چین: کورونا وائرس سے اب تک 304 ہلاک، 14 ہزار متاثر، 337 افسروں کو سزا، امریکہ میں کورونا وائرس سے متاثر افراد کی تعداد 8 ہوئی 

32

چین کے سرکاری ذرائع کے مطابق اس انفیکشن سے ہفتے کو 45 لوگوں کی موت ہو گئی اور اس طرح سے ملک بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک کل 304 اموات واقع ہو چکی ہیں

بیجنگ: چین میں کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے اور اب تک ہلاک شدگان کی تعداد 200 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ تقریباً 14 ہزار لوگ اس کی وائرس کی زد میں ہیں۔ چین کے سرکاری ذرائع کے مطابق اس انفیکشن سے ہفتے کو 45 لوگوں کی موت ہو گئی اور اس طرح سے ملک بھر میں کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک کل 304 اموات واقع ہو چکی ہیں۔

اس انفیکشن میں مبتلا مریضوں کی تعداد اتوار کی صبح تک 13983 پہنچ گئی، جس میں 13816 مریض چین کے ہیں۔ پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 2100 سے زیادہ معاملے سامنے آئے ہیں۔ ابھی تک 331 لوگوں کو اسپتال سے چھٹی ملی ہے۔

لاپروائی برتنے والے 337 افسروں کو سزا

چین میں ہوانگ گین سٹی انتظامیہ نے کورونا وائرس سے نمٹنے میں لاپروائی برتنے کے سلسلے میں 337 افسروں کو سزا دی ہے۔ شہر کے میئر کیولکسن نے ہفتے کو یہ اطلاع دی۔انہوں نے کہا، ’’کورونا وائرس کے بارے میں معلومات نہیں تھی اور ہم اس سے نمٹنے کےلئے پوری طرح سے تیار نہیں تھے۔ کچھ افسروں نے اس پر مناسب توجہ نہیں دی اور صحیح طریقےسے کام نہیں کیا۔ اس وجہ سے اس انفیکشن کی روک تھام میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔‘‘

انتطامیہ نے مقامی لوگوں کے گھروں سے نکلنے پر روک لگادی ہے۔ انتظامیہ کے حکم کےمطابق ایک خاندان کے ایک شخص کو ہر دو دنوں میں ضروری سامان خریدنے کے لئے گھر سے نکلنے کی اجازت دی گئی ہے، جبکہ خاندان کے باقی لوگ گھروں میں ہی رہیں گے۔

واضح رہے کہ چین میں کورونا وائرس کا پہلا معاملہ گزشتہ سال دسمبر کے آخر میں ووہان شہر میں سامنے آیاتھا۔موجودہ وقت میں یہ دنیا کے اب تک 20سے زیادہ ملکوں میں پھیل چکا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اس سلسلے میں بین الاقوامی سطح پر ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔

امریکہ میں مریضوں کی تعداد 8 ہوئی

چین کے شہر ووہان سے ایک 20 سالہ شخص کے امریکہ کے شہر بوسٹن واپس آنے پراس میں کورونا وائرس پائے جانےکے بعد پورے ملک میں انفیکشن میں مبتلا مریضوں کی تعداد 8 ہو گئی ہے۔ محکمہ صحت سے وابستہ عہدیداروں کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ شخص جو چین سے واپس آیا تھا، اس کو طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔

میساچوسٹس ڈیپارٹمنٹ آف پبلک ہیلتھ کمشنر مونیکا بھریل نے کہا، ’’شکر ہے کہ یہ نوجوان صحت یاب ہو رہا ہے اور ایسا اس لئے ممکن ہو پایا کیونکہ علاج بروقت کیا گیا۔‘‘ بوسٹن ہیرالڈ اخبار کے مطابق، جس شخص میں کورونا وائرس ملا تھا، وہ میساچوسٹس یونیورسٹی کا طالب علم ہے اور 28 جنوری کو بوسٹن واپس آیا تھا۔ اگلے دن سے ہی اس کا علاج شروع ہو گیا تھا۔