ارطغرل غازی کے ڈائریکٹر محمد بوزداغ کا خصوصی انٹرویو

ارطغرل غازی کے ڈائریکٹر محمد بوزداغ کا خصوصی انٹرویو

بات چیت: ڈاکٹر فرقان حمید 

 ترکی کے سرکاری چینل ٹی آر ٹی پر نشر ہونے والے تاریخی ڈرامہ ڈیریلس ارطغرل نے پوری دنیا کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے۔ مختلف زبانوں میں اس کا ترجمہ ہوچکا ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک کے لوک اسے دلچسپی سے دیکھ رہے ہیں۔

ان دِنوں پاکستان کے سرکاری چینل پی ٹی وی سے یہ ڈراما ’’ نشر ہورہا ہے،جوہر طبقۂ فکر کے افراد میں نہ صرف بےحد مقبول ہے،بلکہ ہر طرف موضوعِ گفتگوبھی بنا ہوا ہے۔یہ ڈراما سلطنتِ عثمانیہ (موجودہ ترکی) کی اُس عظیم شخصیت کے بارے میں ہے، جو سلطنتِ عثمانیہ کے بانی عثمان اوّل کے والد تھے اور نام ارطغرل تھا۔ انہیں غازی ارطغرل کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ تاریخی ڈارما، ترکی میں سرکاری ٹی وی چینل ٹی آر ٹی وَن پر پیش کیے گئے ڈرامے ’’Diriliş Ertuğrul ‘‘ کا اُردو ترجمہ ہے، جس کا پہلا سیزن 2015ء میں پاکستان میں ایک نجی چینل پر پیش کیا جا چُکا ہے۔

تاہم، دوسری بار وزیرِ اعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر نئی اُردو ڈبنگ کے ساتھ اپریل 2020ء سے پی ٹی وی سے نشر کیا جارہا ہے۔ گزشتہ دِنوں ڈراما سیریل ’’ ار طغرل غازی‘‘ کے پروڈیوسر ،ڈ ائریکٹر اورڈرامانگار، مہمت بوزداع سے ڈاکٹر فرقان حمید نے خصوصی بات چیت کی ہے۔ یہ انٹرویو ڈاکٹر فرقان حمید نے ملت ٹائمز کو بھی شایع کرنے کیلئے بھیجا ہے۔ جسے یہاں قاریین کی دلچسپی کے پیش نظر شایع کیا جارہا ہے

س: ویسے تو اب آپ کےنام اور کام سے ایک دُنیا واقف ہے، لیکن ہماری معلومات کے لیے اپنےخاندان، جائے پیدایش، ابتدائی تعلیم و تربیت کے متعلق کچھ بتائیں؟

ج:میرا تعلق ترکی کے ایک علاقے قیصری سے ہے،جہاں میرا پورابچپن گزرا ۔میرے دادا حافظِ قرآن اور ایک مسجد کے پیش امام تھے،جب کہ چچا نے بھی دینی علوم کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ نیز، والدہ بھی خاصی مذہبی خاتون ہیں۔جب کہ تعلیم مَیں نے اسکاریہ یونی ورسٹی، ترکی(Sakarya University)سے حاصل کی ۔مَیں نےشعبۂ تاریخ میں گریجویشن کیا ہے۔

س:تاریخ پڑھنے کے بعد ڈراموں اور دستاویزی فلموں کے اسکرپٹ لکھنے کی جانب کیسے رجحان ہوا؟

ج: اصل میں مجھے کم عُمری ہی سے لکھنےلکھانے کا شوق تھا۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ لکھتا رہتا تھا۔ اور پھر ایک رات مَیں نے صوفی بزرگ، مفکّر و محقّق ابن العربی کو خواب میں دیکھا اور بس اُس خواب کے بعد میری زندگی کا رُخ ہی بدل گیا۔ مَیں باقاعدہ طور پر لکھنے لگا۔ بعد ازاں ،ایک دوست کے ساتھ مل کر ایک کمپنی قائم کی، جس کے پلیٹ فارم سے دستاویزی فلمیں تیار کرنا شروع کیں اور یوں اس فیلڈ میں آگے بڑھتا چلا گیا۔

س: دُنیا بَھر، خصوصاً پاکستان میں یہ ڈراما بہت دِل چسپی سےدیکھا جارہا ہے، تو کیا یہ پاکستان کو ذہن میں رکھ کر ہی لکھا تھا؟

