سہرسہ : (جعفرامام قاسمی) سمری بختیار پور ڈویزن کے رانی باغ میں جاری دھرناکے چوتھے دن صبح سے ہی مردوں کے علاوہ بڑی تعدادمیں عورتیں اپنے ہاتھوں میں ترنگاجھنڈا مہاتما گاندھی،بھیم راوامبیڈکراورمولاناابوالکلام کی تصویرلگی تختیاں لیے اوراپنی پیشانیوں پرنوسی اےاے،نواین پی آراورنواین آرسی لکھی پٹیاں باندھے جوق درجوق دھرناگاہ پہنچناشروع کیااوردیکھتے دیکھتے چندساعت میں دھرناگاہ کاکوناکوناپرہوگیا۔اورمجمع کی جانب سے وقفے وقفے پر اس سیاہ قانون کے خلاف لگائے جارہے فلک شگاف نعروں سے پورا رانی باغ گونجتارہا۔غورطلب رہے کہ آج کے دھرنامیں بڑی تعدادمیں دلت سماج کی عورتیں شریک ہوکرسی اے اے مخالف نعروں سے مظاہرین کے اندر جوش بھرتی نظر آئیں۔وہیں آج کے دھرنامیں کانگریس پارٹی کے اقلیتی شعبہ کے صوبائی صدرواترپردیش کے انتخابی امور کے انچارج منت رحمانی نے خصوصی طورپرشرکت کی۔اورمجمع کی جانب سے آزادی کانعرہ لگاکران کاپرزوراستقبال کیاگیا۔بعدازاں انہوں نے دھرناکوخطاب کیا۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ ہم لوگ شاہین باغ کے دھرناپرپہلے دن بیٹھے توہم لوگوں کے ساتھ دس بیس عورتیں ہی بیٹھیں آج وہاں اس دستورہندمخالف سی اے اے قانون کے خلاف لاکھوں مائیں اوربہنیں دھرناپربیٹھی ہوئی ہیں اورانہی ماوں اوربہنوں کےجذبات کودیکھ ملک کے اکثرمقامات میں کئی شاہین باغ بن چکے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مجھے فخر ہے رانی باغ کی ماوں اوربہنوں پربھی جورانی باغ کوبھی شاہین باغ بنائے ہوئی ہیں۔انہوں نے کہاکہ میں نے اپنے پندرہ سالہ دورسیاست میں بہت ساری تحریکیں دیکھیں لیکن کسی تحریک میں اتنی بڑی تعدادمیں خواتین کی شرکت نہیں دیکھی۔انہوں نے اپناخطاب جاری رکھتے ہوئے کہاکہ ہم نے واجپئی جی کا بھی دورحکومت دیکھالیکن اس دورمیں اس حکومت کی طرح ہم نےنہ لوجہادکی بات سنی،نہ اقلیتی طبقہ کے لوگوں پرظلم وبربریت کاننگاناچ ہوتے دیکھااورنہ اس طرح کی تاناشاہی دیکھی۔انہوں نے کہاکہ آسام میں جب تیرہ لاکھ غیرمسلم این آرسی سے باہرہوگئی اوراس کی وجہ سے مودی اورامیت شاہ کواپنی حکومت کاچراغ بجھتانظرآیاتویہ سی اے اے لاکرغیرمسلموں کوتسلی دیناشروع کردیے کہ ہندووں کواین آرسی سے گھبرانے کی قطعاضرورت نہیں ہے ۔اس سی اے اے کے ذریعے ہرہندوکوشہریت دی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ اس مکارحکومت کی مکاری نوٹ بندی کے موقع پر ہندوستان کے عوام دیکھ چکے ہیں جب نریندرمودی نے اعلان کیاتھاکہ مجھے پچاس دنوں کاوقت دیجیے میں کالادھن واپس لاکردکھاوں گالیکن یہ کالادھن کیاواپس لاتے اس نوٹ بندی کی آڑ میں اربوں روپے کاگھوٹالہ اس حکومت نے کیا۔اس لیے اب اس کی مکاری نہیں چلنے والی ۔ہندسستان کے عوام اس کوجلد مزہ چکھائیں۔گے۔ان کے علاوہ دھرناکوکانگریس کے ضلع صدرپ مشرا، چھترییادو،سریندریادو،رام شرن کمار،صحافی شہنواز بدر قاسمی، منوج کمار،مجنوں حیدر،سید ساجد اشرف، اخترصدیقی، پی ایچ ڈی کی طالبہ ندرت پروین،خدیجہ خاتون،مظفرعادل،پن پن یادو،بھیم۔شرن ہنس وغیرہ نے خطاب کیا۔وہیں شمع پروین ،تحسین فاطمہ اورا نے اپنی پرت آوازم نظمیں پیش کرکے محفل میں تازگی پیدا کردی۔ آج کی دھرناکی صدارت سید ساجد اشرف فرمائی جب کہ نظامت کے فرائض سیدھلال اشرف نے انجام دیا۔آج کے دھرنامیں شرکت کرنے والوں میں جاوید اختر عرف گڈو، چاندمنظرامام، محبوب عالم،صحافی وجیہ احمد تصور، حافظ سعدالدین، مسعوداختر جاوید، عبدالسلام۔ امین، رفیع عالم چکمکہ،عرفان خان،مشتاق عالم،نعمان عالم خان،جاویداقبال عرف گڈو،اجے بڑھی، گلریز عالم ،شاھد مصطفے، محمد آرزوو کان قابل ذکرہے۔

Leave a Reply