جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

پروفیسر اختر الواسع

گزشتہ ہفتہ ہندوستان میں مختلف واقعات و حادثات کا حامل رہا ۔ ایک طرف چین نے سرکشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمارے بیس بہادر جوانوں کو ایک افسر سمیت شہید کر دیا ۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ نہرو کی چوان لائی کی پذیرائی ہو یا موجودہ چینی صدر کی ہمارے موجودہ وزیرِ اعظم کی گرم جوش ضیافت چین نے اس کے بعد ہمیں ہمیشہ دکھ اور دھوکہ ہی دیا ہے۔ جب کہ ہندوستان چینی اشیاء کا بہت بڑا خریدار ہے ۔ تجارتی میدان میں ہندوستان چین کا بڑا حلیف ہے۔ دوسری طرف نیپال بھی گمانِ غالب یہ ہے کہ چین کی شہ پر ہی ہندوستان کی سر زمین پر غاصبانہ رویہ اپنا رہا ہے ۔

کرونا وائرس کو شکست دینے کی ہر ممکن کوششیں اگر ایک طرف جاری ہیں تو دوسری طرف کرونا سے مثبت کیسوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرکز اور ریاستی سرکاریں اپنے سے ہر ممکنہ کوششوں میں لگی ہوئی ہیں کہ اس وبا کی قہر سامانی کو کسی طرح قابو میں کیا جائے ۔ معاملہ صرف بیماری سے لڑائی کا ہوتا تو الگ بات تھی لیکن اس بیماری کے نتیجہ میں ستم بالائے ستم بھوک اور بے روزگاری فردِ واحد سے لے کر ہندوستانی قوم کو اجتماعی طور پر ایسی آزمائش میں ڈالے ہوئے ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کیا جائے ۔ اسی بیچ ایک اچھی خبر بھی آئی ہے جو ہندوستان کے حوالے سے نیو یارک سے موصول ہوئی ہے اور وہ یہ کہ غیر مستقل مندوب کی حیثیت سے آٹھویں بار ہندوستان کو مجلسِ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا اتفاقِ رائے سے ممبر منتخب کر لیا گیا ۔ یہاں یہ بات خاص طور سے اہم ہے کہ ہندوستان کے دو حریف پڑوسی چین اور پاکستان بھی اس اتفاقِ رائے کا حصہ تھے۔

جہاں تک چین کا سوال ہے ہم جنگ کے سخت خلاف ہوتے ہوئے بھی یہ کبھی نہیں چاہیں گے کہ ہمارے ملک کی سا لمیت اور خود مختاری پر ذرا بھی آنچ آئے ۔ ہماری امن پسندی کو ہماری کمزوری سمجھ لیا جائے۔ ہم ۱۹۶۲؁ء کی طرح ہندوستان کو چین کے ہاتھوں دوبارہ اعتماد شکنی کا شکا ر نہیں ہونے دیں گے ۔ہماری اب بھی یہی خواہش ہے کہ جنگ نہ ہو بات چیت سے باہمی خیر سگالی سے مسئلے حل ہو جائیں ۔ چین کو یہ خوب سمجھنا چاہئے کہ ہندوستان سے جنگ اس کے لئے بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔ امریکہ تو اس کے خلاف ہے ہی ، روس بھی اس خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور عزائم کی حمایت میں آگے نہیں آئے گا ۔ جنگ کے نتیجے میں دفاعی اخراجات اور تجارتی خسارہ اسے کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔

اسی طرح نیپال کو بھی یہ بخوبی سمجھنا چاہئے کہ اس ہمالیائی ریاست کو مضبوط ا ورمستحکم بنانے میں ہندوستان نے کبھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ نیپال کی معیشت ہو یا معاشرت اس کے استحکام میں ہندوستان نے ہمیشہ ایک ہمدردانہ رول ہی انجام دیا ہے۔امید کی جانی چاہئے کہ نیپال کی سیاسی قیادتیں زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ہندوستان کے خلاف ہر طرح کی اشتعال انگیزی سے پرہیز کریں گے ۔ انہیں یہ یاد رہنا چاہئے کہ ہندوستان کسی کی ایک انچ زمین نہ لینا چاہتا ہے اور اسی طرح اپنے ملک کی زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا کسی کو دینے کے لئے تیارنہیں ہے۔