ج:سچّی بات تو یہ ہے کہ جب ہم نےیہ ڈراما سیریل بنانے کا ارادہ کیا، تو سب کا یہی خیال تھا کہ اِسےضرور پسند کیا جائے گا،لیکن جب نشر ہوا، تو کوئی خاص ریسپانس سامنے نہیں آیا، مگر مجھے یقین تھا کہ اگر ہم ڈرامے کی کہانی صحیح طریقے سے سمجھانے اور پیش کرنے میں کام یاب ہوگئے، تواسے مُلکی ہی نہیں،بین الاقوامی سطح پر بھی پسندکیا جائے گا، لیکن اس قدر مختصر مدّت میں یہ اس قدرمقبول ہوجائے گا، یہ سوچا بھی نہیں تھا۔ خاص طور پر پاکستان میں اس ڈرامے کی شہرت و مقبولیت تو ہمارے لیے بہت حیران کُن ہے۔

س: اس وقت رجب طیّب اردوان برسرِاقتدار نہ ہوتے، توکیا آپ کے لیے یہ تاریخی ڈراما تیار کرنا ممکن تھا؟

ج: اگر رجب طیّب اردوان برسرِ اقتدار نہ ہوتے، تو میرے خیال میں اس طرح کے ڈرامے کا نشر ہونا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوتا۔ بلاشبہ انہوں نے ہمیں بہت سپورٹ کیا ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اُمّتِ مسلمہ کو اس کے عظیم ماضی سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ کس طرح اُس دَور کے مسلمانوں نے مشکلات برداشت کیں،اسلام کا بول بالا کیا اورسخت جدوجہد کی بدولت انہیں کیسی عظمت حاصل ہوئی، مگر افسوس اب بھی چہ مگوئیاں کی جاتی ہیں کہ صدر اردوان اکثر و بیش تر اس ڈراما سیریل کی تیاری، پروڈکشن وغیرہ میں دخل اندازی کرتے تھے اور اس میں تبدیلیاں، ترامیم بھی کرواتے تھے۔مگر ایسا ہرگز نہیں ہے۔ انہوں نے کبھی ہمارے کام میں دخل اندازی کی، نہ ہی کسی قسم کی تبدیلی کے لیے مجبور کیا، البتہ ہماری راہ میں حائل ہونےوالی تمام رکاوٹیں دُور کرنے کی کوشش میں ہمارابَھرپور ساتھ دیا۔

س: اس ڈراما سیریل کے لیے قرآنی آیات اور احادیث کا انتخاب کیسے کیا، اس حوالے سے کوئی تحقیق کی یا پھر جیسے جیسے ڈراما آگے بڑھتا گیا، آپ اُسی مناسبت سے آیات اور احادیث کا انتخاب کرتے گئے؟

ج: مجھے بچپن ہی سے دینی علوم سے شغف ہے۔ چار پانچ سال کی عُمر میں اپنے دادا کے ساتھ مسجد جاتا تھا،جہاں انہیں انہماک سے قرآنِ پاک پڑھتا دیکھتا، ان کی قرأت سُنتا۔ رفتہ رفتہ قرآنی آیات میری روح کی آب یاری کرتی میرے دِل میں اُترتی چلی گئیں۔ بچپن، جوانی میں بھی مَیں نے کبھی قرانِ پاک کی قرأت نہیں چھوڑی۔ آج بھی ہمہ وقت قرآنی آیات دہراتا رہتا ہوں۔ یہ ڈراما ایسے ہی نہیں بن گیا، میرے ذہن میں جو خیالات تھے،جس سوچ نے جگہ پائی تھی،اسے مَیں نے بہت سوچ سمجھ کرکورے کاغذ پر منتقل کیا۔ اس ڈرامے میں آپ کو جو کچھ نظر آتا ہے، وہ درحقیقت میری اندر کی دُنیا ہے۔چوں کہ مجھےاس موضوع پر مکمل گرفت حاصل تھی،تو آیات اور احادیث کے انتخاب کا کام مشکل نہیں لگا۔

س: اس ڈرامے کی پیش کش سے تجارتی مقاصد سے زیادہ ثقافت اور دینِ اسلام کو فروغ دینے کی سوچ اُبھر کر سامنے آئی ہے، کیا ایسا ہی ہے؟

ج: نہیں،تجارتی مقاصد بھی ضروری ہیں کہ بہرحال ثقافتی خدمات سَرانجام دینےکے لیے بھی پیسا کمانے کی ضرورت پڑتی ہے۔جیسا کہ ہالی وڈ ایک طرف اپنی ثقافت و تہذیب کو دُنیا بَھر میں فروغ دیتا ہے، تو دوسری طرف اِسی کام سے کمائی بھی حاصل کررہا ہے۔ دراصل ہم نے بڑا رسک لیا تھا۔ وہ اس طرح کہ ٹی آر ٹی وَن کے ساتھ ہم نے ایک معاہدہ کیا ،جس کی رُو سے انہوں نےکچھ عرصے بعد ہمیں رقم ادا کرنی تھی، لیکن تیاری کے دورا ن ہی ہمیں پیسوں کی اشد ضرورت پڑی تو قرضہ لینا پڑا گیا۔اور پھر ایسے ہی مشکل حالات میں ہم نے ڈراماقبل از وقت نشر کردیا۔

س: ایک سیزن کی ریکارڈنگ کتنے عرصے میں مکمل ہوئی اور کیمرے کے پیچھے کیا کچھ ہوتا رہا ہے، اس سے متعلق بھی کچھ بتائیں؟

ج: دیکھیں، کیمرے کے پیچھے کیا کچھ ہوتا رہا، اس حوالے سے کسی کو بھی کچھ بتانےکی اجازت نہیں ، کیوں کہ ہمارا مقصد اس ڈرامے کےاصل مقصد و روح کا خیال رکھنا اور کسی طرح بھی اس پر آنچ نہ آنے دینا ہے۔ اور دیکھا جائے تواس کی کام یابی کی وجہ بھی اسی اصول پر سختی سے عمل درآمدہے۔ اس پراجیکٹ کی تیاری میں تقریباً ایک سال کا عرصہ لگا۔ چوں کہ اس سے قبل کبھی ڈراموں میں جنگی مناظر، شمشیر زنی، گھڑ سواری اور نیزےبازی وغیرہ کےسین شوٹ نہیں کیےگئے تھےاور نہ ہی کبھی اس طرح کی کوئی تاریخی شوٹنگ ہوئی تھی،تو یہ سب اتنا آسان نہیں تھا۔ مَیں نے ڈرامے کی کہانی لکھنے کے بعد منگولیا سےخصوصی طور پر ایک مصوّر مدعو کیا، جس نے اسے تصویری شکل دی۔ بطور ڈائریکٹر میرا ساتھ دینے والے متین صاحب سے اس سلسلے میں طویل بات چیت ہوئی،جس کے بعد ٹیم کے ساتھ مل کر پراجیکٹ کو حتمی شکل دی گئی۔ اگلے مرحلے میںقازقستان سے خاص طور پر گھوڑے منگوائے گئے، جن کی تربیت کے لیے ایک فارم قائم کیا۔پھر منتخب اداکاروں کو اُس دَور کے جنگجوؤں کی زندگی، رہن سہن اور بودوباش سے آگاہ کرنے کے لیے کیمپ قائم کیا، جس میں انہیں باقاعدہ تربیت دی جاتی تھی۔ اس دوران ایک المیہ یہ ہوا کہ ہماری ٹیم نے تقریباً نو ماہ کی سخت محنت کے بعد ایک خیمہ بستی قائم کی کہ شوٹنگ کا آغاز ہوسکے، لیکن افسوس ایک طوفانی بگولے نے پوری بستی تباہ کر ڈالی۔ بہرحال، ہم نے ہمّت ہارنے کی بجائے نہایت مختصرعرصے میں نئے سرے سے خیمہ بستی قائم کی اور پوری محنت و لگن سے کام کا آغاز کردیا۔

س: ترکی کے موجودہ اور ڈرامے میں پیش کیے جانے والے دَور میں زمین آسمان کا فرق ہے، تو کیا آپ نے نئی نسل کو اسلامی تاریخ اور دینِ اسلام سے روشناس کروانے کے لیے یہ ڈراما تیار کیا اور مقصد میں کچھ کام یاب بھی رہے یا …؟

