غور کیا جائے گا۔ آج کی سماعت کے دوران ایک اہم بات یہ ہوئی کہ سپریم کورٹ نے آسام اور تریپورہ کے معاملہ کو ملک کے باقی حصوں سے الگ کردیا ہے یعنی آسام اور تریپورہ کے لوگوں کی جانب سے فائل کردہ پٹیشنبوں پر سماعت الگ ہوگی اور ملک کے باقی حصہ کے لوگوں کی جانب سے فائل کردہ پٹیشنوں کی سماعت الگ ہوگی۔، اس کی وجہ یہ ہے کہ آسام کے حالات بالکل الگ ہیںکیونکہ وہاں این آر سی کا کام پہلے ہو چکا ہے اور شہریت ترمیمی قانون کے نفاذ سے وہاں فوری طور پر اثر پڑنے والا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے این آر سی کا کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا ، دوسری بات یہ کہ اس متنازعہ قانون کے نفاذ سے آسام اکورڈ (جس کے تحت ۱۷۹۱ کے بعد آنے والوں کو غیر ملکی قرار دیا جائے) بالکل بے معنی ہو کر رہ جائے گا کیونکہ اس قانون کے تحت ۴۱۰۲ تک آنے والے غیر مسلموں کو شہریت دینے کی بات کی گئی ہے اسلئے وہاں کے معاملہ کو اہمیت دیتے ہوئے کورٹ نے مرکزی سرکار کو دو ہفتے میں حلف نامہ داخل کرنے کو کہا ہے جبکہ ملک کے بقیہ حصوں سے داخل پٹیشنوں کے لئے سرکار کو چار ہفتے میں جواب داخل کرنے کو کہا ہے کیون کہ باقی جگہوں کا معاملہ وہاں کی طرح نہیں ہے۔ آج کی سماعت کے بعد آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیموکریٹک رنٹ کے قومی صدر و رکن پارلیمنٹ مولانا بدر الدین اجمل جو جمعیة علماءصوبہ آسام کے صدر بھی ہیں نے کہا کہ معاملہ کی سنگینی کے پیشِ نظر ہم نے جمعیة علماءصوبہ آسام کی جانب سے ایک مقدمہ WP (c) No.1515/2019 فائل کیا تھا اور وسرا مقدمہ اپنی پارٹی کی جانب سے WP (c) No. 000192/2020 فائل کیا تھا کیونکہ سرکار نے پارلیمنٹ میں اپنی تعداد کے بل بوتے پر زبردستی قانون بنا لیا اسلئے ہمارے لئے کورٹ اور سڑک کا راستہ باقی رہ گیا تھا۔ مگر حکومت کی ہٹ ھرمی ہے کہ وہ نہ سڑک پر نکلے ہوئے لوگوں کی آواز سننے کو تیار ہے اور نہ ہی کورٹ میں اپنا موقف رکھ رہی ہے بلکہ وہ ٹال متول والا رویہ اپنا رہی ہے اس لئے کورٹ کو چاہئے کہ وہ خود نوٹس لیکر اس پر فیصلہ سنائے اور اس سیاہ قانون کو مسترد کرے۔ انہوں نے کہا کہ بہر حال آج کورٹ نے حکومت کو ایک بار پھر سے نوٹس دیا ہے اسلئے ہم امید کرتے ہیں کہ اب اگلی سماعت پر حکومت کی درامہ بازی کو عدالت تسلیم نہ کرتے ہوئے عوام کی فریاد کو سنکر کوئی اہم فیصلہ سنائے گی۔


Posted

in

,

by

Tags:

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *