لوہار ڈاگا: (ایم این این) جھارکھنڈ کے ضلع لوہارڈاگا میں املا ٹولی علاقے میں شہریت ترمیمی قانون کے حمایت میں نکالی گئی ریلی پر پتھراؤ کے بعد تناؤ کا ماحول پیدا ہوگیا ہے۔فی الحال حالات وہات کشیدہ ہیں۔اسی کشیدگی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے پورے علاقے میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق شہری علاقے میں سی اے اے کی حمایت میں بجرنگ دل اور بی جے پی کے کارکنان نے گذشتہ دنوں ایک ریلی نکالی تھی جس کے بعد وہاں حالات خراب ہوگئے ہیں۔
کہا جا رہا ہے ہے کہ جلوس پر پتھر بازی ہوئی جس کے بعد علاقے میں تناؤ کا ماحول بنا ہوا ہے۔اطلاعات کے مطابق علاقہ میں آتشزنی اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئیں ہیں، کئی گاڑیوں کو آگ کے حوالے کردیا گیا، اس کے علاوہ کئی دکانوں اور گھروں میں بھی آگ لگا دیا گیا۔ضلع انتظامیہ نے معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پورے ضلع میں کرفیو نافذ کردیا ہے۔ وہیں موقع پر پہنچ کر ڈی سی آکانشا رنجن اور ایس پریہ درشی آلوک نے صورتحال کا جائزہ لیا۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ جلوس جامع مسجد کے سامنے سے گذر رہا تھا اس پر مسلمانوں نے کوئی اعتراض نہیں کیا لیکن جلوس کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز نعرے لگائے گئے۔ پاکستان جاؤ جیسے الفاظ کہے گئے ، بی جے پی اور آر ایس ایس کے کارکنان نے فرقہ پرستی پر مبنی نعرے لگائے جس کے بعد حالات خراب ہوگئے اور جلوس میں شامل افراد نے علاقہ میں توڑپھوڑ شروع کردیا۔پتھراؤں میں ایس پی پریہ درشی آلوک بھی زخمی ہوگئے۔ ڈی سی نے لوگوں سے درخواست کی کہ وہ کسی بھی قسم کے افواہوں پر دھیان نہیں دینے اور امن کو برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔

Leave a Reply