ج: تیرہویں صدی میں عالمِ اسلام کو جن مشکلات اور کٹھن حالات کا سامنا رہا، موجودہ دَور میں بھی کم و بیش اُسی طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم اپنی عظمتِ رفتہ کی یادوں میں کھوئے ہوئے لوگ ہیں اور اُس عظیم ماضی کو موجودہ دَور میں حقیقت کا روپ دینے کے بھی خواہاں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پراجیکٹ تیار کرتے ہوئے اس بات پر خاص توجّہ دی گئی کہ نوجون نسل بھی آگاہ رہے کہ ہمارے آبا و اجداد نے کس طرح انتہائی مشکل حالات پر قابو پاکر دُنیا کی عظیم ترین سلطنت قائم کی، اس دَور کے لوگ کس ذہن کے مالک تھے ، کیا سوچ رکھتے تھے ، کس طرح اللہ کے حضورگڑگڑا کر دُعا مانگتے تھے ،انہیں کیسے اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوئی ، اپنے پیروں پر کھڑارہنے کے لیے قران کریم کی آیات کا کس طرح سہارا لیا، برگزیدہ ہستیوں نے کس طرح مسلمانوں کی رہنمائی کی وغیرہ وغیرہ۔ اور جہاں تک مقصد میں کام یابی کی بات ہے، تو اس ڈرامے کی حدرجہ مقبولیت ہمارے مقصد کی کام یابی ہی ہے۔

س: بعض افراد معترض ہیں کہ ڈرامے کے چوتھے سیزن میں ماہِ رمضان، عیدین اور دیگر اسلامی تہواروں سے متعلق کچھ نہیں، تو اس کی کوئی خاص وجہ ہے؟

ج:  یہ ڈراما پانچ سیزنز پر مشتمل ہے۔ چوتھے سیزن کی جب شوٹنگ کی جارہی تھی تو اس دوران ماہِ رمضان یا عیدین وغیرہ کے تہوار نہیں آئے، مگر ہم نے حالات کے مطابق نماز کے مناظر ضرور پیش کیے۔ تاہم، اب’’ قریلش عثمان‘‘ ڈراما سیریل میں ماہِ رمضان کے مناظر بھی پیش کیے جا رہےہیں اور افطار کا اہتمام بھی دکھایا گیا ہے۔

س: آپ کی نظر میں اس ڈرامے کو کام یاب بنانے میں کس اداکارنے اہم کردار ادا کیا ہے؟

ج: تمام اداکاروں نے اچھے کردار ادا کیے اورسب ہی نے اپنی صلاحیتوں کا کھل کر اظہار کیا۔جیسے ارتغرل، حلیمہ، ابن العربی، سیلمان شاہ، حائمہ انا، سیلجان اوربامسی وغیرہ۔ اگر ان میں سے ایک کریکٹر کو شہرت ملتی اور باقیوں کو نہیں ملتی تو ناظرین بھی لگاتار دو دوگھنٹے اسکرین کے سامنے اپنی سانس روکےنہ بیٹھے رہتے۔ ویسے مَیں سمجھتا ہوں کہ اس ڈرامے کی کام یابی کی سب سے بڑی وجہ ارطغرل کی جانب سے اپنے ساتھیوں کو یک جہتی اور اتحاد کا درس دینا ہے۔

س: ڈرامے کے بیک گراؤنڈ میوزک نے سب ہی کے دِلوں کے تار چُھولیے، تو اس موسیقی کے انتخاب کے بارے میں بھی کچھ بتائیں؟

ج: ہم نےچار پانچ موسیقاروں کے ساتھ کام کیا، لیکن جس قسم کی موسیقی درکار تھی، سماعت اسے سُننے سےمحروم رہی۔ جب ڈراما سیریز اپنے آخری مرحلے میں پہنچی اور پیک اپ میں صرف تین چار ہفتے باقی رہ گئے، تو مجھے کسی نے معروف موسیقارآلپائے سے رابطے کا مشورہ دیا اور پھر واقعی آلپائے نے کمال کردیا۔ باقی تمام موسیقاروں سے ہٹ کر نئی طرز کی ایک ایسی موسیقی ترتیب دی کہ جس نے سب پر سحر طاری کردیا ۔افسوس کہ اب وہ ہمارے درمیان نہیں رہے۔برین ہیمرج نے ان کی جان لےلی۔

س: کرداروںکا انتخاب کرتے ہوئے کن کن باتوں پر توجّہ دی اور آپ کو سب سے زیادہ کس اداکار یا اداکارہ کے کام نے متاثر کیا؟

ج: کرداروں کے انتخاب کا سلسلہ پانچ چھے ماہ جاری رہا اور اس دوران لگ بھگ دس ہزار افراد کا آڈیشن لیا گیا۔ ہم نے تمام کرداروں کی خصوصیات کا اچھی طرح جائزہ لیا ، یہاں تک دیکھا کہ ارطغرل گھڑ سواری کیسے کرتا ہے،گھوڑے پر کیسے بیٹھتا اور اُ ترتا ہے،کیسے دوڑاتا ہے۔ دیلی دیمرکس طرح کردار ادا کرتا ہے، ترگت کیسے بھاگتا ہے،سیلمان شاہ کاجاہ و جلال کس طرح کا ہونا چاہیے۔بہرحال، ہرفن کار نے اپنے کردار سے بَھرپور انصاف کیا، جب کہ مجھے ذاتی طور پر ابن العربی کے کردار نے بہت متاثر کیا ۔

س: ڈراما سیریل میں اقتدار کے حصول کی خاطر بھائی کےقتل کو جائز دکھا یا گیا ہے، کیا یہ صحیح ہے؟

ج: دیکھیں، بات یہ ہے کہ ہم تاریخ میں ردّ و بدل نہیں کرسکتے۔ اُس دَور میں ڈیموکریسی تھی نہ انتخابات ہوتے تھےاور نہ ہی انتخابی نظام رائج تھا۔ اقتدارمیں آنے کا واحد راستہ جنگ اور طاقت کا استعمال ہی تھا،جس کے لیے ہر عمل جائز تھا۔ جو جنگ جیت لیتا، وہ اقتدار حاصل کرلیتا۔ اُس دَور میں ایسا ہی ہو رہا تھا،لہٰذا ہم نے اپنی کوئی سوچ یا نظریہ پیش نہیں کیا،جو تھا ،ویسا ہی دکھایا گیا ہے۔

س: اس سے پہلے کس طرح کے پراجیکٹس پر کام کرچُکے ہیں؟

ج:اس سے قبل سلطنت ِعثمانیہ کے قیام سے متعلق کئی دستاویزی فلموں پر کام کرچُکا ہوں ۔ چھبیس سال کی عُمر میں مَیں نے اپنی فرم قائم کرلی تھی،جس میں تین سال تک مختلف موضوعات پر ڈاکیومنٹریز تیار کرتا رہا۔ جس کے بعد میں نے ایک فلم یونس ایمرے(Younas Emry) بنائی، البتہ جب مَیں نے یہ پراجیکٹ تیار کیا ،تو اُس وقت میری عُمر 29 برس تھی ۔

س: شوٹنگ کے دوران کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ؟

ج: اَن گنت مشکلات کا سامنا کیا۔کئی بار تو ایسا لگا کہ شاید ہم یہ ڈراما کبھی تیار ہی نہیں کرپائیں گے ۔جیسے طوفانی بگولے کے بعد خیمہ بستی میں آگ لگ جانے سےتمام کاسٹیومز جل گئے۔ اِسی طرح ’’قریلش عثمان‘‘ ڈراما سیریز کی شوٹنگ کے موقعےپر کورونا وائرس نے تباہی مچادی ہے۔اس کے باوجودہم اپنا کام کررہےہیں کہ اتنی مشکلات برداشت کرکے اب ان پر قابو پانے کا فن سیکھ چُکے ہیں۔

س: ارطغرل غازی کے کس سین نے سب سے زیادہ متاثر کیا؟

ج: چوں کہ مَیں نے خود اسےڈرامائی شکل دی ہے، تو مجھے تو اس کے سارے ہی سین پسند ہیں۔

س: ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران کوئی دِل چسپ واقعہ پیش آیا؟

ج: جی بالکل، جب ہم ریہرسل کررہے تھے،تو فن کاروں کو تاریخی کتابیں پڑھنے کے لیے دیں، تاکہ وہ اُس دَور سے متعلق جان سکیں۔ ہم نے سب ادا کاروں کے لیے مشترکہ کیمپ میں رہنے کا انتظام کیا تھا،جہاں انہیں اُس دور کے مطابق کھانا پینا، چلنا پھرنا، اُٹھنا، بیٹھنا اور بولنا سکھایا جاتا تھا،تو اس دوران متعدّد بار کئی دِل چسپ واقعات پیش آئے۔

