نتیش کے بہار میں شھاب الدین (  ویلن )  کی آمد

received_977961268997718
زاہد تنویر نجیب اللہ خان تیمی

      آر جے ڈی کے قد آور مسلم  سیاسی رہنما ڈاکٹر سید شھاب الدین تقریبا گیارہ سال جیل سے آزمائش و قید و بند کی زندگی گزارنے اور اپنی سزا کاٹنے کے بعد پٹنہ ہائ کورٹ سے ضمانت ملنے پر آج صبح بھاگلپور جیل سے رہا ہوئے . ان کی رہائ پر پورا بہار اور خاص کر ان کا آبائ گاؤں سیوان خوشیوں سے جھوم اٹھا.
      جیل سے رہائ کے وقت ہزاروں ہزار کی تعداد میں لوگ ان کے استقبال میں موجود تھے. ملک و علاقہ کے بڑے بڑے سیاسی رہنما اور رشتہ داروں کی بھیڑ ان کی آمد پر اپنی عقیدت و محبت  کے پھول نچھاور کرتے ہوئے ان کا پر تپاک استقبال کیا .
    اس موقع سے میڈیا والے بھی سینکڑوں کی تعداد میں وہاں موجود تھے. سبھوں نے ڈاکٹر شھاب الدین سے جیل کی رہائی اور ان سے متعلق بہار میں دہشت و خوف کے تناظر میں کئ  سوالات کیئے.
     سید شھاب الدین صاحب نے  ABP  نیوز کے نمائندہ کے کچھ سوالوں کا جواب بڑے ہی خوبصورت انداز میں دیا جو قابل غور ہے.

  ABP NEWS:
سوال :
    شھاب الدین جی آپ بتائیے آپ کو آتنک کا پرائے سمجھا جاتا ہے اس بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے ؟

     جواب :ہاں صرف اے بی پی نیوز. میں بولا جاتا ہے.آپ کہتے ہیں دوسرے لوگ نہیں بولتے.

     سوال : آپ نتیش سرکار کی حکومت میں جیل گئے تھے اور انہی کی حکومت میں واپس ہوئے اس بارے آپ کیا کہنا چاہیں گے ؟ 

     جواب : مجھے سیاسی نظریہ سے پھنسایا گیا تھا.لالو جی بھی اپنے دور میں جیل گئے تھے. جیل میں جانے اور آنے پر نتیش سرکار سے کوئ لینا دینا نہیں ہے . میں بے قصور تھا مجھے کورٹ سےضمانت ملی ہے.

     ڈاکٹر شھاب الدین صاحب نے پترکاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ میں تقریبا دس سالوں سے اپنی قوم سے دور رہا ہوں ان کے بیچ میری کوئ میٹنگ نہیں ہوئ ہے اور ناہی ان سے رابطہ رہا ہے پھر بھی  آج  لوگوں کی محبت میرے لیئے کم نہیں ہوئ ہے. اس بھیڑ کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں اگر ہماری دہشت اور آتنک کا ڈر ہوتا تو یہ لوگ یہاں جمع نہیں ہوتے. میں ہمیشہ لوگوں کا ساتھ دیا ہوں  اور انکے ساتھ رہا ہوں  ان کے دلوں میں میرے لیے  پیار اور محبت ہے ڈر اور دہشت نہیں.

     سیاسی مخالفین نے مجھے پھنسایا تھا اس لئے مجھے جیل جانا پڑا میں بے قصور تھا اس لئے کورٹ نے مجھے ضمانت دی ہے میں کبھی آتنک کا ساتھ نہیں دیا اور نا ہی آتنکی ہوں مجھے میڈیا بدنام کرتی ہے. میں جنتا کا چنا ہوا مسلم لیڈر ہوں.  قوم کا سپورٹ مجھے حاصل ہے میں جنتا کے دیئے گئے  اوٹ کی بہ دولت ہی کئ بار ایم پی اور ایم ایل اے کی سیٹ سے جیت حاصل کیا ہوں اگر میں قوم کا قصوروار ہوتا یا مجرم ہوتا میں اتنی بار کامیاب نہیں ہوتا, یہ ان کا پیار اور محبت ہماری محنت اور بے گناہی کا ثبوت ہے میں اسی طرح آگے بھی اپنے قوم کا ساتھ دوں گا اور انکا ہمیشہ میرے ساتھ ہوگا.

        ایک مسلم طاقت ور لیڈر ہونے کی وجہ سے سیاسی مخالفین ہمیں پریشان اور کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں.اور ملک کی میڈیا مجھے  بدنام کر میرے نام سے دہشت پھیلاتی ہے میں ایک قوم کا چنا ہوا لیڈر ہوں اور انہیں کے لئے کام کرتا ہوں اور انہی کے بیچ رہتا ہوں.

       ان ہی سب باتوں کے ساتھ عوام کی محبتوں کا گن گاتے ہوئے سیوان کے لوگوں کے دلوں پہ راج کرنے والے بہار کے سیاسی قائد اپنے قافلہ کے ساتھ سیوان کے لیے نکل گئے.

حق غالب ہوا اور باطل کی شکست ہوئ.

 

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *