کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 13 ہزار سے زائد اور متاثرہ افراد تین لاکھ سے متجاوز، اس عالمی وبا پر قابو پانے کے لئے 35 ممالک میں لاک ڈاؤن کا اعلان

کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تیرہ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس عالمی وبا پر قابو پانے کی خاطر 35 ممالک میں لاک ڈاؤن کر دیا گیا ہے جبکہ متعدد ممالک نے اپنی اپنی سرحدیں عارضی طور پر بند کر دی ہیں۔

نئے کورونا وائرس کی وبا دنیا کے 186 ممالک تک پہنچ چکی ہے۔ اب تک اس عالمی وبا سے تیرہ ہزار پانچ سو افراد ہلاک جبکہ تین لاکھ سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔ پاکستان میں مریضوں کی تعداد 645 اور ہلاکتوں کی تعداد چار ہو چکی ہے۔ چین میں چوتھے دن مقامی سطح پر نئے کورونا وائرس کا صرف ایک کیس رپورٹ کیا گیا ہے۔
اسپین میں کووڈ انیس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 1,720 ہو گئی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق اس عالمی وبا کی وجہ سے اس ملک میں ایک دن میں 384 ہلاکتیں ہوئیں۔
جرمن چانسلر انگیلا میرکل اتوار کی شام سولہ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک ٹیلی کانفرنس کریں گی، جس میں ملک بھر میں لاک ڈاؤن پر غور کیا جائے گا۔ چار جرمن صوبے پہلے ہی لاک ڈاؤن کیے جا چکے ہیں۔
اٹلی میں غیر ضروری اشیا کی پروڈکشن کو بند کر دیا گیا ہے۔ اطالوی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ اس وقت ملک کو ’دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے زیادہ سنگین حالات کا سامنا ہے‘۔ کووڈ انیس کے باعث اٹلی میں ہلاکتوں کی تعداد 4,625 ہو چکی ہے جبکہ تقریبا 5300 افراد متاثر ہو چکے ہیں۔
ايرانی سپريم ليڈر آيت اللہ خامنہ ای نے کورونا وائرس کی عالمی وبا سے نمٹنے کے ليے امريکی مدد کی پيشکش ٹھکرا دی ہے۔ اپنی تقرير ميں ايرانی سپريم ليڈر نے چند حلقوں ميں گردش کرنے والے اس سازشی نظریے کو فروغ دیا، جس کے مطابق نيا کورونا وائرس امريکا ميں کسی ليبارٹری ميں تيار کيا گيا۔  گو کہ اس بارے ميں نہ تو کوئی مستند معلومات موجود ہيں اور نہ ہی کوئی شواہد۔ دريں اثناء ايران ميں آج بروز اتوار کووڈ انيس کے باعث مزيد 129 افراد کی ہلاکت کے بعد ملک ميں اس وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی مجموی تعداد 1,685 ہو گئی ہے۔ ايران ميں  کووڈ انيس کے مريضوں کی تعداد 21,638 ہے۔
چیک جمہوریہ نے کہا ہے کہ کووڈ انیس میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد 1,047 ہو گئی ہے۔ ادھر رومانیہ نے اس عالمی وبا کی وجہ سے پہلی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
افریقی ملک اریتریا میں کووڈ انیس کے پہلے کیس کو رپورٹ کر دیا گیا ہے۔ یوں براعظم افریقہ میں اس عالمی وبا سے متاثر ہونے والے ممالک کی تعداد 39 ہو گئی ہے۔
ترکش ایئر لائنز نے کہا ہے کہ نئے کورونا وائرس کی وجہ سے پروازوں کی منسوخی کے نتیجے میں اس کے پچاسی فیصد مسافر بردار طیارے استعمال نہیں کیے جا رہے۔
عالمی ادارہ صحت نے نئے کورونا وائرس سے متعلق واٹس ایپ پر مفت معلومات فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

https://twitter.com/WHO/status/1241134713575800834?s=19

امريکی ہيلتھ ريگوليٹر ’يو ايس فوڈ اينڈ ڈرگ ايڈمنسٹريشن‘ (FDA) نے ہنگامی بنيادوں پر فيصلہ ليتے ہوئے اس ٹيسٹ کی منظوری دے دی ہے، جس کے ذريعے کسی مريض ميں صرف پينتاليس منٹ ميں نئے کورونا وائرس کی موجودگی يا عدم موجودگی کا پتہ چلايا جا سکتا ہے۔ ٹيسٹ ميں استعمال ہونے والا آلا کيلی فورنيا کی کمپنی ’سيفائيڈ‘ نے تيار کيا ہے۔ دنيا بھر ميں ايسے تيئس ہزار آلات موجود ہيں۔ کورونا ٹيسٹ ميں جلد نتيجے کو علاج اور وبا کو کنٹرول کرنے کی کوششوں ميں اہم قرار ديا جا رہا ہے۔ ايف ڈی نے اس عمل کی منظوری ہفتے کی رات دی۔
اتوار کے دن دنیا بھر میں نئے کورونا وائرس کی وجہ سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق اس عالمی وبا کی وجہ سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تیرہ ہزار سے زائد ہو چکی ہے۔ حفاظتی اقدامات کے طور پر دنیا کے مختلف ممالک میں تقریباً ایک بلین افراد کو گھروں میں رہنے کی تاکید کر دی گئی ہے۔ طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ وائرس انتہائی تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس سے نمٹنے کی خاطر سخت ایکشن لینے کی اشد ضرورت ہے۔
یورپ اور امریکا میں نئے کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اٹلی میں اس عالمی وبا سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریباً ساڑھے چھ ہزار ہو چکی ہے جبکہ صرف ایک دن میں ہی نئی ہلاکتوں کی تعداد آٹھ سو بتائی گئی ہے۔ یوں اس یورپی ملک میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہزار کے قریب پہنچ گئی ہے۔ ادھر امریکا کی کئی ریاستوں میں لوگوں کو گھروں میں رہنے کی تاکید کر دی گئی ہے۔
نئے کورونا وائرس کے پھيلاؤ کو روکنے کے ليے آج بروز اتوار بھارت ميں ايک دن کے ليے ملک گير سطح پر لاک ڈاؤن نافذ کر ديا گيا ہے۔ يوں ايک بلين سے زائد افراد اپنے گھروں ميں بند ہيں۔ وزير اعظم نريندر مودی نے اس ہفتے جمعرات کو اپنے عوام سے تاکیدکی تھی کہ وہ اتوار کو خود ساختہ کرفيو کے تحت اپنے اپنے گھروں ميں رہيں تاکہ انفيکشن کے پھيلاؤ کو روکا جا سکے۔ اس حکم نامے پر عملدرآمد مقامی وقت کے مطابق صبح سات بجے سے رات نو بجے تک جاری رہے گا۔ بھارت ميں کورونا وائرس کے باعث ہونے والی بيماری کووڈ انيس کے شکار افراد کی تعداد اس وقت تک تين سو سے زائد ہے۔ آج سے ايک ہفتے کے ليے تمام بين الاقوامی پروازوں کی بھارت آمد پر بھی پابندی ہے۔
افغانستان میں کورونا وائرس کے نئے دس کیس سامنے آئے ہیں۔ اتوار کے دن وزیر صحت فیروز الدین فیروز نے بتایا کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ستانوے مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں، جن میں دس کے نتائج مثبت آئے۔ یوں جنگ سے تباہ حال اس ملک میں اس عالمی وبا میں مبتلا ہونے والے کل افراد کی تعداد چوتیس ہو گئی ہے۔ فیروز نے خبردار کیا ہے کہ کووڈ انیس کی وجہ سے دارالحکومت کابل کی چھ ملین آبادی کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوريائی رہنما کم جونگ ان کو ايک خط ارسال کيا ہے، جس ميں ٹرمپ نے اچھے تعلقات استوار کرنے اور کورونا وائرس کی عالمی وبا سے نمٹنے کے ليے تعاون کی پيشکش کی ہے۔ کم جو نگ ان کی بہن نے اتوار کے دن اس خط کے بارے ميں میڈیا کو بتايا۔ ان کے بقول کم نے بھی اس مشکل وقت ميں امريکی صدر کے اس اقدام کو سراہا ہے۔ وائٹ ہاوس کی جانب سے اس بارے ميں فی الحال کوئی وضاحت سامنے نہيں آئی ہے۔ پيونگ يانگ کا دعویٰ ہے کہ اب تک ملک ميں نئے کورونا وائرس کا کوئی کيس سامنے نہيں آيا۔ يہ امر بھی اہم ہے کہ گزشتہ روز شمالی کوريا نے بيلسٹک ميزائل کا ايک تازہ تجربہ کيا تھا۔
جاپانی وزارت خارجہ نے عوام سے کہا ہے کہ وہ امریکا سفر کرنے سے اجتناب کریں۔ انہوں نے کہا کہ ‘نئے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے لوگ امریکا کا غیر ضروری اور غیر ہنگامی سفر نہ کریں‘۔ ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس عالمی وبا کے تناظر میں سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکا کی متعدد ریاستوں نے بھی ملکی سفر نہ کرنے کی ہدایات جاری کر رکھی ہیں۔