س: اس ڈرامے کی ٹیم بشمول اداکاروں کے ساتھ ایک طویل وقت گزارا، تو اس حوالے سے بھی کچھ بتائیں؟

ج: ڈرامے کی ٹیم اور کاسٹ نے لگ بھگ پانچ سال کا عرصہ اکٹھے گزارا، بلکہ ایک سال کی ٹریننگ کا دورانیہ بھی شامل کرلیا جائے تو یہ چھے سال بن جاتے ہیں۔ اس دوران ہم نے دِن رات کام کیا اور ہم سب کی آپس میں بہت اچھی دوستی بھی ہوگئی،جو بعد ازاں صرف سیٹ تک محدود نہیں رہی، اب تک قائم ہے۔

س: اس دوران اپنی فیملی سے دُور رہے یا پھرانہیں بھی اپنے پاس بلوالیا؟

ج: اصل میں میری اہلیہ ریاضی دان ہیں اور اپنے کام میں ماہر بھی ہیں، تو انہوں نے اس ڈرامے میں بطورسینیریو اسسٹنٹ کام کیا۔اِسی دوران اللہ تعالیٰ نے ہمیں بیٹے کی نعمت سےبھی نوازا۔تو سمجھیں، ہمارے بیٹے نےسلطنتِ عثمانیہ کے دَور کے سیٹ پر آنکھ کھولی، کھیلا کودا اوراپنی شراتوں سے سب کو محظوظ بھی کیا۔

س: سُنا ہے کہ آپ کوپاکستان سے بے حدمحبّت ہے؟

ج: میرے خیال میں شاید ہی کوئی ترک ہو، جسے پاکستان سے محبّت نہ ہو کہ پاکستان ہمارے دِلوں میں بساہواہے۔ پاکستانی بہت ملن سار، مہمان نواز، نیک دِل، مہذّب اور محنتی لوگ ہیں۔ جس طرح ہم سب کے دِل پاکستان کے لیے دھڑکتے ہیں، بالکل اِسی طرح پاکستاینوں کے دِل بھی ترکوں کے لیے دھڑکتے ہیں کہ یہ اخوّت اور بھائی چارے کا رشتہ ہے۔البتہ ان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے فنونِ لطیفہ کی جانب خاص توجّہ دینے کی ضرورت ہے۔

س: یہ ڈراما پاکستان میں اس حد تک پسندکیا گیا کہ اب تک ایک سو ملین شائقین اسے دیکھ چُکے ہیں،نئےنئے ریکارڈ بن رہےہیں، اس حوالے سے کیا کہیں گے؟

ج:  الحمدللہ، ڈرامے کو ترکی میں بھی خاصی مقبولیت حاصل ہوئی۔ ریٹنگ کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے، لیکن چوں کہ پاکستان کی آبادی ترکی سے کہیں زیادہ ہے، تو آبادی کے تناسب کے اعتبار سے پاکستان میں ویورشپ خاصی بڑھ گئی۔ہاں البتہ یہ انداز نہیں تھا کہ پاکستان میں یہ ڈراما اس قدر مقبولیت حاصل کرے گا۔ یہ بات میرے لیے زیادہ حیران کُن ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پاکستانی عوام روایتی ڈراموں سے ہٹ کر اس طرح کے تاریخی ڈرامے بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔

س: پاکستان آنے کا کب تک ارادہ ہے اور پاکستانی مداحوں کے لیے کیا کہناچاہیں گے؟

ج:حکومتِ پاکستان کی جانب سے پاکستان کے دورے کی دعوت موصول ہو چُکی ہے۔جیسے ہی حالات بہتر ہوں گے، ہم پاکستان آئیں گے،پھروزیرِ اعظم عمران خان سے بھی ملاقات ہوگی اور وہاں کے مختلف مقامات بھی دیکھیں گے۔بہرکیف، اب وقت آگیا ہے کہ دونوں مُمالک مل جُل کر کام کریں اور کچھ مشترکہ شاہ کار بھی تخلیق کریں۔ جب کہ پاکستانی مداحوں کے لیے بس یہی کہوں گا۔ دِل دِل پاکستان، جان جان پاکستان، مَیں تم پر قربان پاکستان۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *