ہندوستان کی مذہبی رواداری اور اس کے تانے بانے کو متشرکرنے والے قانون (سی اے اے،این آرسی) کے خلاف ۴۰ روز سے زیادہ سے جاری ملک بھرمیں مظاہرے اور زبردست احتجاج کے دوران سپریم کورٹ نے جہاں معاملہ کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے آئندہ سماعت کیلئے ۵ ججوں کی بنچ بنانے کا اشارہ دیا وہیں فوری طوری پر مودی کے سی اے اے پر اسٹے لگانے سے صاف انکار کردیا ہے، جس سے عدلیہ پر انصاف کی نظریں جمائے ہوئے احتجاجیوں کو کافی مایوسی ہوئی ہے۔کیوں کہ مذہب کی بنیاد پر بننے والے قانون کو ہندوستان جیسے جمہوری ملک کسی بھی طرح نافذ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ہندوستانی آئین اس کی اجازت قطعی نہیں دیتا تو پھر کیوں عدالت کے ذریعہ اسے کالعدم قراردینے میں تاخیر کی جارہی ہے؟۔ اب اگر عدالت نے ۵ ہفتہ کے بعد سماعت کی ہدایت دے بھی دی ہے تو مزید تاخیر اور تاریخ پہ تاریخ نہ ہو۔کیوں کہ اس کی آڑ میں مجرموں کے حوصلے بہت بلند ہوجاتے ہیں اور وہ اسی ایام میں اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، ثبوتوں کو مٹانے کی کوشش اور گواہوں کی خرید و فروخت تو آج کے دور کی عادت سی بن گئی ہے ۔اسی لئے عدالت میں تاریخ پہ تاریخ کی روایت بڑھتی جارہی ہے۔مودی حکومت بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اس کے کارندے اس میں بہت ماہر ہیں۔ ایسے میں ضروری ہے کہ عدلیہ معاملہ کو طول دینے کی بجائے جلد از جلد فیصلہ کرنے کو ترجیح دے۔ مرکزی حکومت کے اڑیل رویہ اور غیر آئینی قانون کے خلاف سڑکوں پر اترے لوگوں کو صرف عدلیہ پر ہی بھروسہ ہے ، ایسے میں اگر عدالت سے بھی مثبت نتیجہ نہ آئے تو جمہوریت کے استحکام کیلئے لڑنے والے لوگوں کے حوصلے پست ہوجائیں گے۔ سپریم کورٹ کے اس رخ سے بظاہر مودی حکومت کو راحت ملتی ہوئی نظر آرہی ہے لیکن احتجاجوں میں شامل افراد خصوصاً خواتین کا مانناہے کہ اس سے ہمارے حوصلے مزید مضبوط ہوں گے اور مظاہرے میں مزید شدت پیدا ہوگی، کیوں کہ ملک بھر میں ہندتوا نظریہ کو فروغ دینے والے قانون کے خلاف تحریکیں بھڑک اٹھی ہیں، یہ اسی وقت ٹھنڈی ہوں گی جب مودی حکومت اپنے قانون کو واپس لے گی یا اس میں ترمیم کرے گی۔ مسئلہ صرف مسلمانوں کا ہوتا تو وہ کب نہ کب ختم ہوگیا ہوتا لیکن چونکہ معاملہ ہندوستان کی گنگاجمنی تہذیب کے تحفظ کا ہے، اس لئے ان تحریکوں کو کامیاب ہونا بہت ضروری ہے۔ ملک کے حالات دن بہ دن خراب ہوتے جارہے ہیں۔ عوام اور ملک مخالف قانون بناکر جمہوریت کا خون کیا جارہا ہے۔اخوت و بھائی چارگی کے ساتھ رہنے والے ہندوستانیوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت کی بیج بوکر اس کی وقتاً فوقتاً آبیاری کی کوشش کی جارہی ہے۔ ملک میں آج ہنگامی صورت حال ہے، ملک کساد بازاری کا شکار ہے اور نوجوان بے روزگار گھوم رہے ہیں لیکن مود ی حکومت آر ایس ایس کے انتہاپسندانہ نظریات کو تمام ہندوستانیوں پر مسلط کرنے میں اپنی پوری کوششیں صرف کررہی ہے۔ ملک کے لوگوں نے مودی حکومت کی اس سازش اور اس چال کو سمجھ لیا ہے۔ اس لئے مہنگائی کا مار جھیلتے ہوئے آئندہ کی نسلوں کووہ تحفظ فراہم کرنے کیلئے آج پورا ہندوستان سراپا احتجاج ہے۔تمام مذاہب کے ماننے والوں کا اتحاد خود کے ساتھ ساتھ اپنے دیگر دلت اور غریب بھائیوں کو بچانے کا ہے۔ بہت سے غریب ہیں جن کے پاس ان کی پیدائش کے کوئی ثبوت نہیں ہیں، این آر سی آنے پر ان کو لاکھوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھاری پریشانی اٹھانی پڑے گی۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار آئین کے برخلاف مذہب کی بنیاد پر کوئی قانون بنایاگیاہے، اسی لئے ۷۲ برسوں میں پہلی بار آئین کی حفاظت کیلئے تمام مذاہب کے لوگ حکومت کے فیصلہ کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ چاروں طرف سڑکوں پر مظاہرے ہورہے ہیں۔ آزادی کے نعروں سے ملک گونج رہاہے ۔ جلوس کے دوران، ’ ہم لے کر رہیں گے آزادی ‘، ’ ہندوستان زندہ باد ، انقلاب زندہ باد ‘، ’سی اے اے قانون واپس لو‘ جیسے فلک شگاف نعرے گونج رہے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے مسط کیا گیا شہریتی ترمیمی قانون ’ مخصوص طبقہ‘ کے ساتھ دوغلا سلوک ہے۔ شہریت ترمیمی قانون ، ان تینوں ممالک سے آنے والے تمام افراد کیلئے نہیں ہے بلکہ اس میں یہ شق بھی شامل ہے کہ اس قانون سے ان تینوں ممالک کے صرف وہ افراد فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو ہندو، سکھ، بودھ، جین، پارسی یا کرسچن ہوں۔ غور کیا جائے تو اس قانون میں اسلام کا نام نہیں لیا گیا لیکن در حقیقت اس کا مقصد صرف مسلمانوں کو اس قانون کے دائرے سے باہر رکھنا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے لحاظ سے بھی یہ قانون درست نہیں ہے۔ کیونکہ یہ مذہب کی بنیاد پر کچھ لوگوں کے ساتھ امتیازی سلوک برت رہا ہے۔ کسی بھی ملک کا کوئی بھی قانون کسی بھی انسان سے مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کرسکتا۔ اب ہندوستان نے ایسا قانون بنا لیا ہے تو صاف ظاہر ہے کہ آگے چل کر ہندوستان مزید ایسے قوانین بھی بنائے گا جن میں مذہب کی بنیاد پر انصاف کے پیمانے ہندو اور غیر ہندو کیلئے الگ الگ ہوں گے۔ یہ سب اصل مذہبی انتہا پسندی نہیں تو کیا ہے؟ اس لئے ضروری ہے کہ عدلیہ کے فیصلہ کا انتظار کرتے ہوئے آئین کے تحفظ کیلئے اٹھنے والی آوازوں کو بلند کیا جائے۔ کیوں کہ آئین کا تحفظ ملک اور عوام کا تحفظ ہے۔
رابطہ: 8527118529

Leave a Reply