مشیرِ سخن کے زیر اہتمام کل ہند مشاعرہ و کوی سمّیلن کا انعقاد

11

نئی دہلی(پریس ریلیز)
ترسیل فاﺅنڈیشن رجسٹرڈ ،دہلی کے زیرسرپرستی ادبی تنظیم ”مشیرِسخن “ کے زیر اہتمام اوٹاوا (کنیڈا) میں مقیم مشہور شاعر و دانشور ڈاکٹر شاہد صدیقی کی چوتھی کتاب ”ہماری زندگی اسلام کی روشنی میں۔رمضان“ کا رسمِ اجرا و کل ہند مشاعرہ و کوی سمّیلن کا انعقادغالب اکیڈمی، بستی حضرت نظام الدین میں عمل میں آیا۔ اس موقع پرمشیرِسخن کے صدر جناب شاہدانور نے ایک پرتکلف و باوقار مشاعرہ کا اہتمام کیا جس کی صدارت مشہور صحافی، ادیب و شاعر جناب فاروق ارگلی نے فرمائی ۔ مہمانِ خصوصی کے طور سپریم کورٹ کے وکیل جناب منوج گوئل صاحب،جناب صہیب فاروقی صاحب اور مہمانانِ ذی وقار کی حیثیت سے جناب خالد فریدی، جناب محمد ہارون حسینی اورجناب عزیرحسین قدوسی نے شرکت کی۔کتاب کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب ہارون حسینی صاحب نے فرمایا کہ اس کتاب کی اہمیت کو تنقیدی نگاہ سے دیکھنے کی بجائے تحسین کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ فاروق ارگلی صاحب نے فرمایا کہ اس کتاب کی روحانی حیثیت سے ہم سب کو فیض یاب ہونا چاہیے۔ منوج گوئل صاحب نے فرمایا کہ ڈاکٹر شاہد صدیقی ایک پرکشش شخصیت کے مالک ہیں اوریہ تصوف کا سلسلہ انھیں اپنے والد سے ملا جسے وہ ہم تک پہنچارہے ہیں۔ نشست میں پڑھے گئے کلام کے منتخب اشعارقارئین کے ذوق کی تسکین کے لیے پیش ہیں:
جب شہیدانِ وطن غدار ٹھہرائے گئے
رہزنوں کے نام آبِ زر سے لکھوائے گئے
(فاروق ارگلی)
خفا ہے نیند بھی اور خواب بھی نہیں آتے
ہمیں تو سونے کے آداب بھی نہیں آتے
(عرفان اعظمی)
سارے چہرے حقیقت اگلنے لگے
میری آنکھوں کو کیسا ہنر آگیا
(منیر ہمدم)
اک اک ورق جدا ہے مقدس کتاب سے
مذہب ہوا کے دوش پہ ہے انقلاب سے
(ڈاکٹر عفت زرّیں)
ہم لعل ہیں بھارت ماتا کے مٹی کا قرض چکائیں گے
گر آنچ وطن پر آئی تو سینوں پر گولی کھائیں گے
(ارشد ندیم)
میں اپنے سر کو بچانے کہاں کہاں جاﺅں
یہ راہیں ساری ہی مقتل کو جانے والی ہیں
(شاہدانور)
مقابلہ ہے تو دو بدو ہو مزہ تو جب ہے
اِدھر شکایت اُدھر شکایت نہیں چلے گی
(جاوید مشیری)
میں جھک گیا ہوں شاخِ ثمردار کی طرح
دنیا کو لگ رہا ہے گنہگار کیک طرح
(صہیب فاروقی)
کیوں کسی چاند کا احسان اٹھایا جائے
یعنی رستہ تو یہ جگنو بھی دکھاتا ہے مجھے
(معین شاداب)
کلیاں ہیں بے قرار تو گل انتشار میں
کیسی یہ آگ لگ گئی فصلِ بہار میں
(خالد فریدی)
اب اس قدر بھی تو بے آبرو نہ سمجھا جائے
کہ آرزو کو مری آرزو نہ سمجھا جائے
(خالد اخلاق)
اٹھیں! کہ عرش سے لشکر کوئی نہ آئے گا
اشارہ سمجھیں دعا میں نہ جب اثر دیکھیں
(علینہ عترت)
وہ نظر سب کی جو قسمت پہ بولنے والی
میرے حق میں ہے فقط آگ اگلنے والی
(قمر انجم)
آئینہ ہر دور میں توڑا جاتا ہے
لیکن سچ کو قدرت زندہ رکھتی ہے
(طارق عثمانی)
تیری محفل ہے جسے چاہے مقابل کردے
پھر ہو گفتار یا تکرار سمجھ لوںگا میں
(عمران راہی)
حقیقتوں کو سنبھالوں یا خواب دیکھوں میں
جہانِ دل کا کہاں تک حساب دیکھوں میں
(سیف الدین سیف)
بدلا نہیں ہوں جان میں شادی کے بعد بھی
جیسی نگاہ تھی مری ویسی نگاہ ہے
شادی سے قبل بھی مجھے شادی کا شوق تھا
شادی کے بعد بھی مجھے شادی کی چاہ ہے
(انس فیضی)
سخن شناس کہیں گے مجھے غزل پرور
اب اس کمال کی حد سے نکل چکی ہوں میں
(آشکارا خانم کشف)
تمثیل بن گئی ہو جہاں حسن کی کشش
یوسف کے ساتھ مصر کا بازار دیکھیے
(چشمہ فاروقی)
بھیڑ بڑھنے لگی ہے چہروں کی
آئینہ بھی حجاب کرتا ہے
(شاہ رخ عبیر)
ان درختوں نے ہمیں دیکھا ہے ہجرت کرتے
دور جاتا ہوا تو دور سے آتا ہوا میں
(علی ساجد)
دشمنی ہی نبھانے میں مصروف ہیں
ان کو فرصت کہاں دوستی کے لیے
(اقبال مسعودی ہنر)