ان تمام مسائل اور آزمائشوں سے دو چار ہندوستان کی حکومت خاص طور سے کچھ ریاستی حکومتوں کو کوئی کام ایسا نہیں کرنا چاہئے جس سے کہ ہمارے قومی اتحاد میں رخنہ پڑے ۔مسلمانوں کے خلاف بعض میڈیا سے جڑے افراد کی دریدہ ذہنی ناروا حد تک آگے بڑھ چکی ہے ۔ابھی تک اسلام اور مسلمانوں کی گھیرا بندی ہوتی تھی لیکن اب یہ رویہ اس شرم ناک حد تک آگے بڑھ گیا ہے کہ ہندوستان کو عطائے رسول ، خواجۂ خواجگان غریب نواز حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی سرِعام ببانگِ دہل توہین کی جاتی ہے اور افسوس یہ ہے کہ اس چینل کے مالکان نے اس کالم کے تحریر ہونے تک اس اینکر کو برخاست بھی نہیں کیا ہے۔ یہ وہ خواجہ اجمیریؒ ہیں جن کے دربار میں مسلمان حکمراں ہی نہیں ہندو راجاؤں ، رہنماؤں اور ہر مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت حاضری دیتی ہے اور انہیں گلہائے عقیدت پیش کرتی ہے ۔ مسلمانوں میں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ نوبت یہاں تک اس لئے پہونچی ہے کہ سرکار نے اس سے پہلے ان تمام لوگوں کے خلاف کاروائی نہیں کی یا نہیں ہونے دی جو سرکار میں رہتے ہوئے بر سرِ اقتدار جماعت سے وابستہ ہیں ۔ انوراگ ٹھاکر، کپل مشرا، پرویش ورما جیسے لوگو ں کو ملی چھوٹ، آزادی اور حکومتی تحفظ اس کی جیتی جاگتی مثالیں ہیں ۔ جب کہ بڑی تعداد میں صفورا زرگر جیسے مسلمانوں اور مسلمان ہی کیوں ہرش مندر ، ونود دوا اور ان جیسے سیکولر جمہوریت پر یقین رکھنے والے، آئینی حقوق کی لڑائی لڑنے والے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے وہ کسی بھی طرح اور کسی کے لئے بھی قابلِ قبول نہیں ہوسکتا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا سید محمود مدنی اس صورتِ حال کو بدلنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں انہوں نے انڈینس فار انڈیا کے نام سے ایک تنظیم بھی بنائی ہے انہوں نے ایک ملاقات میں یہ کہا کہ ہم کسی کی بے جا طرف داری نہیں کرنا چاہتے لیکن حق و انصاف کی پاسداری ضرور چاہتے ہیں ۔ ہم کسی غلط کار شخص کے لئے کوئی رعایت نہیں چاہتے لیکن ساتھ ہی کسی معصوم اور بے قصور شخص کے خلاف پولیس کے ظالمانہ کاروائی کے بھی خلاف ہیں ۔ مثال کے طور پر تبلیغی جماعت کے خلاف جو الزام تراشیاں ہوئیں ان کی آڑ میں مسلمانوں کو جس طرح سب و شتم کا نشانہ بنایا گیا وہ انتہائی افسوس ناک ہے ۔ تقریباً گزشتہ نو دہائیوں سے زیادہ عرصہ سے تبلیغی جماعت والے اپنے خرچ پر اپنے گھر سے نکل کر جماعتوں میں جاتے ہیں اور دین کی بنیادی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ سیاست پر گفتگو ان کے یہاں حرام ہے ۔ وہ غیر مسلموں سے رابطہ نہیں رکھتے ہیں وہ صرف مسلمانوں کی دینی تعلیم و تربیت سے سرو کار رکھتے ہیں ۔ آج وہ قانون جو بیرونِ ملک سے آنے والے تبلیغی جماعت کے لوگوں کے خلاف استعمال ہوا ہے اس میں بلا شبہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے زمانے میں اس لئے ترمیم کی گئی تھی کہ باہر سے لوگ آکر تبدیلیِ مذہب کی سرگرمیوں میں ملوث نہ ہو سکیں ۔ بقول مولانا محمود مدنی دنیا بھر میں تبلیغی جماعت سے جڑا کوئی ایک واقعہ نہیں بتا سکتے جہاں انہوں نے اپنی دینی سرگرمیوں کو تبدیلیٔ مذہب کے لئے استعمال کیا ہو ۔اس لئے ان پر اس قانون کا اطلاق ہی نہیں ہوتا ہے۔ ہندوستان کو تو اس پر فخر ہونا چاہئے کہ تبلیغی جماعت کا قیام ہمارے ملک میں ہوا ۔ اس کا ہیڈ کوارٹر بھی یہیں ہے اوروہ تمام لوگ جو دنیا جہان اور بالخصوص ہندوستان کے گوشے گوشے سے اس میں شریک ہوتے ہیں وہ دنیا میں ہندوستان کی مذہبی آزادی کے سفیر اوراس کے جیتے جاگتے نمونے بن جاتے ہیں ۔ ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ ہم اپنی خوبیوں پر خاک ڈالنا پسند کرتے ہیں۔ہر وہ چیز جو ہندوستان کی قدر و منزلت کا باعث اور اس کی عزت افزائی کا سبب ہے ہم نہ جانے کیوں ان کے خلاف ہیں اور ان کو مٹانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ ۱۹۱۹؁ء میں جمعیۃ علماء کا قیام یا ۱۹۲۵؁ء میں تبلیغی جماعت کی تاسیس اس سے پہلے ۱۸۶۶؁ء میں دارالعلوم دیوبند کا قیام۱۸۷۵؁ء میں علی گڑھ میں جدید تعلیم کے فروغ کے لئے سر سید کے ذریعہ ایم اے او کالج کا قیام شاید ہمیں اب یہ بھی یاد نہیں کہ عالمِ اسلام میں جدید تعلیم کی جوت سب سے پہلے علی گڑھ میں ہی روشن کی گئی تھی جس کی کوکھ سے ۲۹ اکتوبر ۱۹۲۰؁ء کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کا جنم ہوا اور دسمبر ۱۹۲۰؁ء کو ہی ایم اے او کالج کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا درجہ عطا ہوا ۔ آج جب یہ دونوں ادارے اپنے علمی سفر کے سو سال پورے کرنے جارہے ہیں ہمیں انہیں ہندوستان کی سیکولر روایات کے عملی نمونوں کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہئے نہ کہ ان کے وابستگان کو دار و رسن کے حوالے کرنا چاہئے ۔

(مصنف مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور کے پریسیڈنٹ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پروفیسر ایمریٹس ہیں)

SHARE
جناب ظفر صدیقی ملت ٹائمز اردو کے ایڈیٹر اور ملت ٹائمز گروپ کے بانی رکن ہیں